پرندہ فروش بچے کا قتل
ترجمہ: ڈاکٹر اعجاز راہی
حسن جب گاؤں سے نکلا تو اس کے ہاتھ میں تیتروں کا پنجرہ تھا، وہ جب شہر جانے والی سڑک پر پہنچا تو ٹھیک اس وقت نامعلوم مسلح افراد نے اس کے گاؤں پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے آتے ہی پہلے گھروں کو گھیرا اور پھر ان میں داخل ہو گئے۔
حسن نے بڑی سڑک پر پہنچ کر پنجرے کو ایک ٹیلے پر رکھا اور انگور کا ایک گچھا اٹھا کر پنجرے میں ڈال دیا۔ بڑا تیتر اس پر جھپٹا اور کتر کتر کھانے لگا۔ حسن کچھ دیر اسے خاموشی سے دیکھتا رہا پھر اپنی ایک انگلی پنجرے میں ڈال دی۔ تیتر نے منہ کھولا اور اس کی انگلی دبوچ لی۔ حسن درد سے چیخا اور انگلی کھینچ کر کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ کچھ دیر وہاں رکنے کے بعد اس نے پنجرہ اٹھایا اور ندی کی طرف چل پڑا۔ جس کے کنارے ایک آبی جوہڑ تھا، جس میں کبھی کبھی کوئی مچھلی تیرتی ہوئی آن نکلتی ہے۔ اسے صاف ستھرے پانی کی تہہ میں ایک چھوٹی سی چٹان کے گرد ایک مچھلی تیرتی نظر آئی۔ وہ مچھلی کو دیکھ کر یک دم کھلکھلا اٹھا اور ایک کنکری اٹھا کر تالاب میں دے ماری۔ کنکری سے پانی کی سطح پر ایک دائرہ بنا جو آہستہ آہستہ پھیلتا ہوا ، کناروں سے ٹکرایا اور دم توڑ گیا۔
ام کلثوم اپنے گھر میں اجنبی مسلح افراد کو دیکھ کر گھبرا گئی۔ اس کے چہرے پر خوف پسینہ بن کر بہنے لگا تھا۔
’’تم کون ہو؟ کیا چاہتے ہو؟‘‘
اس کی آواز لرز رہی تھی۔
’’تمہارے ساتھ اس گھر میں کون کون رہتا ہے؟‘‘
ایک مسلح شخص نے دھمکی آمیز اونچی آواز میں پوچھا۔
’’تم چلا کیوں رہے ہو‘‘ ام کلثوم نے کچھ جرأت کرتے ہوئے کہا۔ ’’میں اور میرا بیٹا حسن ......‘‘
’’وہ کہاں ہے......‘‘
’’وہ شہر جانے والی سڑک پر پرندے بیچنے گیا ہے۔‘‘
٭٭٭
حسن نے دور تک مچھلی کو دیکھا۔ مگر اب وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہو چکی تھی۔ اس نے جیب سے اخروٹ نکالا۔ اس کو دانتوں سے توڑ کر دو حصے کیے۔ ایک حصہ خالی کرکے اسے کٹورا سا بنا کر اس میں پانی بھرا اور تیتر کو پلانے لگا۔
اچانک تیتر نے اپنے پر پھیلائے۔ اس نے دور سے آتی ہوئی کار کی آواز سن لی تھی۔ حسن نے جلدی سے پنجرے کا دروازہ بند کیا اور کار کی طرف دیکھنے لگا۔ کار اس کے قریب آ کر رکی اور اس میں سے ایک بچہ جو اس کی عمر کے برابر تھا، کار سے نکلا اور جوہڑ کی طرف دوڑنے لگا۔ اسی لمحے کار سے ایک عورت نکلی اور چیختی ہوئی لڑکے کے پیچھے پیچھے آئی اور کہنے لگی خیال رکھنا کہیں پاؤں پھسل نہ جائے۔ آخر میں کار میں سے ایک مرد نکلا اور تالاب کے کنارے بیٹھ کر منہ ہاتھ دھونے لگا۔ عورت اور بچہ بھی اس کی تقلید کرنے لگے اور پھر دونوں کھڑے ہو گئے۔اور بچہ حسن کے پنجرے کی طرف آگیا۔
٭٭٭
’’میں اکیلی عورت ہوں۔ تمہارے ساتھ نہیں جا سکتی۔ مجھے اپنے بیٹے حسن کا انتظار کرنا ہے۔‘‘
’’جہنم میں گیا تمہارا بیٹا اور تم بھی۔ جو کچھ لینا ہے جلدی لو اور باہر نکلو۔‘‘
ایک حملہ آور نے اسے بندوق کے بٹ سے دھکا دیتے ہوئے بڑی بے رحمی سے کہا۔
’’تم لوگ مجھے کہاں لے جاؤ گے۔ کیوں؟ مجھے یہیں رہنے دو۔ میرا حسن......‘‘
ایک شخص نے اسے بازو سے پکڑا اور دھکیلتا ہوا باہر تک لایا اور زمین پر پھینک دیا۔ ام کلثوم چلائی ، مگر اس کی آواز صدا بہ صحرا ثابت ہوئی۔
٭٭٭
’’کتنا خوبصورت ہے۔‘‘
لڑکا جذبات بھرے لہجے میں بولا۔ حسن نے پہلی بار نظریں بھر کر اسے دیکھا۔ اس کے اجلے کپڑے اس کی آنکھوں میں چبھ سے گئے تھے۔ ایسے ہی اجلے کپڑوں میں ملبوس اس نے ایک لڑکے کو دیکھا تھا، جس کی تصویر ایک رسالے میں چھپی تھی۔ وہ رسالہ ایک سیاح یہیں تالاب پر چھوڑ گیا تھا اور وہ اب تک حسن کے پاس محفوظ تھا۔
’’یہ تیتر ہے۔‘‘
حسن نے بچے کو بتایا۔
’’کیا تم اس کی چونچ کو سرخ بنا سکتے ہو۔‘‘
حسن اس کی سادگی پر ہنسا۔
’’نہیں۔ یہ کام تو اللہ کا ہے، جو انہیں رنگ دیتا ہے۔
’’امی۔ یہ لڑکا کہہ رہا ہے کہ پرندے کو اللہ نے رنگا ہے۔‘‘
بچے نے حسرت بھری نظروں سے تیتر کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’ادھر آؤ‘‘ عورت نے رعب دار آواز میں بچے سے کہا۔ ’’اس کے قریب مت جاؤ۔‘‘
اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کار کی طرف کھینچنے لگی۔
٭٭٭
جب ام کلثوم نے دیکھا کہ مسلح افراد اسے گھر سے دھکیلنے کے بعد لوٹنے اور گھر کی چیزوں کو برباد کرنے میں مصروف ہو گئے ہیں تو وہ بمشکل اپنی جگہ سے اٹھی اور چیخنے لگی۔
’’میرے گھر کو برباد نہ کرو۔ خدا کے لیے میری چیزیں مت لو۔‘‘
حملہ آور بدستور مصروف رہے اور بالآخر ان میں سے دو نے ام کلثوم کو دونوں ہاتھو سے پکڑا اور گھسیٹتے ہوئے بڑے چوک کی طرف لے آئے۔ جہاں گاؤں کے دوسرے لوگ بھی جمع تھے اور ان کے چاروں طرف مسلح افراد انہیں ماردینے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ انہوں نے گاؤ ں والوں کے خچر پکڑے اور ان پر لوٹا ہوا مال اسباب لادنے لگے۔
٭٭٭
’’ابو...... مجھے پرندہ لے دیں۔‘‘
’’تم اس کا کیا کرو گے۔‘‘
’’بس مجھے لے دیں۔ میں کھیلا کروں گا۔‘‘
مرد اور عورت دونوں حسن کے قریب آئے اور پنجرے کو غور سے دیکھتے ہوئے عورت نے کہا۔
’’ڈارلنگ ہمیں اس کی تصویر بنانی چاہیے۔‘‘
بچے نے یہ سنا تو کار کی طرف دوڑا اور پچھلی سیٹ پر رکھا ہوا ایک خوبصورت کیمرہ لے کر لوٹا۔ حسن نے پنجرہ ذرا اونچی جگہ پر رکھ دیا اور عورت اس کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔
’’ذرا پیچھے ہٹو۔ ہم پرندے کی تصویر بنائیں گے۔‘‘
حسن جو پنجرے کے ساتھ کھڑا تھا۔ اداس سا ہو کر تھوڑا سا پیچھے ہٹ گیا۔ وہ کیمرہ کو حسرت بھری نظروں سے دیکھنے لگا۔
٭٭٭
گاؤں کے قیدیوں کا قافلہ پہاڑی راستوں پر چلتے ہوئے شدید دشواری محسوس کر رہا تھا۔
’’اگر کسی نے بھاگنے کی کوشش کی تو اسے گولی مار دی جائے گی۔ ’’ٖگولی......‘‘ ایک حملہ آور نے بندوق کا رخ گاؤں والوں کی طرف کرتے ہوئے کہا، جلدی کرو۔ قطار بناؤ اور سیدھے چلو۔‘‘
’’مگر میرا بیٹا ...... میں اس کا انتظار کرنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’ام کلثوم ۔ ان سے بات کرنا ہی فضول ہے۔‘‘ ایک پڑوسن نے کہا۔ ’’لیکن حسن کا کیا بنے گا؟‘‘
’’فکر نہ کرو۔ خدا اس کی حفاظت کرے گا۔ وہ یقینا ہماری تلاش میں آئے گا۔ ‘‘ ایک اسلحہ بردار کچھ دیر ام کلثوم کو گھورتا رہا اور پھر اس کی طرف دوڑا، ام کلثوم خوفزدہ ہو کر یک دم ایک طرف ہو گئی۔ وہ ایک لمحہ اسے دیکھتا رہا اور پھر آگے بڑھ گیا۔
’’میں نے گاؤں کے گرد مائینز بچھا دی ہیں۔‘‘ ایک شخص نے دوسرے سے کہا جو بظاہر ان کا سینئر دکھائی دیتا تھا۔ اس نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔ ’’میں کوئی گڑبڑ برداشت نہیں کروں گا۔‘‘
’’جناب میں نے تمام مائنز کو تار کے ذریعے ایک دوسرے سے ملا دیا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے جاؤ۔ باقی میں دیکھ لوں گا۔‘‘
٭٭٭
حسن کی نظر کار کی پچھلی سیٹ پر پڑی ایک خوبصورت گیند پر پڑی۔ اسے وہ بہت اچھی لگی۔ اس کا جی چاہا۔ کاش وہ اسے مل جائے۔ اس کے دل میں ایسی ہی گیند حاصل کرنے کی خواہش بہت پرانی تھی۔ جب وہ گاؤں کے کھاتے پیتے گھرانے کے بچوں کو ایسی گیندوں سے کھیلتے ہوئے دیکھتا تو اسے بڑی حسرت ہوتی۔کبھی کبھی کوئی اچھا لڑکا اسے گیند کو ہاتھ لگانے کی اجازت دے دیتا، تو اس روز اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہ ہوتا۔ لیکن کبھی کسی نے اس کی غربت کے سبب اسےاپنےساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دی۔
’’میں بڑا والا تیتر خریدنا چاہتا ہوں۔ اس کا کیا لو گے۔‘‘
حسن نے گیند کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’میں گیند کے عوض تیتر دے دوں گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ تم گیند لے سکتے ہو۔‘‘ اور اس نے اپنے بیٹے کو گیند لانے کے لیے کہا۔ لیکن لڑکے نے گیند دینے سے انکار کر دیا اور اپنی جگہ سے ہلا بھی نہیں۔ عورت نے خاوند کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ہم تیتر کی قیمت سے تین گیندیں خرید سکتے ہیں۔‘‘ پھر بچے کی طرف مخاطب ہو کر بولی۔ ’’ایڈیٹ ۔ میں شہر جا کر تمہیں دوسری گیند لے دوں گی۔‘‘ لیکن لڑکے نے ماں کے غصے کی پرواہ کیے بغیر گیند دینے سے انکار کر دیا۔
’’چلو چھوڑو ......‘‘ مرد نے عورت سے کہا پھر حسن سے مخاطب ہوا۔ ’’میرا بیٹا اپنی گیند نہیں دیتا۔ تم تیتر کی قیمت سے ایک اچھی گیند خرید سکتے ہو۔‘‘
’’گاؤں میں گیند نہیں ملی۔‘‘
’’اگر میں نے گیند جبراً لی تو وہ رونے لگے گا۔‘‘
’’اگر وہ روئے گا تو میں گیند نہیں لوں گا۔‘‘
حسن نے ضد کیے بغیر پنجرہ مرد کے حوالے کر دیا۔ بچے نے خوشی سے قہقہہ لگایا اور پنجرہ تھام کر گاڑی کی طرف بھاگا۔
٭٭٭
حملہ آوروں کی بار بار دھمکیوں کے باوجود قیدی قافلے کی رفتار بڑی سست تھی۔ عورتیں دھمکیاں سنتیں، تو خوف کی ایک سرد سی لہر اپنی ریڑھ کی ہڈیوں میں دوڑتی محسوس کرتیں۔ سسکتی ہوئی ہوا فضا کو اور اداس کر دیتی اور مرد عورتیں سر جھکائے احکام کی تعمیل کرتے آگے بڑھتے رہے۔ ایک ام کلثوم تھی۔ جو بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتی اور گاؤں کی طرف بھاگ جانے کی کوشش کرتی، مگر ہر بار حملہ آور اس کا راستہ روک لیتے اور بالآخر انہوں نے ام کلثوم کو خچر پر سوار کر کے باندھ دیا۔
٭٭٭
’’میں اس علاقے کا نام اپنی ڈائری میں لکھنا بھول گیا ہوں۔‘‘ مرد نے گاڑی کی طرف جاتے ہوئے حسن سے پوچھا۔ ’’تم کہاں سے آئے ہو۔‘‘
’’جی میں اس گاؤں سے آیا ہوں‘‘ اس نے درختوں کے ایک جھنڈ کی طرف اشارہ کیا، جس کے پیچھے اس کا گاؤں تھا۔
’’کیا تم اخروٹ بیچتے ہو؟‘‘
’’جی نہیں۔ لیکن میرے پاس ہیں۔‘‘
حسن نے ٹوکری میں سے کچھ اخروٹ نکالے اور عورت کو دے دیے۔ عورت پہلی بار مسکرائی۔ مرد نے تیتر کی قیمت ادا کی اور وہ تینوں گاڑی کی طرف بڑھنے لگے۔
’’اس قیمت سے تم ایک اچھی سی گیند خرید لینا۔‘‘
کار روانہ ہوئی تو لڑکا ہاتھ ہلا کر حسن کو خداحافظ کہہ رہا تھا۔ مگر حسن بہت اداس تھا۔ اس نے حسرت بھری نظروں سے دور ہوتی ہوئی کار کو دیکھا، جس میں وہ گیند پڑی ہوئی تھی، جس کی اسے ہمیشہ خواہش رہی تھی۔ وہ چند ساعتوں تک چپ چاپ کھڑا رہا اور پھر اس نے تالاب میں چھلانگ لگائی اور مچھلی کی طرح تیرنے لگا۔
٭٭٭
قیدی گاؤں والوں کا قافلہ سنگینوں کے سائے میں پہاڑی راستوں سے گزرتے ہوئے نہایت مشکل محسوس کر رہا تھا۔ خصوصاً عورتیں اور بچے بمشکل آگے بڑھ پا رہے تھے۔ دوسری طرف عین اس وقت حسن گاؤں کی طرف چل پڑا تھا۔ وہ گیند خریدنے کے تصور سے ہی انگ انگ میں خوشی محسوس کر رہا تھا۔ اس نے ایک لمحے کے لیے ماں کے بارے میں سوچا کہ کیا وہ اسے گیند خریدنے کی اجازت دے دے گی۔ لیکن دوسرے ہی لمحے وہ مسکرانے لگا۔اسے یقین تھا کہ اس کی ماں بخوشی اسے گیند خریدنے کی اجازت دے دے گی۔ کیونکہ وہ حسن سے بہت پیار کرتی تھی۔ اب سوال یہ تھا کہ وہ گیند کہاں سے خریدے گا۔ گاؤں میں ایسی گیند ملتی نہ تھی اور شہر گاؤں سے بہت دور تھا۔ پھر اس نے سوچا کہ وہ گاؤں کے دکاندار سے کہے گا کہ وہ اس کے لیے شہر سے گیند خرید لائے جو ہر ہفتے شہر جا کر دکان کے لیے سودا لاتا تھا۔ پھر اس نے سوچا وہ خود نہیں جائے گا ، بلکہ ماں کو دکاندار کے پاس بھیجے گا۔ کیونکہ کار والے آدمی نے بتایا تھا کہ وہ ان پیسوں سے کئی گیندیں خرید سکتا ہے۔ اسے تو صرف ایک گیند چاہیے تھی باقی پیسے وہ ماں کو دے دے گا۔ اس نے سوچا کہ وہ روز کی طرح جاتے ہی پہلے ماں کو پیار کرے گا اور جواباً ماں اسے چومنے لگے گی۔ وہ مسکرایا پھر اس کے ذہن میں یہ خیال جاگا کہ وہ کل سے زیادہ تیتر پکڑے گا تاکہ ماں کے لیے زیادہ سے زیادہ پیسے کما سکے۔ پھر اسے خیال آیا کہ کار والوں نے اس سے یہ سوال کیوں نہ کیا۔ جو ہر آدمی کرتا تھا کہ میں تیتر کیسے پکڑتا ہوں؟
حسن نے سوچا شاید انہیں پتہ ہو کہ تیتر کیسے پکڑے جاتے ہیں۔ ان ہی سوچوں میں غرق حسن جب گاؤں کے قریب پہنچا تو اسے کچھ غیر مانوس سا لگا۔ نہ پن چکی کی آواز تھی۔ نہ کتوں کے بھونکنے کی اور نہ ہی کسی جانور کے چلانے کی صدا ہی ابھری تھی۔ وہ خچروں کے ہنہنانے کی آواز بھی نہیں سن رہا تھا۔ ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ وہ گاؤں کی طرف دوڑنے لگا۔ لیکن جب وہ گاؤں کے پہلے مکان کے قریب پہنچا، تواس نے دوڑنا بند کر دیا۔ اس نے اپنی سانس درست کی اور کوئی بھی گاؤں والا نظر نہ آنے پر اس کی حیرانی پریشانی میں بدلنے لگی۔ اس نے سوچا گاؤں کے لوگ، ڈھور ڈنگر کہاں چلے گئے۔ اچانک اسے اپنی ماں کا خیال آیا اور وہ غیر ارادی طور پر پھر دوڑنے لگا۔ ابھی وہ تھوڑا ہی آگے بڑھا تھا کہ اس کا پاؤں ایک تار سے الجھ گیا اور پھر ...... ایک دھماکا ہوا پھر ایک اور ہوا اور پھر دھماکے ہوتے چلے گئے۔ حسن کئی فٹ دور جا کر گرا۔ اس کے ہاتھ میں پکڑا تیتر کا دوسرا پنجرہ دور جا گرا اور پھر اس کے پرزے ہوا میں بکھر گئے مگر پنجرے میں بند تیتروں میں سے ایک بچ کر اوپر اڑنے اور دور پہاڑیوں کا رخ کرنے لگا تاکہ اس کے گیت پہاڑوں پر رہنے والوں کو مسحور کر سکیں۔ مگر حسن کئی فٹ اوپر اچھلنے کے بعد جب زمین پر گرا تو آہستہ آہستہ اس کے کانوں میں دھماکوں کی آوازیں اور آنکھوں کے سامنے ایک گہری دھند چھاتی چلی گئی اور پھر شاید وہ ڈوب ہی گیا۔ ایک گہرے سیاہ سمندر میں جہاں کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔
قیدی گاؤں والے اور مسلح حملہ آور سبھی رک گئے اور گاؤں کی طرف دیکھنے لگے۔ جہاں ایک تواتر سے دھماکوں کی آوازیں ان تک پہنچ رہی تھیں۔ وہ سب کھڑے رہے۔ چپ چاپ مگر کسی نے بھی ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کی جرأت نہیں کی۔ پتہ نہیں کیوں؟