آرتوروآلابارسے

آرتوروآلابارسے

بھیڑیا 13

    ترجمہ : رحیم

    سورج  افق کے نیچے ڈھلکتے ہوئے، کنارِ صحرا کے ساتھ ساتھ بنفشی روشنی کی لکیر کھینچ رہا تھا۔ آندھیو ں کے جھکڑوں سے میدان میں مٹی کے بگولے اڑ رہے تھے۔زہرہ اپنے تاریک گوشۂ فلک میں بیٹھی چمک دمک رہی تھی اور جو آن دی ہردرچرواہے نے تھکے ہوئے گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھے بیٹھے اپنے چھتارے کی کھنچی ہوئی تاروں پر ایک حزن آمیز سر چھیڑ دیا۔ گھوڑا تھکاوٹ سے بدقت قدم اٹھاتا چلا جا رہا تھا۔ اس کا سارا جسم کاٹھی کے اگلے حصے پر جھکا تھا۔ ٹوپی گردن کی پچھلی طرف پڑی تھی۔ آنکھیں گھوڑے کی گرد آلود ایال پر جمی تھیں اور وہ دردناک میدانی گیت گا رہا تھا۔ اکثر اوقات گانے کے وقفوں کے دوران وہ تنہا خود کلامی میں مصروف ہو جاتا۔ پورے تیرہ گھنٹے گھوڑے پر بیٹھے ہوئے آسیب نما ریوڑ کے نشانوں پر چلتے جانا۔ پورے تیرہ گھنٹے بیابان میں سورج کے ساتھ ساتھ سوار رہنا۔ پورے تیرہ گھنٹے پسینے میں شرابور ، خاک سے مٹی مٹی اور چمڑے سے پیوست ہونا۔ پورے تیرہ گھنٹے اس بیکراں ویرانے میں مارے مارے پھرتے رہنے سے اس انسان کا زندگی سے تعلق کھو گیا تھا۔ اس کی روح سوکھی چھالیا کی طرح خشک ہو رہی تھی اور اس کی جلد ہی نہیں، دل بھی پتھر بن رہا تھا۔

    جہاں تک نظر کام کرتی تھی زمین و آسمان کے سوا اور کوئی شے موجود نہ تھی اور یہ دونوں افق پر غروبِ آفتاب کی خونیں رنگ لکیر کے ساتھ مل جاتے تھے۔ اس وقت صحرا کے پھر اس گرمی کو فضا میں لوٹا دیتے تھے جو وہ دن بھر جذب کرتے رہتے تھے۔ خاکستری رنگ ناگ پھنی کے سائے لا محدودیت تک طویل ہو جاتے تھے اور ’ہر در جوآن ‘ ان ٹمٹماتے فاصلوں میں گھوڑے پر سوار، ہولے ہولے داخل ہوتے ہوئے اپنے گیت سے یوں متصل تھا ، جیسے کوئی محبوب سے متصل ہو۔ آندھیوں کے شور نے موت اور رات کی آمد آمد کا اعلان کرنا شروع کر دیا تھا۔ تو ہم اور خوف چپکے چپکے اس کی رگ و پے میں سرایت کر گئے تھے لیکن’ ہردرجوآن‘ کا دل مصروف تھا۔ وہ ایک مقصد کے ماتحت آہستہ آہستہ ایک خاص مقام کی طرف رخ کیے ہوئے جا رہا تھا۔ ہوہا میں ایک بو آر ہی تھی جس کی رہنمائی میں اس نے ناک چڑھا کر ہوا کو سونگھا تو اس میں مردار گوشت کی بو تھی۔

    آسمان پر تاریکی چھا گئی، بہت دور کہکشاں چمک رہی تھی اور یوں معلوم ہوتا تھا گویا فضائے بسیط میں کہکشاں نہیں شبنم چمک رہی ہے۔ تھوڑے عرصے کے بعد وہ تاروں کے جنگلے کے سامنے کھڑا تھا، جو غیر مرئی حدود تک پھیلا ہوا تھا ...... صحرا میں ایک گرد آلود لوہے کی سرحد۔ وہ گھوڑے کو اس تک لے جاتے ہوئے چند گز ادھر ہی کھڑا ہو گیا، اس نے گیت ختم کر دیا اور جامد و ساکت بیٹھ گیا۔ وہ لوہے کی خاردار تار کو تک رہا تھا۔ گھوڑے کی لگام ڈھیلی تھی۔ اس نے سخت زمین پر ٹاپ مارنے شروع کر دیے اور گھڑ سوار سڑن سے بھری ہوئی دم گھٹنے والی ہوا میں محصور تھا۔بھیڑیوں کی گنتی کرکے مسکرا دیا۔ بارہ تھے۔ بارہ بھیڑیے جنگلے سے لٹک رہے تھے۔ نیچے ایک دوسرے پر پڑے ہوئے دمیں سخت، سر سینوں میں دھنسے، اس حال میں جانور دھوپ میں سڑ رہے تھے۔

    سرخی مائل بادامی رنگ کی سکڑی ہوئی تھوتھنیوں پر خشک خون کی پپڑیاں جمی ہوئی تھیں۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ ہوا میں کھیتوں کے ڈراؤنے کوے یا جھنڈے لہرا رہے ہیں۔ جب بیابان میں آندھی چلتی تھی تو ان کے سوکھے ہوئے بالوں سے کھیلتی تھی۔ بال کانپتے ، ہلتے اور مردہ جسموں میں زندگی کے یہ آثار ظالمانہ ستم ظریفی کے مترادف تھے۔ ’ہردرجوآن‘کے ہاتھ بڑے بڑے اور کھردرے تھے۔ گندے ناخن اور ٹھنٹھوں جیسی انگلیاں لیے ہوئے۔

    یہ اسی کے ہاتھ تھے جنہوں نے تیزاب کھنگالا تھا اور کھالوں اور کچے چمڑے کی تندوں کے سخت ریشے کھینچ ڈالے تھے۔ یہی تھے  وہ جو بچھڑوں کی ریشمیں کھالوں پر جلتے نشان لگاتے تھے اور جن سے نشانوں کے جلتے گوشت کی بو آتی تھی اور یہ اسی کے پھٹے ہوئے کھردرے ہاتھ تھے جو سال بسال لاتعداد جانوروں کے لیے اذیت کا سامان بنتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ اس کی ذات میں حیوانوں کا اندھا تشدد، خاموش ضدیت اور مقصد کی پرکھاروگی وحیدیت آ جمع ہوئی تھی۔ بیابان کی بے پناہ وسعتوں میں کھوئے رہنے اور تنہا مارے مارے پھرنے سے اس کی کائنات اتنی سمٹ گئی تھی کہ اس کی ٹوپی کے اندر سما سکتی تھی۔ تمباکو، شراب، خیالات اس کے علاوہ جو بھی شے تھی آسمان ، بیابان، تنہائی ...... وہ محض اک دہشتناک اور خوف انگیز استفہام تھی اور بس!

    اس روز وہ انہیں گننے کے لیے بڑی دور سے آیا تھا۔ یہ بھیڑیے، یہ رات کے آسیب، چاند پر ہوانکھ ہوانکھ کر رات کی خاموشی کی بنیادیں ہلا ڈالتے تھے۔ یہ شکاری اپنی چھوٹی چمکیلی آنکھوں سمیت ریوڑوں کی گھات میں لگے رہتے تھے۔ یہی ہر درجوآن کے قدرتی دشمن تھے اور جب وہ جال اور بندوق سے ان کا شکار کرتا تھا تو جو پکڑے جاتے تھے انہیں بڑی بربریت کے ساتھ فنا کے گھاٹ اتارتا تھا کہ دوسروں کے لیے عبرت پیدا ہو۔ اسی مقصد کے پیش نظر وہ انہیں تار کے چمکتے خاروں سے لٹکا دیتا تھا۔ تار کے ساتھ ساتھ ان کا خون سیاہ قطرے بناتا چلا جاتا تھا اور ان کے سائے شام کے ستارے کی بنفشی روشنی میں اور طویل ہو کرصحرا پر ہلاکت کی لکیریں کھینچ دیتے تھے۔ ہردرجوآن اس سفاک تار پر تیرہ بھیڑیے دیکھنے کی خاطر کبھی اپنے آپ سے باتیں شروع کر دیتا اور کبھی مسکراتا، دھمکاتا اور کوستا۔ سب سے قد آور بوڑھا بھیڑیا 13 بڑا شاطر، محتاط اور سرکش تھا اور اسے ہمیشہ جل دے کر صاف نکل جاتا تھا۔ اک چٹان کے سنگ و خاک سے ایک اور چٹان بن گئی تھی۔ وہ مسلسل راتوں کو کبھی اس چٹان پر کبھی جھاڑیوں کے کنج میں چھپ کر اور کبھی سوکھی ہوئی دریا برآمد مٹی پر کھڑے ہو کر چاند پر اوہانکا کرتا تھا اور ہر درجو آن کی آنکھیں ستاروں پر جمی ہوتیں اور اس کی آوازوں پر کان لگائے سردی کے مارے اپنے کمبل میں کانپ رہا ہوتا۔ اسے اپنے خیالوں میں یوں نظر آتا کہ بھیڑیا 13کی پیٹھ کبڑی ہو گئی ہے ، دم سخت اور تھوتھنی نوکیلی! اسے یوں معلوم ہوتا کہ وہ اسے بیابان میں دوڑتا پھرتا دیکھ رہا ہے۔ خوانخوار اور تاباں۔ جب مہینوں بعد وہ اپنے ’سان انتونیو‘ کے تیل کے بیوپاری آقا کے سامنے حساب کتاب پیش کر رہا ہو گا تو اسے کہنا ہی پڑ جائے گا کہ ایک معمر بھیڑیا ایک سے زیادہ بچھڑے اٹھا لے گیا ہے۔

    ’ہردرجوآن‘ خدایا ابلیس سے دعائیں مانگتا تھا کہ بھیڑیا 13 اس کے ہاتھ لگ جائے۔ اس نے آخری گولی کو بندوق کی نالی کے اندر ڈالا اور اس کریہہ منظر سے منہ موڑ کر بھیڑیوں کو وہیں چھوڑ دیا جو ہوا میں جھول رہے تھے۔ اور جن کی سرخی مائل کھالیں شفق کی آخری روشنی کو مقید کر رہی تھیں، لیکن ان کا نقش اس کے ذہن پر کندہ تھا، قائم دائم تھا اور تنہا آدمی کی یادوں کی طرح انمٹ۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ بھیڑیا 13  لٹک رہا ہے، پنجے ایک دوسرے پر پڑ ے ہیں اور سر ڈھلکا ہوا ہے اور خود مغلوب ہو کر ختم ہو گیا ہے۔ اس خیال سے اسے اک گونہ راحت ہوتی تھی اور یہ خیال درد ، تھکن اور تنہائیوں کے نشان مٹا کر اس کے دل میں آباد ہو جاتا تھا۔ تمازتِ آفتاب نے اسے قبل از وقت بوڑھا کر دیا تھا۔ اور اس کی جلد لا تعداد آڑی ترچھی لکیروں کا جال بنی ہوئی تھی۔ وہ راہب اور کھیتی کے جانور کی مخلوط نسل تھا۔ اور اس کے چوڑے چکلے چہرے پر حیوانیت کے آثار آشکارا تھے۔ اس کی ڈاڑھی سرخی مائل تھی اور دھوپ نے بھووں کا رنگ اڑا رکھا تھا۔ اور یہ دونوں چیزیں اس کی جھریوں میں سے روشنی کے کڑے بالوں کی مانند ابھرتی تھیں۔ اس کی چھوٹی چھوٹی آنکھوں کی پتلیاں سورج کی خیرہ کن روشنی کی وجہ سے سکڑ گئی تھیں۔ ان کا رنگ خاکستری مائل نیلا تھا۔ معصوم ہونے کے باوجود سخت اور خشک تھیں۔ اگر ان میں کوئی چیز جھلکتی تھی تو وہ تھا صحرا۔ بے پایاں تنہائی کی ہندسی اور مجرد، سپاٹ سطح۔ بالآخر بیابان کی جوت جاتی رہی اور نتھری رات نے ڈیرے ڈال دیے۔ ’ہردرجوآن‘ گھوڑے سے اترا اور ناگ پھنی کے پیچھے چھپ گیا۔ آگ کی روشنی سے پرہیز کرنے کی خاطر اس نے تمباکو کا ایک ٹکڑا لے کر چبانا شروع کر دیا۔ اس کی انگلیاں بندوق کے گھوڑے سے کھیل رہی تھیں۔ وہ آنے والی مسرت کا مزہ پہلے ہی سے لے رہا تھا اور محو انتظار تھا۔ تھوڑے ہی عرصے میں چاند اپنے غیر متغیر مدار میں نمودار ہو گا اور بھیڑیا 13  پچھلی ٹانگوں کے سہارے بیٹھ کر اپنی کنٹھے والی گردن کو رات کے نغموں کے لیے اوپر اٹھا دے گا۔ اور وہیں ایک فولاد میں ملفوف تیز رو گولی اس کی آواز کو گلے یا سر ہی میں ختم کر ڈالے گی۔ یہ تھی ہردرجوآن کی سوچ۔ وہ کمبل میں پڑا مسکرا رہا تھا۔ چپ چاپ منتظر تھا۔ چاند اور بھی بلند ہو گیا مگر بھیڑیے 13  کا کہیں اتا پتا نہ تھا۔ اس کی بندوق کا فولاد انگلیوں میں سرد تھا۔ تعجب تو اس امر کا تھا کہ  وہ ابھی تک باہر کیوں نہیں نکلا۔ صحرا کس قدر سنسان ، مرگ آسا اور بے جان دکھائی دیتا تھا۔ پتھر تھے یا یہ آدمی۔ فضائے بسیط تھی یا یہ آدمی۔ اس کی ایک ٹانگ سو گئی تھی۔ منجمد خون کی سوئیاں چبھ رہی تھیں۔ وہ مزاحم نہ ہوا اور ساری کی ساری لات سن ہو گئی۔ ایک خاموشی، عظیم خاموشی اس کی روح کو تاخت کر رہی تھی۔ یہ کوئی خول نہیں تھا جو اس کے ظاہر پر تخلیق ہو رہا تھا بلکہ اس کی اپنی ذات ہی کی حرارت تھی۔ اس کے باطن کی ہر غیر محسوس شے کا فرار تھا۔ ہردرجوآن کو محسوس ہوا کہ کوئی شے اسے چھوڑ رہی ہے۔ کوئی اہم شے اس سے جدا ہو رہی ہے۔ اس کے بھدے بوٹ خالی خالی ہیں۔ اس کی پتلون اور کمبل اندر سے کھوکھلے ہو گئے ہیں اور ایک غیر متحرک تودے کی بے لوچ صورت، جسم کے آثار باقیات کو ڈھانپے ہوئے ہے۔ ’ہردرجوآن‘ سورج کی تپش میں جلے بھنے پتھروں کی مانند جو رات کو فضا میں دن بھر کی جذب شدہ حرارت کو لوٹا دیتے ہیں، روح کے بغیر رہ گیا تھا۔ اس نے سوچنے، یاد کرنے کی کوشش کی لیکن اسے بے روح لمحی صورتوں کی جھلکیوں کے سوا اور کچھ یاد نہ آیا۔ تیل کے کنوؤں کے عجیب سے رویں مینارے، بیئر کا ترش مزہ، تیل کے کنوئیں کھودنے والوں کے موٹے ، جسیم اور سفید دھڑ۔ مبہم ریوڑ جو پاس سے گزرتے ہوئے مٹی کے بادل اٹھا جاتے تھے۔ بچھڑے کی کھوپڑی جو پیاس کے مارے دم توڑ گیا تھا۔ ان لڑکیوں کے ہوس انگیز بدن جن سے وہ وقتاً فوقتاً بیابان کی سرحدوں کے چکلوں میں آشنا رہا تھا۔ یہ سب اس کے ذہن کے بے رنگ پردے پر ابھر رہے تھے لیکن یہ ساری صورتیں اتنی کھوکھلی اور بے جسم تھیں کہ اس کے لیے ناکارہ ہو کر رہ گئی تھیں۔ خاموشی مکمل اور قطعی ہو گئی اور ’ہردرجوان‘ سرد رات میں کانپتا رہا۔روح اس سے مفارقت کر گئی اور وہ اس کے بغیر اک دھبا تھا جو تنہائی میں کھو گیا ہو۔ اپنی بندوق کو گھٹنوں کے ساتھ پیوست کرتے ہوئے، اس نے منہ میں بچے ہوئے ترش تمباکو کو پھر چبانا شروع کر دیا۔ وہ منتظر رہا۔ وہ مایوسانہ منتظر تھا کہ معاً ہوانکنے کی مختصر آواز آئی۔ وہ اسے سنتے ہی اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ سیدھا کھڑا تھا۔ لرزاں، ہاتھ میں بندوق لیے چاروں اور دیکھ رہا تھا۔ بھیڑیا 13 آ پہنچا تھا۔ کہیں نزدیک ہی اس کی زرد آنکھیں چمک رہی ہوں گی۔ اس نے بندوق کی نالی سے حفاظتی نلی کو اتار ڈالا اور میدان میں بھاگنا شروع کر دیا۔ ہوانکنے کی آواز بار بار آئی اور پھر آئی۔ وہ بڑی احتیاط سے اس جگہ پہنچا جہاں سے آوازیں آئی تھیں۔ اسے محسوس ہوا کہ زندگی لوٹ آئی ہے۔ اسے معلوم ہو گیا کہ اس کے ہاتھ اس کے اپنے ہی ہیں اور اس کے بڑے بڑے پاؤں اپنے جانے پہچانے پرانے بوٹوں کے اندر موجود ہیں۔وہ ابھی راستے کی سدھ لے رہا تھا ۔متامل تھا کہ اک دردانگیز آواز سنائی دی جس کے سہارے وہ جھاڑی کے زرد چھدرے ہوئے سائے کے پاس پہنچ گیا۔ یہ رہا بھیڑیا 13۔ قد آور اور خاکستری رنگ۔ اس کی غراتی ہوئی تھوتھنی سے مضبوط اور سفید دانت دکھائی دیتے تھے۔ اس نے پیٹھ کو کبا کر رکھا تھا۔ پنجوں سے خون جاری تھا اور سیاہ اور سوجی ہوئی زبان باہر لٹک رہی تھی۔ وہ بھاگ جانے کی جان توڑ کوشش کر رہا تھا۔ اس کی آنکھیں نفرت اور خوف سے چمک رہی تھیں اور اپنی طرف ہولے ہولے آنے والے آدمی کو تک رہی تھیں۔ اس کی پیٹھ کے بال کھڑے ہو گئے تھے اور وہ مختصر گلوگرفتہ آواز میں ہوانکتا تھا۔ ’ہردرجوان‘ نے حالات کا اندازہ لگایا۔ بندوق اٹھائی اور شست باندھ لی۔ جانور مارے پیاس کے مرا جا رہا تھا۔ درد سے اتنا کمزور پڑ گیا تھا کہ اب چاند پر ہوانکنے کی ہمت نہ رہی تھی اور آج کی رات اس کی آخری رات تھی ’ہردرجوآن‘ مسکرا دیا۔ اسے تمام مصلوب بھیڑیوں کا خیال آگیا۔ وہ ان کے متعفن ماس کی بدبو تک سونگھ سکتا تھا۔ ہولے ہولے بندوق کے گھوڑے پر اس کی انگلیوں کی گرفت سخت ہو گئی گویا بندوق نہیں کمان کھینچ رہا تھا۔ یوں جانور اور آدمی ایک دوسرے کو کتنے ہی ثانیے تکتے رہے۔ مگر گولی کبھی بھی اپنے نشانے تک نہ پہنچی۔

    ’ہر درجوآن‘ نے معاً اپنا ارادہ بدل دیا اور گولی آسمان کی طرف ہوا میں چھوڑ دی۔ خلائے بسیط میں آواز گونج اٹھی۔

    بھیڑیا 13  ہانپ رہا تھا۔ اس کے دونوں پہلو دھونکنی کی طرح ابھرتے اور بیٹھتے تھے۔ وہ جھاڑیوں میں زندہ سلامت موجود تھا۔ آدمی نے اک نظر دیکھا۔ چند محبت بھرے الفاظ کہے اور پانی لانے کے لیے چلا گیا۔ جب وہ ایلومینیم کے پیالے پر جھک کر پانی ڈال رہا تھا۔ تو جانور دہشت کے مارے پیچھے ہٹ گیا۔ ہردرجوآن اپنی ناگ پھنی کی طرف لوٹ آیا کہ وہ اطمینان سے پانی پی لے۔ وہ کمبل میں لپٹا پڑا تھا۔

    ستاروں کی روشنی سیدھی اس کی پیشانی پر پڑ رہی تھیں۔ وہ سوچ رہا تھا اگر وہ اسے مار ڈالتا تو پھر دنیا میں اور کام ہی کون سا اس کے کرنے کو رہ جاتا اور پھر اس رات والی وہی صحرائی خاموشی لوٹ آتی جس کے ہاتھوں اسے اس قدر اذیت پہنچی تھی۔ وہ خوش خوش سکون سے سو گیا، اس کے پاؤں بوٹوں میں جمے ہوئے تھے اور پیاسے بھیڑیے13 کے پانی پینے کی شپ شپ کی سہانی آواز اسے لوری دے رہی تھی۔

    سو یہ تھی وجہ کہ بھیڑیا 13 اک خاصی مدت تک شاید سالہا سال زندہ سلامت رہا۔ اور جب آسمان پر چاند پورا ہوتا تو مسلسل اوہانکا کرتا اور بچھڑوں پر حملہ زن ہوتا اور ہر درجوآن طیش کھا کر اس کا پیچھا کرتا، لیکن اس آدمی نے بیابان کی وسعت میں اس رات والی صحرائی تنہائی کو پھر کبھی محسوس نہ کیا اور اس کی نظر میں بھیڑیا 13ایک مقدس، قابل احترام دشمن تھا۔