فاختہ ایک عورت ہے
ترجمہ: عذرا نقوی
بہت سی عورتیں سونے سے پہلے روتی ہیں۔ عورت کے لیے بہت مشکل ہے کہ وہ اس بات کا کسی سے گلہ کرے، ہر عورت سمجھتی ہے کہ صرف وہ ہی جو رات کا اک پہر روتے ہوئے گزارتی ہے، ایک خوبصورت مگر مضمحل کر دینے والا عمل۔ اگر ان میں سے کوئی گلہ کرنا بھی چاہے تو کوئی بھی مرد چاہے وہ کتنا بھی حساس ہو، ہمدردی نہیں کرے گا اور نہ اس پر دھیان دے گا۔ عین ممکن ہے وہ یہ ہی کہے ’’یہ تو عورتوں کی عادت ہے، خاص کر جب ساری دنیا سو رہی ہوتی ہے تو ان کی جاگتی آنکھوں کے خواب ان کے تھکے ہوئے ذہن پر یلغار کر دیتے ہیں۔‘‘
’’سب عورتیں روتی ہیں، مگر کچھ عورتوں کے آنسوؤں کے سوتے خشک ہو جاتے ہیں۔ یہ میٹھے پانی کے سرچشمے ابلنا بند ہو جاتے ہیں‘‘۔ عورت کی تیز آواز کچھ گھٹ سی گئی ’’مجھے یہ ڈاکٹر نے بتایا تھا، اس نے کہا تھا کہ عورتوں کا رونا کوئی عجیب بات نہیں ہے، اگر وہ نہیں روتیں تو عجیب بات ہے۔‘‘
میں اس کے قریب کھسک آئی ’’تو کیا ڈاکٹر نے رونے کی وجہ اور کتنے فی صد وقت رونا آتا ہے، یہ معلوم کیے بغیر یہ سب کہا؟‘‘
اس نے میری طرف مڑ کر کہا ’’کیا ہم رونے کو ناپ سکتے ہیں؟‘‘
عورتوں سے بھرا ہوا کمرہ قہقہوں سے بھر گیا۔ ایک تیز آواز ابھری ۔ ’’رونے کا فی صد، 75 فیصد ہے مگر میرے خیال میں یہ ڈاکٹر اس کا تعین کرنے کے سلسلے میں ناتجربہ کار لگتا ہے۔‘‘
ہنسی اور زیادہ بلند ہو گئی۔ میں نے دلیری سے کہا ’’ہاں! رونے کا بھی اندازہ فی صد میں ہوتا ہے، یہ ایک خاص تھیوری ہے، رونا ایک بیماری ہے اور اس کا لمبا علاج ہوتا ہے۔‘‘
میرے قریب بیٹھی ہوئی عورت نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا ’’اصل بات تو یہ ہے کہ رونا آتا ہے، اور دل سے ابلتا ہے۔ دل اک سمندر ہے جو خاموش آنکھوں کے ساحل کی طرف لہروں کو دھکیلتا ہے‘‘ اس نے میری طرف دیکھا اور پوچھا ’’کیا تم پہلی بار نفسیاتی ڈاکٹر کے پاس آئی ہو؟‘‘
’’ہاں پہلی بار‘‘
’’کیا پریشانی ہے؟‘‘
’’خوف، ڈراؤنے خواب اور رونے کی ایک عجیب سی خواہش۔ تمہارا کیا مسئلہ ہے؟‘‘
’’میری پریشانی بھی تم سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے سوائے ایک بات کے۔ ہر بار جب میں ڈاکٹر کے پاس آتی ہوں تو ایک خاص سوال پوچھتی ہوں جس کو سن کر وہ یا تو ہنسنے لگتا ہے، کبھی ٹیلی فون اٹھا کر کسی سے باتوں میں لگ جاتا ہے، کبھی وہ مجھے احمقانہ لطیفے سناتا ہے اور آخر میں مجھے مسکرانے کے لیے کہتا ہے۔ اس سے پہلے وہ مجھ سے دسویں بار پوچھتا ہے کہ میرا نام کیا ہے۔ دیکھو! دیکھو کونے میں جو عورت ہے وہ عجیب انداز سے روتی ہے۔ اور وہ جو لڑکی ہے نا، ایک منٹ میں دس بار اٹھتی ہے اور کھڑی ہوتی ہے۔‘‘
’’کلینک عورتوں سے بھرا ہوا ہے، اس کی بے چینی فطری ہے، مگر میں بور ہو گئی ہوں۔‘‘ میں نے کہا ’’بہت افسردہ ماحول ہے، اور ویسی ہی افسردہ ہسپتال کی بو ہے، میرا تو دم گھٹا جا رہا ہے۔‘‘
’’برداشت کرو، میں یہاں چار گھنٹے سے آئی ہوئی ہوں۔‘‘
’’اگر مجھے ایک اور گھنٹہ انتظار کرنا پڑا تو میں پاگل ہو جاؤں گی۔ میرا بیٹا گھر پر میرا انتظار کر رہا ہے۔ وہ بہت چھوٹا ہے اور مجھ سے دور رہنے کا عادی نہیں ہے۔‘‘
’’اس کا باپ کہاں ہے؟‘‘
’’وہ کہیں اور ہے۔‘‘
’’تو کیا اس کا مطلب ہے کہ تم طلاق شدہ ہو؟‘‘
’’اب تقریباً دو سال ہو گئے۔‘‘
’’کیا دوسری شادی کرنے کا ارادہ ہے؟‘‘
’’ایک آدمی ہے جو مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے مگر مجھے ڈر ہے کہ میں اپنا بیٹا کھو دوں گی۔‘‘
’’اس آدمی سے تمہارے کس قسم کے تعلقات ہیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔’’منگنی ہو گئی ہے یا محبت ہے؟‘‘
’’دوسری بات سچ کے قریب ہے۔‘‘
’’ہا! ہا! ہا!‘‘
اس کے اس طرح ہنسنے پر کئی عورتوں نے ناگواری ظاہر کی، ایک نے کہا۔ ’’لوگوں میں اب کچھ شرم نہیں رہ گئی ہے۔‘‘
دوسری نے کہا ’’شاید اسے دورہ پڑ گیا ہے۔‘‘
تیسری نے کہا ’’واقعی یہ پاگل ہے۔‘‘
چند کم عمر لڑکیاں اس کے ساتھ زور سے ہنسیں اور پھر سوجھ بوجھ والی پختہ کار عورتوں سمیت سارا گروپ ہنسی میں شامل ہو گیا۔ تین منٹ بعد سارا کمرہ خاموش تھا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے تیکھے ناک نقشے والے زرد چہرے کی طرف اٹھائے اور آنکھوں میں آئے آنسو پونچھے۔ وہ رہ رہ کر ہنستی رہی اور پھر میری طرف دیکھ کر کہا ’’تم اس کی بات کا اعتبار کرتی ہو؟‘‘
میں اس کا جواب دینے سے پہلے ایک منٹ ہچکچائی۔’’کبھی کبھی میں اس پر اعتبار بھی کرتی ہوں۔‘‘
مجھے اپنے تذبذب پر کوفت ہو رہی تھی۔
’’جب مجھے اس پر شک ہوتا ہے تو خود کو ملامت کرنے لگتی ہوں کہ میں اس سے شاید محبت نہیں کرتی۔ میں اس پر اعتبار کرتی ہوں، جب رات کو میں اکیلی ہوتی ہوں اور خواب مجھے کہیں دور لے جاتے ہیں تب مجھے اس پر اعتبار ہوتا ہے۔ مگر جیسے ہی سورج نکل آتا ہے اور میری آنکھیں روشنی سے دوچار ہوتی ہیں تو مجھے لگتا ہے کہ جو کچھ گزرا تھا وہ خواب سے زیادہ کچھ اور نہیں تھا۔ کبھی مجھے اس سے اتنی نفرت ہونے لگتی ہے کہ دل چاہتا ہے کہ میری یادداشت کھو جائے تاکہ وہ میرے خیالوں میں بھی کبھی نہ آئے۔ مگر تم مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو، اور تم ہو کون؟‘‘
’’میں ...... میں ...... یہیں کی عورت ہوں‘‘ اس نے کہا۔ ’’تمہاری ہی طرح میں نے بچپن سے سیکھا تھا کہ اک مرد عورت کے لیے سب کچھ ہوتا ہے، اور عورت اس کے بغیر کچھ بھی نہیں، وہ ہوا میں ایک تنکے کی طرح ہے۔ ہمارے گاؤں میں اک عام محاورہ ہے کہ عورت کے لیے شوہر ایک قذ ہے، تمہیں معلوم ہے قذ کیا ہوتا ہے۔ تیز ہواؤں کے چلنے سے جو ریت کے ٹیلے بن جاتے ہیں۔
’’اور کیا ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’بے چاری تم، کیا اس نے تم سے کہا ہے کہ وہ تم سے شادی کرے گا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’کیا اس نے اس قسم کا کوئی اشارہ کیا؟‘‘
’’نہیں، مگر مجھے یقین ہے کہ وہ کرے گا۔‘‘
’’تم نے اس سے پوچھا کیوں نہیں؟‘‘
’’میں یہ کبھی نہیں کروں گی۔‘‘
’’کیا یہ تمہارا کسی قسم کا فرضی اصول ہے؟‘‘
’’نہیں، یہ خودداری ہے۔‘‘
’’میں تم سے کہے دیتی ہوں، اکثر مرد جھوٹ بولتے ہیں۔ ‘‘ پھر وہ بولی ’’مگرمرد جھوٹے کیوں ہوتے ہیں؟‘‘
کسی نے ہم دونوں کے بیچ میں اپنا سر گھساتے ہوئے ، دل گرفتہ آواز میں سرگوشی کی ’’فاختہ سے پوچھو۔‘‘
میں نے اپنی ساتھی کے پاس سے اپنا سر تھوڑا سا کھسکا کر اس کے لیے جگہ بنائی۔ اس عورت نے اپنا الجھے بالوں والا سر ہلاتے ہوئے میری ساتھی کی طرف گھورتے ہوئے دہرایا ’’میں نے کہا نا، فاختہ سے پوچھو۔‘‘
’’فاختہ، ...... فاختہ۔ کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘
اس نے چھت کی طرف منہ کرکے گانے کے کچھ بول گائے۔
تو، ...... تو، ......تو،......تو،......تو،......
او احمد عدوی
میری کنگھی واپس لا دو
میرے بیٹے کا کھلونا لوٹا دو
تو، ...... تو، ......تو،......تو،......تو،......
تم مجھ سے اپنا سونا واپس لے لو
تو، ...... تو، ......تو،......تو،......تو،......
او احمد عدوی
میری کنگھی واپس لا دو۔
دھیمے سُر میں اس کا یہ اداس گانا کمرے کے کونے میں ایک عورت کے سر پٹخنے کے ہنگامے اور شور کی وجہ سے یک لخت بند ہو گیا۔ عورتوں میں سرگوشیاں ہونے لگیں۔ ایک نرس بیچ میں پڑی، دوسری آئی، تیسری آئی۔ کچھ عورتیں باہر چلی گئیں کچھ اندر آئیں۔ میرے اور میری ساتھی، جس سے کچھ دیر پہلے ہی جان پہچان ہوئی تھی، اس کے درمیان وہ عجیب سا چہرہ پھر نمودار ہوا۔
میری ساتھی نے کہا ’’لگتا ہے یہ پاگل ہے۔‘‘
اس عجیب سی عورت نے دھیرے سے مڑ کر میری طرف متوحش انداز میں دیکھا اور بولی ’’میں ام الحمام ہوں، فاختہ کی ماں۔‘‘
میں اٹھ کھڑی ہوئی اور ہکلاتے ہوئے کہا ’’فاختہ ...... فاختہ؟‘‘
میری ساتھی نے اپنے پرس میں ہاتھ ڈال کر کچھ گولیاں نکال کر اپنے منہ میں ڈال لیں۔
’’تم میری اور دوسری عورتوں کی طرح بیمار ہو ،مگر اس سے چھٹکارا پانے کے لیے گولیاں کھانا صحیح نہیں ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
مگر لگتا تھا کہ اس نے میری بات نہیں سنی، ’’آج سات سال ہو گئے‘‘ اس نے کہا ’’میں مختلف کلینکس میں جا کر ڈاکٹروں سے یہ سوال پوچھتی ہوں کہ مرد جھوٹ کیوں بولتے ہیں۔‘‘
سرگوشیاں پھر سے شرو ع ہو گئی تھیں۔
’’میں نے تم سے کہا تو ‘‘ اس اجنبی عجیب سی عورت نے پھر کہا ’’فاختہ سے پوچھو۔‘‘
میری ساتھی مسکرائی، وہ منتظر تھی کہ میں اس عورت سے بحث کروں گی۔ مگر وہ عجیب سے چہرے والی پیچھے جا کر دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑی ہو گی۔ کچھ لمحوں کے لیے اس کے خراٹے کمرے میں پھیل گئے۔ وہ جاگی اور خوفزدہ انداز میں چاروں طرف دیکھا اور پھر سو گئی۔
میں نے اپنی ساتھی کے قریب جھک کر کہا ’’صرف مرد ہی جھوٹ نہیں بولتے، عورتیں بھی جھوٹ بولتی ہیں۔‘‘
اس نے ہوا میں اپنے ہاتھ لہراتے ہوئے بہ آواز بلند کہا ’’مگر مرد بیس سال کی عمر میں ٹوٹ نہیں جاتے، وہ پچاس سال کی عمر کے بعد بھی بوڑھے نہیں ہوتے۔ یہ مردوں کے ساتھ نہیں ہوتا، صرف عورتیں روتی ہیں۔ بیس بیس سال سے رو رہی ہیں۔ تم کو پتہ ہے کیوں؟ میں نے ایک مرد سے محبت کی تھی جتنی کرنی چاہیے تھی اس سے کہیں زیادہ۔ میں نے اس پر اعتبار کیا تھا مگر اس کے بعد وہ طلوعِ صبح کے ساتھ ہواؤں میں اپنی تلوار لہراتا نکل گیا۔
اک بار پھر وہ الجھے الجھے بالوں والا سر ہم دونوں کے درمیان نمودار ہوا ۔ ’’کیا اس نے فاختہ کی آواز نہیں سنی؟‘‘
سوائے عورتوں کے اعصابی تنفس کی آواز کے کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ باہر مریضوں اور ڈاکٹروں کے قدموں کی آہٹ سنی جا سکتی تھی۔ اس عورت کا افسردہ گانا پھر سے شروع ہو گیا۔
تو، ...... تو، ......تو،......تو،......تو،......
او احمد عدوی
میری کنگھی واپس لا دو
میرے بیٹے کا کھلونا لوٹا دو
تو، ...... تو، ......تو،......تو،......تو،......
تم مجھ سے اپنا سونا واپس لے لو
تو، ...... تو، ......تو،......تو،......تو،......
او احمد عدوی
میری کنگھی واپس لا دو۔
میں نے ہمت کرکے پوچھا ’’احمد عدوی کون ہے؟‘‘
اس نے سر ہلایا اور اپنے پیلے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا’’وہ فاختہ کا عاشق ہے۔‘‘
’’فاختہ، تمہارا مطلب ہے وہ چڑیا جو ہم درختوں پر دیکھتے ہیں۔‘‘
اس نے اپنے سینے پر ہاتھ باندھ لیے اور کہا ’’میں تم کو بتاتی ہوں۔ جب دنیا تخلیق ہوئی تھی اور سارے جاندار بول سکتے تھے، فاختہ کا ایک چاہنے والا تھا جس کا نام احمد عدوی تھا۔ فاختہ کا ایک چھوٹا سا بیٹا تھا خوبصورت پروں والا۔ وہ روز سورج کی روشنی سے بنی ہوئی ایک کنگھی سے اس کے پروں میں کنگھا کرتی تھی۔یہ کنگھی اسے بیٹے کی پیدائش کے دن ایک نجومی نے دی تھی اور کہا تھا کہ اس کو بہت حفاظت سے رکھے کیونکہ اس کنگھی سے اس کے بیٹے کی جان جڑی ہوئی ہے۔ فاختہ نے ایک پر کے نیچے یہ کنگھی چھپا لی اور دوسرے پر میں اپنے بچے کو لپٹا لیا۔ ایک شام احمد عدوی اس کے پاس رہنا چاہ رہا تھا مگر اس نے اس ڈر سے کہ کہیں وہ کنگھی نہ کھو دے، اس کے ساتھ وقت گزارنے سے انکار کر دیا۔فاختہ نے یہ کہہ کر اس کی بے عزتی کر دی کہ وہ کسی اور دنیا سے آیا ہے اور وہ خود کسی او ردنیا سے ہے، اور دونوں کو راست باز ہونا چاہیے۔ احمد عدوی کو بہت غصہ آیا مگر وہ اپنے جذبات چھپا گیا۔ ایک دن احمد عدوی نے اس سے سمندر کے کنارے تفریح کرنے کے لیے کہا اور وہ راضی ہو گئی۔ سمندر کے کنارے احمد نے ایک بڑا سا ہار نکالا اور اس سے کہا کہ وہ جھک جائے تاکہ وہ یہ ہار اس کے گلے میں ڈال سکے۔ اس نے کہنا مان لیا، اور احمد نے چوری سے وہ کنگھی اس کے پر کے نیچے سے نکال لی اور چپکے سے سمندر میں پھینک دی۔ جب وہ گھر واپس لوٹی تو اپنے بیٹے کو قریب المرگ پایا۔ اس نے بیٹے کے چاروں طرف اپنے پنکھ پھڑپھڑائے تو یہ دیکھ کر خوفزدہ ہو گی کہ کنگھی غائب ہے۔ وہ احمد کے پاس بھاگی، مگر وہ وہاں نہیں تھا۔ وہ اپنے بیٹے کے پاس واپس پہنچی تو وہ ختم ہو چکا تھا۔ جب سے ہر چیز بولتی ہے مگر فاختہ نہیں بولتی، وہ صرف روتی ہے۔‘‘
وہ آگے جھکی اور اپنے روکھے، الجھے بال نوچنے لگی جو دبیز نقاب میں چھپے ہوئے تھے۔ اس نے سرگوشی کی ’’فاختہ ایک عورت ہے‘‘۔
میری ساتھی اٹھ کھڑی ہوئی، اور اپنی آنکھوں تک ہاتھ لے گئی جیسے وہ ایک خواب دیکھ رہی تھی۔ اس نے کہا ’’اب مجھے پتہ چلا۔‘‘
میں نے چاروں طرف دیکھا۔ کمرہ تقریباً خالی ہو چکا تھا۔ کلینک بند ہو گیا تھا اور عورتیں جا رہی تھیں۔ میں ان کے پیچھے کہتے ہوئے چل پڑی ’’فاختہ ایک عورت ہے۔‘‘