طیب صالح

طیب صالح

مٹھی بھر کھجوریں

    ترجمہ: ڈاکٹر اعجاز راہی

    میں اس وقت یقینا بہت چھوٹا تھا ، اتنا چھوٹا کہ میں یقین سے یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ اس وقت میری عمر کیا ہو گی۔ مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ جب میں اپنے دادا کے ساتھ باہر نکلتا تو لوگ پیار سے میرے سر پر ہاتھ پھیرتے اور میرے گال تھپتھاتے (جبکہ میرے دادا کے ایسا نہیں کرتے تھے) لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ میں کبھی اپنے والد کے ساتھ باہر نہیں گیا۔ دادا جہاں بھی جاتے، مجھے ساتھ لے لیتے تھے۔ سوائے صبح سویرے کے، جب میں اکیلا قرآن پڑھنے کے لیے قریب کی مسجد میں جایا کرتا تھا۔ مسجد ، دریا اور میدان یہ تین جگہیں ایسی تھیں جو میری زندگی کا حصہ بن چکی تھیں، مگر ان میں دادا جان شامل نہیں تھے۔ اگرچہ بہت سے بچے قرآن سیکھنے کے لیے مسجد جایا کرتے تھے، مگر مجھے قرآن پڑھنے سے عشق تھا۔ مولوی صاحب مجھے اکثر آیات کریمہ پڑھنے کے لیے کھڑا کر دیتے تھے، دوسروں کی نسبت میں اپنے دل کے ساتھ پڑھنے جایا کرتا تھا۔جب بھی کوئی عالم مسجد میں آتا تو میں ہی قرآن خوانی کیا کرتا اور حوصلہ افزائی کے لیے یہ لوگ بڑی شفقت سے میرے سر پر ہاتھ پھیرتے اور میرے گال تھپتھپایا کرتے۔

    مجھے مسجد کا بڑا احترام اور اس سے محبت تھی اور اسی قدر مجھے دریا بھی اچھا لگتا تھا۔میں جونہی مسجد سے فارغ ہوتا، دوڑتا ہوا گھر آتا، جلدی جلدی ناشتہ کرتا اور پھر دوڑتا ہوا دریا کی طرف نکل جاتا اور اس میں چھلانگ لگا دیتا۔  میں دیر تک تیرتا رہتا اور جب تھکاوٹ میرے اعصاب پر حاوی ہو جاتی تو میں دریا کے کنارے بیٹھ کر اس کی لہروں کو دیر تک گھورتا رہتا۔ یہ لہریں پانی کے ساتھ ساتھ بہتی ہوئی آکاشی کے بڑے بڑے درختوں کے عقب میں غائب ہو جاتیں اور یہیں سے دریا ایک چھوٹا سا موڑ کاٹتا تھا۔ مجھے یہ بات بہت اچھی لگتی تھی ، جب میں اپنے تصور میں تصویر بناتا کہ ان درختوں کے پیچھے ایک دوسری مخلوق کا بسیرا ہے۔ ایک ایسی مخلوق جو طویل قام، سفید ریش اور لمبی ناکوں والی ہے۔ بالکل میرے دادا کی طرح۔ میرے دادا جب بھی میرے الٹے سیدھے سوالوں کا جواب دیتے تو پہلے اپنی شہادت کی انگلی سے اپنی ناک کو ضرور رگڑتے یا پھر اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے، جو روئی کے گالوں کی طرح نرم اور ملائم تھی۔ میں نے اپنی زندگی میں اتنی خوبصورت اور جچتی ہوئی داڑھی نہیں دیکھی تھی۔ میرے دادا بھی خاصے طویل قامت تھے۔ اس پورے علاقے میں کوئی ایک بھی ایسا نہ تھا، جو دادا سے بات کرنے کے لیے اپنے سر کو اوپر کی طرف اٹھائے بغیر ان سے مخاطب ہو سکتا یا میں نے کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ کسی گھر میں داخل ہونے کے لیے میرے دادا نے سر کو نہ جھکایا ہو۔ چنانچہ جب میں یہ سوچتا تھا کہ دریا جب مڑ کر درختوں کے پیچھے چھپ جاتا ہے، تو اس میں خوبصورت مخلوق بستی ہے، تو میرے ذہن میں ہمیشہ میرے دادا ہوا کرتے تھے۔مجھے اپنے دادا سے بہت پیار تھا۔ چنانچہ میں اکثر سوچتا کہ جب میں بڑا ہوں گا، تو ان ہی جیسا بننے کی کوشش کروں گا۔ میں ان کے ساتھ چلتے ہوئے بڑا فخر محسوس کیا کرتا تھا۔

    مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے تمام پوتوں نواسوں میں مجھ سے ہی پیار کرتے تھے۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ باقی بچوں کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ احمقوں کا ٹولہ ہے اور ان کی نظر میں میں ہی ایک ذہین بچہ تھا۔ اصل بات یہ تھی کہ میں اپنے دادا کا مزاج آشنا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ کب دادا ہنسنا پسند کرتے ہیں اور کب خاموشی۔ میں ہی انہیں نماز کے وقت کا یاد دلاتا، ان کے لیے جائے نماز بچھاتا اور وضو کے لیے پانی لا کر دیتا۔ ان کےپاس جب کوئی کام نہیں ہوتا، تو مجھے تلاوت کے لیے کہتے اور پھر میری قرأت میں ڈوب جاتے۔

    ایک روز میں نے ان سے اپنے پڑوسی مسعود کے بارے میں سوال کیا۔

    ’’میرا خیال ہے آپ اسے پسند نہیں کرتے۔‘‘

    ’’ہاں۔ یہ ایک عیاش اور آرام طلب شخص ہے اور میں ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

    ’’داداجی۔ اس نے کیا عیاشی کی ہے۔‘‘

    انہوں نے چند ساعتوں کے لیے سر کو جھکایا اور پھر کھڑکی سے باہر دور تک پھیلے ہوئے میدان پر نظر دوڑاتے ہوئے بولے:

    ’’تم یہ زمین دیکھ رہے ہو، جس کا ایک سرا صحرا اور دوسرا نیل کے کناروں تک پھیلا ہوا ہے ؟ یہ ایک سوفیڈن سے زیادہ ہے اور تم دیکھ ہی رہے ہو کہ یہ کھجوروں کے درختوں سے بھرے ہوئے ہیں، یہ آکاشی اور سیال کے درخت ......؟ یہ سب کچھ اسے وراثت میں ملا تھا  اور بالآخر مسعود کی کوتاہیوں کی نذر ہو گیا۔‘‘

    دادا جی خاموش ہوئے، تو میں نے دور تک پھیلے میدان پر نظر ڈالی اور سوچنے لگا کہ مجھے اس سے کیا غرض کہ یہ درخت کس کے ہیں۔ میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ یہ ریتلی زمین میرے خوابوں کی تسکین اور میرے کھیلنے کا میدان ہے ...... دادا جی نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ایک لمحہ کے لیے اپنے ناک کو رگڑا اور کہنے لگے:

    ’’ہاں۔ میرے بچے۔ چالیس سال قبل تک یہ سب کچھ مسعود کا تھا۔ لیکن آج دو تہائی زمین اور د رخت میرے ہیں۔‘‘

    دادا کی یہ بات میرے لیے بالکل نئی تھی کہ یہ زمینیں کبھی مسعود کی تھیں، ورنہ میں تو یہ سمجھتا تھا کہ جب سے خدا نے زمین بنائی ہے یہ میرے دادا کی ہی ہے۔

    ’’جب میں اس گاؤں میں آیا تھا، میرے پاس ایک فیڈن زمین بھی نہیں تھی اور مسعود ان سب کا مالک اور بڑا آدمی تھا...... مگر اب صورت حال بدل چکی ہے او راگر وہ اس ڈگر پر قائم رہا تو اس کے مرتے مرتے باقی زمینیں بھی میں خرید چکا ہو ں گا۔‘‘

    پتہ نہیں کیوں اچانک مجھے اپنے دادا کی باتوں سے خوف آنے لگا اور ایک نامعلوم سی ہمدردی مسعود کے لیے میرے دل میں پیدا ہو گئی۔ میرے اندر یہ خواہش پیدا ہوئی کہ خدا کرے دادا جی وہ کچھ نہ کریں ، جس کا اظہار انہوں نے ابھی کیا تھا۔ مسعود بہت اچھا گاتا تھا۔ اس کی آواز نیل کے پانیوں سے ابھرنے والے خوبصورت ردھم کی طرح نرم اور لطیف تھی۔ اس کا قہقہہ مجھے اچھا لگتا تھا، کہ اس میں بھی ایک موسیقی کی لہر چھپی ہوئی ہوتی تھی۔ مگر میرے دادا جی کبھی قہقہہ نہیں لگاتے تھے، میں نے دادا جی سے پوچھا:

    ’’آخر مسعود نے یہ ساری زمینیں کیوں بیچ دیں؟‘‘

    ’’عورت ......‘‘

    جس انداز میں دادا جی نے عورت کا لفظ ادا کیا، مجھے یوں لگا جیسے عورت کوئی بہت ہی خوفناک شے ہے۔

    ’’میرے بچے ...... یہ عورت مسعود کو لے ڈوبی ہے۔ اسے شادیاں رچانے کا بڑا شوق تھا۔ چنانچہ ہر شادی پر وہ ایک یا دو فیڈن زمین میرے ہاتھ بیچ دیتا ......‘‘

    میں نے جلدی سے حساب لگایا تو مسعود اب تک تقریباً 90 شادیاں رچا چکا تھا۔ مجھے اچانک اس کی وہ تین بیویاں یاد آگئیں جو میں نے دیکھی تھیں۔ مسعود کی بدوضعی، پھٹے جوتے اور ٹاکیاں لگا جلوبہ۔ اصل میں کسی کے بارے میں اندازہ لگانے کے لیے یہی کافی ہوتا ہے۔

    میرے خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ مسعود بڑی آہستگی سے ہمارے قریب آ کھڑا ہو گیا تھا۔ سلام دعا کے بعد کہنے لگا:

    ’’آج ہم کھجوریں اتارنا چاہتے ہیں۔ آپ کی موجودگی ضروری ہے۔‘‘

    مجھے یوں محسوس ہوا جیسے مسعود نے میرے دادا جی کو آنے کے لیے کہہ تو دیا، مگر شاید وہ دل سے نہیں چاہتا تھا کہ دادا جی اس کے کام میں شریک ہوں۔ تاہم یہ سنتے ہی میرے دادا جی کی آنکھوں میں ایک غیر معمولی چمک پیدا ہوئی اور وہ ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے میرا ہاتھ تھاما اور کھجور کے درختوں کی طرف چل دیے، جہاں چھٹائی شروع ہو چکی تھی۔

    ایک شخص جلدی سے ایک سٹول لے آیا، میرے دادا اس پر بیٹھ گئے اور میں ان کے قریب ہی کھڑا ہو گیا۔ درختوں پر بہت سے لوگ کام کر رہے تھے۔ ان میں سے اکثر کو میں جانتا تھا۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ میری نظروں کا محور مسعود تھا، سب سے الگ تھلگ۔ اداس ، اداس۔ جیسے اس ساری کارروائی سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔ جیسے یہ سارے درخت جن سے کھجوریں اتاری جا رہی تھیں، اس کی نہ ہوں۔ بس لا تعلق سا کھڑا اس سارے عمل میں عموماً خاموش رہا، تاہم جب کبھی کوئی نوجوان کھجوروں کے ساتھ شاخ کو کاٹ کر نیچے پھینکتا، تو یوں لگتا، جیسے ٹوٹی ہوئی شاخ جب مختلف شاخوں سے الجھتی ہوئی ایک بھدی سی آواز کے ساتھ زمین پر گرتی تو اس سے اس کے دل کو چوٹ لگتی ہو۔ اور وہ چلا اٹھتا:

    ’’بھئی ذرا احتیاط کرو۔ کھجوروں کے ساتھ شاخوں کے دل تو نہ کاٹو۔‘‘

    مگر اس کی آواز سب کے لیے سنی ان سنی تھی۔ وہ نوجوان جس نے شاخ کاٹ دی تھی۔ اسی انداز میں کام کرتا رہا۔ مگر میرے دل میں مسعود کی آواز اتر گئی۔ کیونکہ اس ساری بھیڑ میں ایک وہی تھا، جسے شاخوں کے ٹوٹنے کی آواز سنائی دے سکتی تھی۔ ’’شاخوں کا دل‘‘ مجھے یاد آیا کہ ایک بار جب میں چھوٹے سے درخت کی ایک شاخ پر بیٹھا جھول رہا تھا ، تو مسعود میرے پاس آگیا۔ اس نے حسب معمول میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہنے لگا:

    ’’بیٹے! یہ درخت بھی انسانوں کی طرح ہوتے ہیں۔ ان کی خوشیوں اور دکھوں کو بھی محسوس کرنا چاہیے۔‘‘

    میں نے اس دن بڑی شرمندگی محسوس کی تھی اور اس کے بعد یہ عمل کبھی دہرایا نہیں۔

    میں نے اپنی سوچوں کے حصار سے باہر آ کر دیکھا۔ بڑوں کے ساتھ ساتھ میری عمر کے بچے بھی درختوں کا طواف کر تے۔ کھجوروں کو جمع کرنے اور ڈھیریاں بنانے کے کام میں مصروف تھے اور موقع ملتے ہی کھجوریں ان کے منہ میں چلی جاتیں۔

    اب کھجوروں کو بوریوں میں بند کرنے اور ان کا وزن کرنے کا مرحلہ شروع ہو چکا تھا۔ اس کام سے فارغ ہو کر تمام لوگ چلے گئے لیکن صرف حسین رہ گیا تھا، جو کھجوروں کا آڑھتی تھا، موسیٰ جس کی زمین ہم سے قدرے آگے تھی اور دیگر افراد جنہیں میں نہیں جانتا تھا۔

    اتنے میں میری نظر دادا جی پر پڑی، مجھے یوں لگا جیسے وہ سوئے ہوئے ہیں۔ مسعود کی حالت میں بھی کوئی فرق نہیں آیا تھا۔ تاہم اس کے منہ میں کھجوریں تھیں اور وہ اس طرح چبا رہا تھا جیسے کسی بچے کے منہ میں کوئی ایسی چیز ہو جس کے بارے میں وہ کچھ نہ جانتا ہو۔

    اچانک میرے دادا اپنی جگہ سے اٹھے اور کھجور کی بوریوں کے قریب پہنچ گئے۔ ان کے پیچھے حسین بڑھا، پھر موسیٰ اور پھر آہستہ آہستہ مسعود آگے آیا، اور کھڑے ہونے کے لیے جگہ بنانے لگا۔ اس کے قدم یوں اٹھ رہے تھے ، جیسے ایک شکست خوردہ شخص آگے کی بجائے پیچھے جانا چاہتا ہو۔ مگر آگے بڑھنے پر مجبور کر دیا گیا  ہو۔

    تمام لوگ کھجوروں کے گرد دائرہ بنا کر کھڑے ہو گئے۔ اور بوریوں کا جائزہ لینے لگے۔ کچھ نے کھجوریں اٹھا کر اپنے منہ میں ڈالیں۔ میرے دادا نے مجھے بھی چند کھجوریں دیں، جو میں چبانے لگا۔ مسعود بھی آگے بڑھا، اس نے اپنے دونوں ہاتھوں میں کھجوریں بھریں، اپنے چہرے کے قریب لایا اور پھر انہیں واپس ڈال دیا۔

    اب کھجوروں کی تقسیم کا مسئلہ آیا۔ حسین نے دس بوریاں لے لیں۔ موسیٰ نے پانچ اور  پانچ میرے دادا کے حصے میں آئیں اور میدان خالی ہو گیا۔ میں نے مسعود کی طرف دیکھا۔ جس کی آنکھوں کے دروازوں پر موٹے موٹے قطرے کھڑے بہہ جانے کے منتظر تھے ، مگر مسعود نے آنکھیں بند کرکے انہیں وہیں روک لیا تھا۔

    ’’تم ابھی بھی میرے پچاس پاؤنڈ کے مقروض ہو۔ خیر اس کا حساب بعد میں کر لیں گے۔‘‘

    دادا نے مسعود کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ حسین کھجوروں کو گدھوں پر لادنے لگا جبکہ دونوں اجنبیوں نے بقیہ کھجوریں اونٹوں پر لادنا شروع کر دیں۔ ایک گدھے نے حسب عادت دولتی چلا دی، جو ایک اونٹ کو جا لگی اور اونٹ نے ایسے منہ کھول لیا جیسے شکایت کر رہا ہو۔

    میں مسعود کے قریب آگیا۔ اتنا قریب کہ میں اس کے کپڑوں کو ہاتھ لگا کر اسے محسوس کر سکوں۔ میں نے اچانک اس کے نرخرے سے ایسی آوازیں سنیں جیسے بکرے کو ذبح کرتے ہوئے سنائی دیتی ہیں۔ نہ جانے کیوں میں نے اپنی چھاتی میں شدید درد محسوس کیا  جو رفتہ رفتہ ناقابل برداشت ہوتا جا رہا تھا۔

    میں دوڑنے لگا اور ان سے کافی فاصلے پر چلا گیا۔ میرے دادا مجھے آوازیں دے رہے تھے۔ میں ذرا سا ہچکچایا مگر پھر اسی رفتار سے آگے بڑھتا گیا۔ اسی لمحے مجھے یوں لگا جیسے مجھے اپنے دادا سے شدید نفرت ہو گئی ہے۔ میں جلدی جلدی قدم اٹھاتا ہوا ان لوگوں سے دور نکل جانا چاہتا تھا۔ مجھے اپنے اندر ایک شدید تبدیلی محسوس ہوئی۔ میں دریا کے کنارے پہنچ گیا اور اس جگہ کا انتخاب کیا جہاں سے دریا مڑ کر آکاشی کے اونچے اونچے درختوں میں گم ہو جاتا ہے۔

    اور ......پھر یہ جانے بغیر ......کہ میں ایسا کیوں کر رہا ہوں، میں نے اپنی انگلی اپنے حلق میں ڈال دی،تاکہ وہ کھجوریں جو میں نے تھوڑی دیر پہلے کھائی تھیں ...... الٹ سکوں ......!