رابندر ناتھ ٹیگور

رابندر ناتھ ٹیگور

شاعر

    شب منور تھی۔ روشن ستاروں میں پورن ماشی کا چاند پوری آب و تاب سے جلوہ فگن تھا۔

    بھگوان وشنو سنگھاسن پر بیٹھے ہوئے خودبخود کہہ رہے تھے۔

    ’’سوچا تھا کہ انسان روئے زمین کی سب سے بہتر اور حسین مخلوق ہے۔ مگر آخر یہ غلط ثابت ہوا۔ کنول پھول جو باد نسیم کے خوشگوار جھونکوں سے جھوم رہا ہے۔ تمام جاندار ہستیوں سے بہت زیادہ خوبصو رت معلوم ہوتا ہے۔ اس کی دلکش گلابی پنکھڑیاں اس منور چاندنی میں اپنا جوبن سنبھال نہیں سکتیں، ان کی خوبصورت دلفریبی اور دلکشی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یہاں تک کہ میں خود اپنی نگاہوں کو اس سے ہٹانا نہیں چاہتا۔ کیا انسان میں اس کے بدلے کوئی چیز ہے؟ نہیں۔‘‘

    اس کے بعد ایک سرد آہ کھینچی اور کچھ دیر خاموش رہے، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کا تخیل انسانی دنیا میں پرواز کر رہا ہے۔ پھر ہونٹ تھرانے لگے۔ آواز پیدا ہوئی۔ وہ کہہ رہے تھے:

    ’’مگر ایسا ہونا کیوں ضروری ہے؟ مجھے اپنی قوت سے ایک نئی چیز پیدا کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اس لیے کہ وہ انسان کی خوشی اور راحت کا موجب بنے۔ تمام جاندار چیزوں میں کنول کی طرح خوبصورتی ہو۔ سرزمین و آسمان سب کی راحت ۔ سب کی تمنا۔

    چند سیکنڈ پھر خاموشی رہی۔

    ’’کنول تو ایک دوشیزہ کی شکل میں جا۔‘‘

    پانی میں ہلچل (کھلبلی) پیدا ہوئی۔ جیسے کوئی پرندہ نہا رہا ہو۔ ایک لمحہ کے لیے جن بادلوں نے چاند کو چھپا لیا تھا وہ منتشر ہو گئے۔ چاندنی اور بھی نکھر گئی۔ اب ہر جانب بالکل خاموشی، کامل سناٹا تھا۔ ایک بار پانی میں پھر مدوجزر پیدا ہوا۔ کنول ایک عجیب دلکش انسانی شکل میں کھڑا تھا، وہ کمال حسین عورت تھی۔ دیوتاؤں نے دیکھا تو محو حیرت ہو گئے، ایسی پر فریب شکل کسی نے پیشتر نہ دیکھی تھی۔ حسینہ کو مخاطب کرتے ہوئے بھگوان نے کہا:

    ’’پہلےتو کنول پھول تھی۔ اور اب میرے خیالات کا پھول، بولو کچھ کہوں۔‘‘

    دوشیزہ کے یاقوتی ہونٹ پھڑپھڑائے پھر کچھ آواز پیدا ہوئی، ٹھیک ویسی جیسے کنول کی پنکھڑیاں ہوا میں بج رہی ہوں۔ آہستہ آہستہ وہ آواز بالکل انسانی بن گی۔ وہ کہہ رہی تھی۔

    ’’بھگوان! آپ نے مجھ پر بڑا کرم کیا ہے۔ مجھے جاندار ہستی میں تبدیل کر دیا ہے۔ اب مجھے کہاں رہنے کا حکم ہے؟ کیونکہ میری فطرت میں ہمیشہ خوف قائم رہا ہے۔ جب میں کنول تھی تو ہوا کے تند جھونکوں سے گھبرا جاتی تھی۔ اور اسی وقت اپنی آنکھیں بند کر لیتی تھی۔ برق اور آندھی سے دہشت زدہ ہو جاتی تھی یا دل کی گرج سے دل گھبراتا تھا۔ اس لیے اپنی فطرت کے مطابق اب بھی زمین سے گھبراتی ہوں۔ مجھے کسی موزوں جگہ رہنے کا حکم دیجیے۔‘‘

    بھگوان نے چند سیکنڈ آسمان کی طرف دیکھا۔ ستارے آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔ ایسے معلوم ہو رہا تھا۔ جیسے وہ کسی گہری سوچ میں ہیں۔ آخر بولے۔

    ’’کیا پہاڑ کی چوٹی پر رہنا پسند کرو گی؟‘‘

    ’’بالکل نہیں۔‘‘

    ’’کیوں؟‘‘

    ’’وہاں برف کی خون جمادینے والی ٹھنڈک ہے۔ میں سردی سے بہت دور رہنا چاہتی ہوں۔‘‘

    ’’اچھا میں نے سمندر کی تہہ میں ایک بلوری محل تعمیر کروایا ہے۔ کیا وہاں رہو گی؟‘‘

    ’’مہاراج! میرا وہی جواب ہے۔‘‘

    ’’وجہ؟‘‘

    ’’سمندر کی تہہ نہایت خوفناک اور خطرناک جانوروں کا مسکن ہے۔ اس لیے میں گھبراتی ہوں۔‘‘

    ’’مگر تم توبلوری محل میں رہو گی۔‘‘

    ’’آپ جانتے ہیں کہ شیشہ سے ہر چیز صاف طور پر نظر آتی ہے کیا وہ جانور مجھ سے پوشیدہ رہیں گے؟‘‘

    ’’ہاں خوب یاد آیا۔ میرا خیال ہے تمہیں سنسان بیابان میں جہاں انسان، حیوان، چرند، پرند کوئی دکھائی نہ دیتا ہو، جہاں تمہیں کسی چیز کا خوف نہ ہو وہاں رکھا جائے۔

    ’’میں آپ کو کیا جواب دوں۔ آپ دانا ہیں، سمجھ دار ہیں، مگر پھر بھی بالکل نادان بننا چاہتے ہیں۔‘‘

    ’’وجہ؟‘‘

    ’’کیا آپ نہیں سوچتے کہ وہاں کی خوفناک طوفانی آندھی کو بجلی کی پر زور کڑک کو، بارش کی خوفناک صدا کو ، اور پھر موت ایسی خاموشی کو میں کیسے برداشت کر سکوں گی؟ میرا یہ ننھا سا دل کانپ جائے گا؟‘‘

    ’’تو پھر تمہارے لیے کون سی جگہ تجویز کی جائے؟‘‘

    ’’مجھ سے بہتر آپ جانتے ہیں۔تینوں لوک کی خبر آپ کو ہے۔ میں تو آپ کے سامنے بالکل انجان ہوں۔‘‘

    ’’خیر یہی سہی، تمہارے لیے ہمالیہ کی ایک تاریک غار بہت اچھی رہے گی۔ میرے خیال میں وہاں تمہیں کسی قسم کا خدشہ نہیں ، خوف نہیں بالکل تنہائی اور ڈر سے دور ہے۔‘‘

    ’’یہ آپ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ وہاں میرے لیے خوف نہیں؟ اس مسلسل خوفناک اندھیرے کو میں کیسے برداشت کر سکتی ہوں۔ شاید وہاں دم گھٹ کر چیخ مار کر جان دے دینا پڑے اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ کیا میرانازک دل اس قدر ہیبت ناک تاریکی کو برداشت کرے گا۔‘‘

    بھگوان اس عجیب و غریب سوالات و جوابات سے گھبرا کر ایک چٹان پر بیٹھ گئے اور منہ میں انگلی ڈال کر کسی گہری سوچ میں نظر آنے لگے۔ اس وقت تینوں لوک ان کے سامنے سے گزر رہے تھے۔ وہی دوشیزہ سر جھکائے سہمی ہوئی زمین کی طرف نگاہ کیے بازو لٹکائے ان کے سامنے کھڑی تھی۔ ایک ایک کرکے تمام چیزیں فلم کی طرح ان کی آنکھوں کے آگے گزر رہی تھی۔ جنگل، پہاڑ، دریا، آسمان، سمندر، آبادی، ویرانہ، باغ، جنت، دوزخ، غرضیکہ سب کچھ انہوں نے دیکھا۔

    کئی گھنٹے گزر گئے، صبح کی سفیدی نمودار ہوئی۔ مشرق کی طرف سے سنہری کرنیں اونچی ہونے لگیں۔ تالاب کا پانی ، جنگل کے سبز درخت ،بانس کے لمبے لمبے پتے تمام سنہری روشنی سے منور ہو گئے۔ بگلے، ہنس، سارس پانی میں کھیلنے لگے۔مور او رکوئل جنگل میں شور مچانے لگے۔ ہر طرف سورج کی آمد کی خبر ہو گئی۔

    اسی وقت ساز کے بجنے کی آواز سنائی دی۔ ساتھ ہی ایک شیریں نغمہ شروع ہو گیا۔ وشنو ابھی تک محو تخیل تھا۔ یکایک چونک پڑے اور بولے۔

    ’’شاعر سورج کو پرنام کرنے آیا ہے۔‘‘

    چندے انتظار کے بعد شاعر نمودار ہوا۔ ایک عجیب سی انسانی شکل دیکھ کر اس کا ساز بجنا بند ہو گیا۔ ستار زمین پر گر پڑی۔ دونوں ہاتھ اٹھے کے اٹھے رہ گئے۔ وہ کھڑا محو حیرت دیکھتا رہا۔ ایسے معلوم ہو رہا تھا جیسے کسی نے جادو کر دیا ہے اور اب یہ سحر تازیست قائم رہے گا۔ ایک پتھر کے بت کی طرح بالکل بے حس و حرکت کھڑا تھا۔ بھگوان نے اسے جھنجھوڑ کر پوچھا:

    ’’کیوں، خاموش کیوں ہو؟‘‘

    ’’میں نے آج محبت کی پر سحر زمین میں قدم رکھا ہے۔‘‘

    اس کے بعد شاعر کا گلہ رک گیا۔ اور وہ خاموش ہو گیا۔ بھگوان کا چہرہ بجلی کی طرح چمکا۔

    یکایک ان کے دماغ میں ایک خیال پیدا ہوا۔ اور انہوں نے کہا:

    ’’حسینہ تمہارے لیے مناسب جگہ کی تلاش تھی ، وہ مل گئی ہے۔‘‘

    ’’مگر مجھے بھی تو معلوم ہو۔‘‘

    ’’شاعر کا دل‘‘

    ’’جیسے آپ کی خوشی‘‘

    بھگوان نے شاعر کے دل کو آئینہ کی طرح شفاف کر دیا۔ دوشیزہ اپنی کمین گاہ میں داخل ہونے لگی۔ مگر جیسے ہی اس نے شاعر کے دل کی گہرائیوں میں جھانک کر دیکھا۔ اس کا چہرہ کانچ کی طرح سفید ہو گیا۔ دل پر ایک خوف طاری ہوا، آنکھیں پتھرا گئیں، ہونٹ کانپ اٹھے۔ بھگوان نے دیکھا تو سوال کیا۔

    ’’کیوں یہاں بھی رہنا پسند نہیں؟ کس بات سے ڈرتی ہو؟‘‘

    ’’بھگوان آپ نے میرے لیے نہایت خطرناک، عجیب و غریب اور دل دہلا دینے والی جگہ تجویز کی ہے۔‘‘

    ’’کیسے؟‘‘

    ’’مہاراج! وہاں تو برف کی فلک بوس چوٹیاں، پانی کی پراسرار گہرائیاں، بیابانوں کی خوفناک طوفانی ہوائیں، بجلی کی کڑک، بادل کی گرج اور خوفناک غاروں کا اندھیرا سب کچھ موجود ہے۔ میں یہاں کیسے رہ سکوں گی؟ جس کو ایک چیز کا خوف ہو وہ ان بے شمار خوف پیدا کرنے والی چیزوں کا مقابلہ کس طرح کر سکتی ہے؟

    بھگوان ہنس دئیے۔ پھر کچھ سوچ کر جواب دیا:

    ’’گھبراؤ مت، وہاں برف ہو گی تو تم اسے ہوا کے گرم جھونکوں سے تبدیل کر دو گی۔ پانی کی گہرائیوں میں موتی بن جاؤ گی۔ بیابانوں میں خوشی اور مسرت بن کر کھیلو گی۔ تاریکی میں خورشید کی ٹھنڈی چاندنی پیدا کر دو گی۔‘‘

    اس وقت شاعر کے حواس قائم ہو چکے تھے۔ اس کی طاقت گویائی واپس آگئی تھی۔ بھگوان نے اس کی طرف دیکھ کر کہا ...... ’’یہ چیز تمہیں دیتا ہوں۔ تمہاری کائنات میں اضافہ کرنے کے لیے اسے لے جاؤ اور مسرت کی زندگی بسر کرو۔‘‘