مِیراؔ جی کا فکری نظام
بعض حکما کا کہنا ہے کہ تمام تخلیقی کام میں خیال کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ خود میرا جی کا بھی یہی مؤقف تھا۔ ”اس نظم میں“ کے دیباچے میں انہوں نے اس کی طرف یوں اشارہ کیا ہے:
”تازہ نظمیں چننے میں خیال کی طرف میری توجہ زیادہ رہتی تھی۔ کیونکہ خیال ہی میری نظر میں بنیادی شے ہے، اس میں اگر کوئی نئی بات نہیں، اس میں اگر کسی کو دو قدم آگے بڑھانے کی صلاحیت نہیں تو اظہار کی کوشش بے مصرف اور بے کار ہے۔“
(”اس نظم میں“صفحہ ۲۱)
یہی وجہ ہے کہ جب میرا جی نے حلقہ اربابِ ذوق میں نقد و نظر اور بحث کا نیا انداز تجویز کیا۔ تو اس میں پہلی بات یہ سمجھنے کی کوشش ہوتی تھی کہ اس نظم یا اس افسانے یا اس فن پارے کا بنیادی خیال کیا ہے اور اس امر کو متعین کرنے کے بعد ہی یہ مسئلہ زیرِ غور آتا تھا کہ اس خیال کو اظہار اور صورت کا جو پیکر دیا گیا ہے وہ کس حد تک موزوں اور مؤثر ہے۔
لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شاعری میں خیال اور ہیئت کا تعلق اس حد تک باہم پیوستگی کا ہے، اور اتنا پیچیدہ ہے علّت و معلول، داخل و خارج اور تقدم و تاخر کے لحاظ سے انہیں الگ الگ جانچنا بہت مشکل ہے۔ میرا جی اس مشکل سے پوری طرح آگاہ تھے۔ ان کی نظم ہے جس کا پہلا مصرعہ یوں تھا:-
”لفظ اوّل ہیں معنی ہیں مقدم، کیا خبر“
اور پوری نظم جو ان کے کسی مطبوعے میں نہیں ملی، اسی موضوع سے متعلق ہے کہ خیال اور ہیئت، معنی اور لفظ، ایک دوسرے میں اس طرح نفوذ کیے ہوئے ہیں کہ ان کو الگ الگ کرنا ممکن نہیں ہے۔
بہرحال، خیال اور ہیئت کی باہم پیوستگی کے باوصف ان پر الگ الگ بات ہوتی ہے اور ہوتی رہے گی۔ ارسطو سے لے کر ایلیٹ تک ادبی تنقید کا بہت بڑا حصہ خیال اور ہیئت کی اسی طرح کی الگ الگ چھان بین پر مشتمل ہے۔ شاعرانہ خیال یا تجربے یا مواد کا تانا بانا انسان کی حسیاتی معلومات Sense Data پر مشتمل ہوتا ہے۔ اپنی ان حسیاتی معلومات کو شاعر ایک مخصوص اور وقیع صورت یعنی significant form میں تحلیل اور مسخر کرتا ہے جو فوری طور پر مؤثر بھی ہوتی ہے اور اپنے عہد کے حوالے سے علامتی حیثیت بھی رکھتی ہے۔ لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔
بعض نقادوں نے شاعروں کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک وہ جو اپنے کلام میں ایک کم و بیش مربوط اور مکمل نظامِ فکر کی تشکیل کرتے ہیں۔ انہیں فلسفیانہ شاعربھی کہا جاتا ہے اوردوسرے وہ جو محض حسیاتی یا جذباتی تجربات کے بے ربط اور غیر منضبط سلسلے پر اپنے تخلیقی عمل کی بنیاد رکھتے ہیں۔ انہیں بعض اوقات ”خالص شاعر“ کا نام دیا جاتا ہے اور بعض اوقات غیر فلسفیانہ یا غیر نظریاتی شاعر کہہ کر یاد کیا جاتا ہے۔ رومی، ڈانٹے اور اقبال کو، اور کسی حد تک غالب کو فلسفیانہ شاعروں کی صف میں شامل کیا جاتا ہے اور شیکسپیئر، نظیری، کیٹس اور میر تقی میرؔ کو غیر فلسفیانہ شاعروں میں شمار کیا جاتا ہے۔
مشکل یہ ہے کہ اس قسم کی حدبندیاں قائم کرنا توآسان ہے۔ لیکن انہیں دیر تک برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔ ذرا سی گہرائی میں جاکر پرکھا جائے تو سبھی شاعروں کو ایک رُخ سے فلسفیانہ اور دوسرے رُخ سے غیر فلسفیانہ قرار دیا جاسکتا ہے۔
لامحالہ تمام شاعرانہ تخلیقی عمل کی بنیاد حسیاتی اور جذباتی تجربات کے غیر مختتم سلسلے پر ہوتی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ہر شاعر کی کلّی شاعرانہ تجربے کے پیچھے خیالات و تصورات کے ایک مکمل نظام اور ایک ہمہ گیر فلسفیانہ نقطہئ نظر کا سراغ بھی ملتا ہے۔ ان معنوں میں اگر تمام شاعری فلسفیانہ نہیں ہوتی تو یقینا کسی نہ کسی، مثبت یا منفی انداز کے فلسفیانہ نقطہئ نظر پر دلالت ضرور کرتی ہے۔
یہی حال میرا جی کی شاعری کا بھی ہے۔ ہرچند کہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ وہ ایسی تمام شاعری کو رد کر دیتا تھا جس کی بنیاد کسی نظریاتی نظام پر ہوتی ہے۔ اسی طرح حلقہ اربابِ ذوق کے تشکیلی دور میں اس سے متعلق دوسرے شعراء کے بارے میں بھی کہا جاسکتا ہے کہ وہ ایک یا دوسرے فکری نظام سے وابستگی رکھتے تھے۔ چاہے وہ بھی میرا جی کی طرح بادی النظر میں تمام فکری نظاموں سے آزاد دکھائی دیتے ہوں۔ یہی حال ہمارے شاعروں کا رہا ہے۔
ہمارے کلاسیکی ادب میں، یعنی فارسی اور اردو کے روایتی ادب میں ایک مکمل فکری نظام تمام ادیبوں کی ذہنی فضا کے طور پر معاشرے میں موجود تھا۔ کائنات کیا ہے؟ انسان کا اس سے کیا تعلق ہے؟ انسان اور کائنات کی حدود کس طرح متعین ہوتی ہیں؟ ایسے سوالوں کا جواب کسی ادیب یا کسی بھی عام شخص کے لیے مشکل نہ تھا۔ کائنات کی آفرینش، انسان کا ظہور، اس کے مقسوم کی ترکیب، اس کی نجات کی راہیں، ایک مربوط انسانی تاریخ اور قابلِ فہم اخلاقی اور معاشرتی نظام زمانہ وسطیٰ کے انسانوں کی ذہنی آسودگی اور صحت کا ضامن تھا۔ انہیں اپنے تجربات کو سمجھنے سمجھانے کے لیے کوئی دقت پیش نہیں آتی تھی۔ شاعر کو کلام کی مبادیات کے ساتھ ساتھ کائنات کا ایک تصور بھی مل جاتا تھا۔ جس سے وہ اپنے ذاتی تجربات کی کڑیاں جوڑ سکتا تھا۔
ڈانٹے نے جنت میں اپنی مسرت آگیں کیفیت کو یوں بیان کیا ہے:-
اس نور کی گہرائی میں مَیں نے
کائنات کے اوراقِ پریشاں کو یکجا دیکھا
جنہیں محبت نے ایک ہی جلد میں شیرازہ بند کر رکھا تھا۔
اشیاء اور حوادث اور ان کے آپس کے تعلقات
جیسے گھل مل کر ایک ہو گئے ہوں، کیونکہ میری نظر کے سامنے
صرف ایک پاک شعلہئ فروزاں ہی تھا۔
کسی بھی معاشرے میں افراد کی ذہنی آسودگی اور صحت کا ایک پہلو باہم مربوط اور مکمل ایسا فکری نظام ہوتا ہے جس میں انسان اور کائنات کے باہمی تعلقات کا ایک قابلِ فہم نقشہ انہیں اپنے مقام اور حقوق و فرائض اور امکانات سے آگاہی دیتا رہے، ان کے تجربات کے اوراقِ پریشاں کو شیرازہ بند کرے اور ان کی راہوں کو روشن کرنے کے لیے ایک شعلہئ فروزاں کی مثال ہو۔
ڈانٹے کا یہ تجربہ زمانہ وسطیٰ میں مشرق اور مغرب کے ہر باشعور انسان کی ذات کا ایک لازمی جزو ہے، یہ ضروری نہیں کہ ہرادیب نے اس کے متعلق لکھابھی ہو، لیکن ہر ادیب کی شخصیت اسی سے یکجا ہوتی تھی اور اسی شیرازہ بندی کی بدولت اسے تخلیقی عمل کی آزادی ہوتی تھی۔ جس کے ذریعے وہ اپنے تمام حسیاتی، جذباتی اور روحانی پیکروں کا بیان بھی کرسکتا تھا۔
تخلیقی کام کے لیے شخصیت کی اس قسم کی تنظیم لازمی ہے۔
یہی حال تمام انسانوں کا ہے جو کسی نہ کسی معاشرے کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں۔ تمام انسانوں کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ حقیقت کے ایک کلی تصور کا شعور رکھتے ہوں۔ ان کے ذہن میں کائنات کا ایک مکمل نقش موجود ہو جس کی تشکیل ایسی آفاقی صداقتوں اور عالمگیر سچائیوں سے ہوئی ہو جن کے حوالے سے وہ اپنے معاشرتی عوامل اور احوال کے بارے میں عمومی رائے قائم کر سکیں اور ان کے حسن و قبح کا محاکمہ کرسکیں۔ یہ ایک ایسی معاشرتی ضرورت ہے جس کے بغیر معاشرے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور معاشرہ بجائے خود اس حد تک حیاتِ انسانی کا لازمہ بن چکا ہے کہ اسے معاشرتی ضرورت سے آگے جاکر ایک حیاتیاتی ضرورت بھی سمجھا جاسکتا ہے۔
معاشرے افراد کے ہونے کی حیثیت سے اس طرح کا حقیقت کا کلّی تصور، ایک منظم اور مربوط کائنات کا مکمل نقش انسانوں کے لیے ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ دوسرے انسانوں کے ساتھ اپنے تعلقات میں ربط ضبط قائم رکھ سکیں۔ بلکہ ان کو اس کی ضرورت اس لیے بھی پڑتی ہے کہ وہ خود اپنے ساتھ اپنے تعلقات میں ربط قائم رکھ سکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انفرادی ذہن انسانی کی صحت کا انحصار اسی قسم کے ایک مکمل تصورِ کائنات اور شیرازہئ حیات کی طرح کی تنظیم پر ہوتا ہے۔
لہٰذا اخلاقی تصورات، فلسفیانہ یا مابعد الطبیعاتی فکر کا ہی پھیلاوا ہوتے ہیں، اور معاشرتی اقدار معنیئ وجود کی وسعت بن جاتی ہیں۔ ماضی کی طرح حال میں بھی وجود کا تصور کون و مکاں کے تصور کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ کائنات کیسے وجود میں آئی؟ اس کی زندگی کا سرچشمہ کہاں ہے؟ اس کا انجام کیسے ہوگا؟ انسان اس کے اندر کہاں سے آ گیا؟ ایک فعال وجود کی حیثیت سے اس کا اس سے کیا تعلق ہے؟ اور ماضی، حال اور شاید مستقبل میں تسلسل رکھنے والی نوع کی حیثیت سے اس کی کیا کیفیت ہے؟ انسان آزاد ہے یا مجبور؟ اس کا خدا کے ساتھ کیا رشتہ ہے؟ اور کائنات کی کلیّت اور مظاہر کی مطلیقیّت کے ساتھ اسے کیا مناسبت ہے؟ کیا کائنات مطلیقیّت قائم بالذات ہے یا کسی ماورائی ہستیئ مطلق کا پھیلاؤ ہے؟ کیا ماورائی وجود اشیاء میں ظاہر ہوتا ہے؟ یا ان سے یکسر الگ رہتا ہے؟ اس کا ان سے تعلق کس وسیلے سے ہوتا ہے؟ کسی حسّیاتی عمل کے ذریعے، یا انعکاس کے طور پر یا وجدانی انکشاف کی صورت میں؟
ممکن ہے یہ کہا جائے کہ میں خواہ مخواہ اتنی کھینچ تان کرکے ایک امرِ محال کو ممکن بنانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ یعنی میرا جی، جو ایک مانا ہوا جنس نگار ہے، ایک صوفی بنا کر حقیقتِ کلّی کے ساتھ منسلک کر دوں؟ حالانکہ شاعرانہ سطح پر، اور انسانی سطح پر بھی اسے ایسے سوالات سے کوئی علاقہ نہ تھا۔
بدقسمتی سے ہم نے میرا جی سے متعلق ابھی تک کوئی سنجیدہ تنقیدی جائزہ مرتب کرنے کی ضرورت کا احساس نہیں کیا۔ حالانکہ جدید ادب کے سلسلے میں اس کی چند در چند خدمات کے پیشِ نظر اتنا تو کیا جا سکتا تھا کہ اس کے بارے میں جو عام غلط فہمیاں پھیلائی گئی ہیں ان کا کسی طرح سے ازالہ کر سکیں اور یہ کوئی اتنا مشکل کام نہیں ہے۔
یہ فریضہ اس لیے بھی اہم بن جاتا ہے کہ ادب ِاردو کے پروفیسروں کی یہ عادت پکی ہو چکی ہے کہ وہ میرا جی کے بارے میں اور کچھ کریں نہ کریں، اسے ایک ایسے درندے کے طور پر ضرور پیش کریں گے، جو اپنی زندگی میں سوائے جنسی راہ روی کے اور کوئی قابلِ ذکر خصوصیت نہیں رکھتا تھا۔ اور اس کی شاعری اس کے اسی طرح کے تجربات کا مجموعہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی شاعری کا ایک ہی موضوع ہے۔ اور وہ ہے عورت۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ میرا جی کی شاعری کا موضوع جنس یا عورت نہیں ہے بلکہ محبت اور اس کے وہ مظاہر ہیں جن کو اس نے اپنی سوسائٹی میں مروج دیکھا تھا۔ اور یہ ایسا موضوع ہے جس کو اپنا موضوعِ سخن بنانے کے جرم کا ارتکاب ماضی اور حال کے تمام شاعروں سے ہوچکا ہے۔
لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ میرا جی کے بارے میں پیشہ ور نقادوں نے یہ حقیقت بالکل بھلا رکھی ہے کہ اسے وجود مطلق یا خدا کے تصور کے بارے میں زندگی بھر بڑا گہرا تجسس رہا تھا۔ اس کی ذہنی فضا ایک جدید انسان کی تھی جو حیات و کائنات کے بارے میں جدید سائنسی انکشافات کی روشنی میں غور و فکر کرنے کا عادی تھا۔ اپنے ہم عصروں کی نسبت وہ جدید مادّی علوم کے نقطہئ نظر سے زیادہ ہم آہنگ تھا۔ ایک ایسے ذہن کے انسان کے لیے وجود مطلق کا تصور رکھنا ایک امرِ محال سمجھا جاتا ہے، لیکن سب جانتے ہیں کہ کئی بڑے بڑے جدید سائنس دانوں کے شعور کی آخری سرحدیں اپنی مادیت کے باوجود ایک متصوفانہ ماورائیت سے جڑی ہوئی ہیں اور اس لیے ڈبلیو ایچ-آڈن کے الفاظ میں انہیں ”مادیتی صوفی“ materialistic mystic کا نام دیا جاسکتا ہے۔ میرا جی کا شعور بھی مادیت اور ماورائیت کے اسی طرح کے مرکب سے عبارت تھا۔ اس سلسلے میں اس کی شاعری سے کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ لیکن سب سے واضح مثال وہ نظم ہے جس کا عنوان ”خدا“ ہے اور جو اس کی کتاب ”تین رنگ“ میں شامل ہے۔
میں نے کب دیکھاتجھے روحِ ابد؟
ان گنت گہرے خیالوں میں ہے تیرا مرقد۔
صبح کا، شام کا نظارہ ہے
ذوق نظارہ نہیں چشمِ گداگر کو مگر
میں نے کب جانا تجھے روحِ ابد؟
راگ ہے تو، پہ مجھے ذوقِ سماعت کب ہے۔
مادیت کا ہے مرہون مرا ذہن، مجھے
چھو کے معلوم یہ ہو سکتا ہے شیریں ہے ثمر
اور جب پھول کھلے اس کی مہک اُڑتی ہے
اپنی ہی آنکھ ہے، اور اپنی سمجھ، کس کو کہیں۔۔۔ تو مجرم
میں نے کب سمجھا تجھے روحِ ابد؟
خشک مٹی تھی مگر چشمِ زدن میں جاگی
اسے بے تاب ہوا لے کے اُڑی
پھر کنارہ نہ رہا، کوئی کنارہ نہ رہا
بن گیا عرصہئ آفاق نشانِ منزل
زور سے گھومتے پہیے کی طرح
ان گنت گہرے خیال ایک ہوئے
ایک آئینہ بنا
جس میں ہر شخص کو اپنی تصویر
اپنے ہی رنگ میں اک لمحہ دکھائی دی تھی
ایک لمحے کے لیے
بن گیا عرصہئ آفاق نشانِ منزل
میں نے دیکھا ہے تجھے روحِ ابد
ایک تصویر ہے شب رنگ، مہیب
در معبد پہ لرز اُٹھے ہر ایک کے پاؤں
ہاتھ ملتے ہوئے پیشانی تک آئے دونوں
خوف سے ایک ہوئے
میں تجھے جان گیا روحِ ابد
تو تصور کی تمازت کے سوا کچھ بھی نہیں
(چشمِ ظاہر کے لیے خوف کا سنگیں مرقد)
اورمرے دل کی حقیقت کے سوا کچھ بھی نہیں
اور مرے دل میں محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
حیرت کی بات ہے کہ انسان اور حقیقت ِ مطلق کے بارے میں اتنی واضح نظم اس شاعر کی تخلیق ہے جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اس کی کوئی نظم سمجھ میں نہیں آتی۔ لیکن اور بھی حیرت کی بات یہ ہے کہ اس میں نہ صرف خیال اور ہیئت کی ہم آہنگی اتنی مکمل ہے کہ کسی طرح کے تشریحی بیان کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ خیال پختگی اور گہرائی کی ان سطحوں تک پہنچا ہوا ہے جہاں اس کا اظہار خودبخود سہل ممتنع کی شفاف آئینہ صفت صورت اختیار کر لیتا ہے۔ فلسفیانہ تصور کی یہ منزل اتنی آسانی سے ہاتھ نہیں آتی۔
خدا کے بطور محبت کے اس تصور میں، جو میرا جی کی کشمکشِ حیات کے آخری دور کی نشانی ہے، ہمیں روایتی صوفی خیالات کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ لیکن اس تصور کو اس کے پہلے زمانے میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ ”پابند نظمیں“ جس مجموعے کا نام ہے، وہ مختار صدیقی کے قول کے مطابق میرا جی کے دہلی کے زمانے میں ہی مرتب ہوچکا تھا۔ گو اس کے چھپنے کی نوبت بیس سال بعد تک نہیں آئی تھی، اس مجموعے میں اس کی ایک نظم ”صدا بصحرا“ ملاحظہ کیجیے:-
مجھے لا کے شہرِ بقا سے کیوں یہاں چھوڑ رکھا ہے تو نے یوں؟
میرے دل میں سلسلہئ جنوں میں یہ حال جا کے کسے کہوں؟
یہ دلِ ملول و بہ چشمِ نمہوں فراق میں ترے سر بہ خم
مجھے ہر نفس ہے پیامِ غمیونہی عمر گھٹتی ہے دم بہ دم
لیکن اس سے پہلے کہ ہم شاعری کا اس صوفیانہ پہلو سے تجزیہ کریں، یہ واضح کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کس زمانے میں اپنے ماحول کے شدید ترین اثرات جذب کیے ہیں۔ وہ زمانہ اس دور سے یکسر مختلف تھا، جو اقبال کے پس منظر کے طور پر دیکھا گیا تھا۔ میرا جی اس زمانے میں جوانی کی منزل تک پہنچا تھا، جب ہمارے معاشرے میں پہلی جنگِ عظیم اور اس کے بعد کی شکست و ریخت کی وجہ سے کُلّی حقیقت کو سمجھنے کے بالکل نئے پیمانے مروّج ہو چکے تھے۔ چونکہ ہم نے ابھی تک پچھلے دو سو برس کی اپنی ثقافتی تاریخ مرتب کرنے کی کوشش ہی نہیں کی اس لیے ہم اس غلط فہمی میں رہے ہیں کہ میرا جی کا ذہنی پس منظر وہی تھا جو اقبال کا تھا۔ جواب ہمارا ہے اس غلط فہمی کی وجہ سے سارے زمانے کے بارے میں اور اس کی شاعری کے بارے میں، اقبال کی شاعری اور اس کے بعد آنے والوں کی شاعری کے بارے میں ہمارے تصورات گڈمڈ ہوگئے ہیں۔
ٍٍاقبال انیسویں صدی کے اواخر میں جوان ہو رہاتھا، وہ مسلم معاشرے کے ایک ایسے ذہنی تناظر میں زندہ تھا، جس میں ایرانی تصوف زندگی کی گہرائیوں تک پہنچا ہوا تھا اور اس کے ساتھ کلامی فلسفہ نہ صرف مذہبِ اسلام کے پورے نظامِ عقائد کی ہمہ گیری کے ساتھ موجود تھا بلکہ ایک مکمل تصورِ کائنات بھی ذہنوں پر حاوی تھا، جو ہمارے سارے معاشرے کے لیے یکساں اہمیت کا حامل تھا۔ مسلم سوسائٹی کے تار و پود پھیلے ہوئے لاتعداد صوفی سلسلے، اور ان گنت مقامی راہنما، جو اپنی خانقاہوں اور مدرسوں سے کسانوں، اہلِ حرفہ، تاجروں، درمیانے طبقے کے پڑھے لکھے پیشہ ور افراد، شہری رئیسوں اور زرعی زمینداروں، غرض بلند و پست سب ہی کی زندگیوں پر اثرانداز ہوتے رہتے تھے۔ روحانی اور مادی دونوں ہی منظم اور مربوط کائناتوں کے جو تصورات ابن العربی اور رومی کی کتابوں میں، اور ان کتابوں پر ضخیم شرحوں اور تبصروں میں پائے جاتے تھے، وہ نہ صرف ہمارے قومی ورثے کی حیثیت رکھتے تھے بلکہ ایسے تصورات تھے جن کے سوا کوئی دوسرے تصورات ہمارے عوام اور خواص کے لیے موجود ہی نہیں تھے۔
کسی کو احساس نہیں تھا کہ کلاسیکی صوفی کتابوں میں مادی کائنات کی جو تصویر پیش کی گئی تھی وہ یونانی حکما خصوصاً Ptolemyٹالمی اور Plotinusپلوٹینس کی نوفلاطونی فلاسفی کی مرہونِ منت تھی نہ کسی کے ذہن میں یہ خیال آسکا کہ صوفی کلاسیکی روایات میں روحانی حقیقت کے جو مدارج پیش کیے گئے تھے، وہ ازمنہ وسطیٰ کی جاگیردارانہ شہنشاہیوں کے سیاسی نظام میں درباری درجات پر مبنی تھے نہ کسی کو یہ فکر تھی کہ ان تصورات کا مادی اور روحانی دنیا میں اخوت و مساوات کے ان خیالات سے کوئی علاقہ نہ تھا، جو دین اسلام نے اپنے آغاز کے زمانے میں پیش کیے تھے۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ یہی صوفی اور کلامی تصورِ حیات و کائنات، روحانی و مادی دونوں سطح پر ہمارے عوام اور خواص کا تنہا تصورِ کائنات تھا اس کے علاوہ ان کے ذہنوں میں کائنات کا کوئی تصور تھا ہی نہیں نہ ہوسکتا تھا۔
اس مصنوعی اور پیش پاافتادہ تصوراتی نظام کے خلاف پہلی مؤثر آواز ہمارے یہاں اقبال کی تھی۔ حالانکہ آغاز اقبال کا بھی اسی نظام کے اندر سے ہوا تھا۔
اقبال اس تصور کا پروردہ تھا۔ لیکن اس نے اسے رد کر دیا یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ پیدا تو اسی کے اندر ہوا لیکن پھل پھول کر اس کی حدود سے باہر نکل گیا اور ایک نئی فضا میں برگ و بار نکلے۔
اس کے لیے ابن عربی سے زیادہ رومی قابلِ توجہ رہا۔ اسی لیے اس نے رومی کو اپنا مرشد بنایا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ابن عربی میں ساری توجہ وحدت الوجود کے فلسفے پر ہے، جس کا لازمی نتیجہ انفرادی اور نوعی جبریت کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ اقبال کے لیے بنیادی سوال انسانی ذات کی نشوونما کا تھا، جو جبریت کی فضا میں ناممکن ہے۔ رومی کے یہاں انسانی ذات کا ارتقاء پورے کائناتی ارتقائی نظام کا حصہ بن جاتا ہے۔ اس لیے قبال نے رومی کے روحانی خیالات کو اپنے فلسفے کاآغاز بنا لیا۔ اور اس وسیلے سے مروجہ صوفی تصورِ کائنات کے بڑے حصے کے خلاف بغاوت کی۔ شیخ احمد سر ہندی کے ساتھ اقبال کی عقیدت کا بھی یہی سبب تھا کہ انہوں نے وحدت الوجود کو رد کر کے وحدت الشہود کا ایسا تصور قائم کیا جس کے مطابق انسانی آزادیئ عمل کا اثبات کیا جاسکتا ہے۔
لیکن ہر چند کہ اقبال نے صوفی تصور کائنات کے بڑے حصے کے خلاف بغاوت کی تھی پھر بھی وہ اس سے متعلق رہا۔ جب وہ اس تصور سے آگے نکل جانے میں کامیاب ہوا تو ساتھ ہی ہندی مسلمانوں کا پورا معاشرہ بھی یا کم از کم اس کے پڑھے لکھے طبقات کا معاشرہ اس قدیمی اور روایتی تصورِ کائنات سے آگے نکل گیا۔
جب ہم پہلی جنگِ عظیم کے بعد کے زمانے میں پہنچتے ہیں تو ہمیں ایک ایسی نئی نسل سے واسطہ پڑتا ہے۔ جسے اس روایتی تصورِ کائنات کی ہوا بھی نہ لگی تھی۔ جس میں سے اقبال والی نسل کا آغاز ہوا تھا۔ یا کم از کم اس کی اتنی کم ہوا لگی تھی کہ اس کا کوئی گہرا اثر اس کی سائیکی پر نہیں ہوا۔
مغربی تعلیم عام ہونے کی وجہ سے اس نسل میں رفتہ رفتہ روحانی اور مادی کائنات کے بارے میں بالکل مختلف خیالات رائج ہوگئے۔ جدید علم، جغرافیہ، علمِ طبقات الارض، جدید ہیئت اور کیمسٹری، حیاتیات اور خصوصاً نظریہ ارتقاء کے ذریعے سے جو خیالات ذہنوں میں آئے ان کا کوئی تعلق ٹالمی، پلوٹینس اور ابنِ عربی کے تصورات سے نہ تھا۔ ان بزرگوں کی روایتی کائنات ان نسلوں کے شعور کا حصہ ہی نہ بن سکتی تھی جنہیں کیپلر، کانٹ، نیوٹن اور ڈارون کے خیالات پر مبنی ایک نیا اور بالکل مختلف تصورِ کائنات ملا تھا۔
لیکن اس کے علاوہ ایک اور بھی فرق تھا جو پہلی جنگِ عظیم کے بعد کی نسلوں کو اقبال کی نسل سے ممیز کرتا ہے۔ یہاں سب سے بڑی ذہنی رو وہ عقلیت کی تحریک ہے جس کے علمبرداروں میں نیاز فتح پوری، مرزا سودا، حکیم عبدالولی، عبدالحلیم شرر اور عبد الرحمن بجنوری وغیرہ تھے۔ انگریزی زبان کے ذریعے انہوں نے کئی دوسرے مذاہب اور نظام ہائے فکر کے ساتھ واقفیت حاصل کی تھی۔ مثلاً ہندو مت، بدھ مت، دین زرتشت، ماؤ ازم وغیرہ۔
ساتھ ہی ساتھ مغرب کے نئے فلسفوں نے بھی ان پر اثر کیا۔ لبرلزم، پریگمیٹیزم، مارکسزم وغیرہ۔ اس زمانے میں سب سے زیادہ شور نئی سائیکولوجی کا تھا جو بجائے خود ایک نئے فلسفیانہ نظام کی شکل اختیار کر رہی تھی۔ اور نوجوان ذہنوں کو دنیا بھر میں متاثر کر رہی تھی۔
متعدد پرانے اور نئے کائناتی تصورات کا یہ طوفان برصغیر کے باشندوں کے ذہنوں میں ایک الجھی ہوئی پریشان کن کش مکش کی صورت میں داخل ہوا۔ اجنبی تصورات کے اس بے ترتیب بھیڑ بھڑ کے میں ہم میرا جی کی شاعرانہ شخصیت کو نمو پاتے ہوئے دیکھتے ہیں۔
میرا جی سے میری ملاقات ۹۳۹۱ء میں اس وقت ہوئی جب قیوم نظر نے مجھے مزنگ اس کے گھر بھیجا۔ تاکہ میں اسے اپنے ساتھ لیکر مصری شاہ میں اختر ہوشیار پوری اور تابش صدیقی کے مکان پر لے آؤں، جہاں بزم داستاں گوئیاں کی میٹنگ ہونے والی تھی۔ جس وقت میں میرا جی کے گھر پہنچا تو اتفاق سے میرے ہاتھ میں علامہ اقبال کی کتابِ پیامِ مشرق تھی۔
اس پہلی ملاقات میں مجھے میرا جی کی باوقار شخصیت، اس کے طرزِ تکلّم کے تناؤ، اس کی نشست و برخاست کی بے تکلفی، اور اس کے نقطہ نظر کے تیکھے پن نے بہت متاثر کیا، جب میں نے اس سے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا تو اس نے بہت خوش خلقی سے مجھے کرسی پر بیٹھنے کا کہا اور خود اپنے لمبے چوڑے پلنگ پر چڑھ کر بیٹھ گیا اور پان بنانے لگا۔ وہ گھر سے نکلتے وقت آٹھ دس پان بنا کر ڈبیا میں رکھ لیا کرتا تھا۔ ”بس ذرا پان بنا لیں، پھر چلتے ہیں“ اس نے مجھ سے پوچھا کہ میں کیا کرتا ہوں، جب میں نے اسے بتایا کہ میں کالج میں پڑھتا ہوں، تو اس نے میرے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتاب کے متعلق سوال کیا۔ میں نے کسی قدر فخریہ انداز میں کتاب کا ٹائٹل اس کی طرف پھیرا تو اس نے بجائے دلچسپی یا مسرت کے اظہار کرنے میں ذرا توقف کیا اور پھر ”اونہہ“ کہہ کر پان بنانے میں مصروف ہو گیا۔
اب اقبال اس زمانے میں میری عمر کے لڑکوں کے لیے بہت ہی گہری جذباتی اہمیت رکھتا تھا۔ لیکن میرا جی نے اس کے متعلق کچھ ایسے تاثرات کا اظہار کیا جو میرے لیے صدمے کا باعث تھے اس کے نزدیک اقبال ایک ناقابلِ توجہ شاعر تھا جس کا ہمارے زمانے کی حقیقتوں سے کوئی گہرا تعلق نہیں تھا۔ اقبال کے بارے میں اس کے خیالات مروجہ تنقیدی نقطہ نظر کے بالکل مخالف تھے۔ میرا جی کے انوکھے نقطہئ نظر نے مجھے چونکا یا بھی اور غصہ بھی دلایا۔ لیکن اس کا مطلب میری سمجھ میں اس وقت آیا جب حلقہ اربابِ ذوق کی بحثا بحثی میں نئی اور پرانی بوطیقا کے فرق کی وضاحت ہوئی۔
نئے شاعروں کے لیے، جن میں ہمیں اس زمانے کے ابھرتے ہوئے شاعروں میں میرا جی، راشد، قیوم نظر، مختار صدیقی، اور یوسف ظفر نظر آتے ہیں۔ اقبال کو رد کرنے کا بنیادی سبب فلسفیانہ یا سیاسی نہیں تھا، بلکہ شاعرانہ تھا۔ یعنی انہیں اقبال کی بوطیقا سے ہمدردی نہیں تھی اور نہ ہو سکتی تھی۔
اقبال کی بوطیقا حالی کے خیالات پر استوار ہوئی تھی اس میں شاعرانہ اور تخلیقی عمل کا مقصد محض شاعری نہ تھا بلکہ اس سے گزر کر قوم کی بگڑی بنانا تھا۔ شاعری عمل کے لیے دردِ محبت کے معنی محض یہ تھے کہ وہ کس طرح قوم کو اس کی مشکلات سے نکلنے کا راستہ سمجھائے اور اسے آزادی اور ترقی کی راہوں پر گامزن ہونے میں مدد دے۔
نئے شاعروں کے سامنے انگریزی زبان کے ذریعے مہیا شدہ دنیا بھر کی پرانی اور نئی شاعری کے مجموعے تھے جو ان کو موضوع اور اسلوب اور طرزِ بیان کے مختلف اور گوناگوں انداز سجھاتے تھے۔ ان کے لیے حالی اور اقبال کی طرح اور ان کے انداز میں مقصدی شاعری کرنا شاعرانہ عمل کا محض ایک مخصوص پیرایہ تھا۔ شاعرانہ تجربے کے اور بہت سے پہلو تھے جن کو موضوعِ سخن بنایا جاسکتا تھا اور شاعرانہ طرزِ اظہار کے اور بہت سے اسلوب تھے، جنہیں برتا جاسکتا تھا ایک مشکل یہ تھی کہ قومی شاعری میں اقبال کی آواز اتنی بلند آہنگ تھی کہ اس کے بعد اس کی طرح کی شاعری، یا کسی اور طرح کی قومی شاعری میں کوئی کارِ نمایاں کر دکھانا محال تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال کے بعد مقصدی شاعری کرنے والے شاعروں کو مثلاً فیض کو اپنے لیے بہت ہی مختلف انداز اختیار کرنا پڑا۔
میرا جی کے لیے بھی موضوع اور اسلوب میں اقبال سے انحراف ویسی ہی ناگزیر عصری ضرورت تھی جیسی دوسرے شاعروں کے لیے تھی۔ وہ غالباً نئے شاعروں میں سب سے زیادہ پڑھا لکھا شخص تھا۔ جس نے دنیا بھر کی قدیم اور جدید شاعری کے مختلف انداز اپنے شعور میں سمو رکھے تھے۔ اپنے بارے میں جو مختصر نوٹ اس نے محمد حسن عسکری کے مرتب کردہ انتخاب کے لیے لکھا تھا۔ اس سے ہمیں اس شاعرانہ اور نقادانہ ذہنیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ جو اقبال کے بعد پیدا ہوئی، وہ لکھتا ہے:-
”مشاہدے کے لحاظ سے اگرچہ بحیثیت مجموعی زندگی کے ہر پہلو کی طرف میرے تجسس نے مجھے راغب کیا۔ لیکن موجودہ صدی کی بین الاقوامی کش مکش (سیاسی، سماجی اور اقتصادی) نے جو انتشار نوجوانوں میں پیدا کر دیا ہے، بالخصوص میرا مرکزِ نظر رہا اور آگے چل کر جدید نفسیات نے اس تمام پریشان خیالی کو جنسی رنگ دے دیا۔ مطالعے کے لحاظ سے اس زمانے میں نہ صرف مغربی (انگریزی اور فرانسیسی) ادب نے میری راہنمائی کی بلکہ مغربی تفکر اور سائنس نے بھی اثر کیا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مشرقی روایات اور صدیوں کے اثاثے سے بے گانگی رہی۔ ویشنو خیالات نے نہ صرف مذہبی لحاظ سے اپنا نقش چھوڑا، بلکہ اس کی ادبی روایات بھی کچھ اس انداز سے بروئے کار آئیں کہ دل و دماغ ایک جیتا جاگتا پرندہ بن کر رہ گیا۔ سرسری طور پر میں کہہ سکتا ہوں کہ مشرق سے مہارانی میرا بائی، چنڈی داس اور امروکے نے مجھ پر اثر کیا اور مغرب سے والٹ وٹمین، ڈی۔ایچ۔لارنس، سٹیفانے ملارمے اور چارلس بودیلیئر نے، مفکّرین میں سے چارلس ڈارون، سگمنڈ فرائیڈ، سر جیمز جینر، آئن سٹائن (جس کے نظریے میں نہیں سمجھ سکا)، ہیولاک ایلس اور رابندر ناتھ ٹیگور قابلِ ذکر ہیں۔ اردو شعراء کی فہرست یہ ہے: امیر خسرو، سید انشاء اللہ، میر تقی میرؔ، غالب، حفیظ جالندھری، عبدالرحمن بجنوری، مولوی عظمت اللہ خاں اور ڈاکٹر محمد دین تاثیر۔“
جن لوگوں سے، شاعروں اور مفکروں سے، میرا جی کا نوجوان ذہن اثر پذیر ہواان کی یہ ایک عجیب و غریب فہرست ہے۔ لیکن پھر خود میرا جی ایک نہایت عجیب و غریب شخص تھا۔ وہ بجائے خود ان تمام فکری، جذباتی، احساساتی اور نفسیاتی مرکبات اور تضادات کا مجموعہ تھا۔ جن کو وہ اپنے گرد و پیش جنگِ عظیم اول کے بعد اور ۹۲۹۱-۰۳۹۱ء کے عظیم اقتصادی بحران کے زمانے میں لاتعداد ہندی نوجوانوں کے اندر موجزن دیکھ رہا تھا۔
اپنے نہایت ہی منظم اور مربوط تصوراتی نظام اور اپنی منضبط شاعرانہ زندگی کے باوجود میرا جی کی طبیعت میں وہ انتشار موجود تھا۔ جو اس کے زمانے کے بہت سے دوسرے شاعروں اور ادیبوں کی زندگیوں میں پایا جاتا ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ یہی زمانہ مجاز لکھنوی، اختر شیرانی، منٹو، نیاز حیدر اور متعدد دوسرے اُردو ادیبوں کا زمانہ ہے۔ جنہیں ان کے ذہنی انتشار اور جذباتی ناآسودگی نے شراب کا عادی بنایا۔ حتیٰ کہ وہ صلاحیتوں سے پوری طرح فائدہ اٹھائے بغیر دنیا سے چل دئیے۔ بالکل میرا جی کی طرح۔
ہاں میرا جی میں ایک لحاظ سے ایک مختلف ذہنی روش بھی جاتی ہے، جس کی دوسرے ہم عصر ادیبوں میں کوئی نشانی نہیں ملتی۔ اس کے ذاتی عقائد میں ایک شدید متصوفانہ مذہبی رجحان پایا جاتا ہے۔ ہر چند کہ اسے عام روایتی انداز میں مذہبی قرار دینا ناممکن ہے۔ مگر اس کی شاعری کا ایک بڑا حصہ بلاشبہ ایک صوفیانہ درد و غم کا سراغ دیتا ہے جو انسانی روح کو اپنے گرد و پیش کی الجھنوں سے فارغ کر دیتا ہے۔ یہ رجحان میرا جی کی جذباتی ناآسودگی کی تلافی بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ لیکن میری رائے میں وہ جس طرح قدیم ہندوستانی ثقافت سے اپنا رشتہ جوڑنے کی کوشش میں شروع سے لگا ہوا تھا۔ اس کا تقاضا تھا کہ وہ اس میں ایسے تصورات اور نظریات کا اپنے لیے انتخاب کرے جن سے وہ بیک وقت ثقافتی اور جذباتی سطح پر آسودگی حاصل کر سکے۔ اس کی ذاتی تنہائی اور بے نوائی محض حیاتیاتی سطح پر نہیں تھی۔ بلکہ اس کا اصل مرکز وہ درد اور بیقراری تھی جو انسانی روح کو اپنے اصل سے علیحدہ ہونے کی وجہ سے گھیر لیتے ہیں اور جو زمانہ وسطیٰ کے ویشنو شاعروں -ودیاپتی، چنڈی داس اور میرا بائی- کی شاعری کا بنیادی جذبہ ہے۔
چنڈی داس کی شاعری کے بارے میں لکھتے ہوئے اس نے چند ایسی باتیں کہی ہیں جن سے میرا جی کے داخلی کرب کی اصلیت پر روشنی پڑتی ہے، وہ لکھتا ہے:-
”آج ہمیں والٹ وٹمین کی مفرد جمہوریت، اقبال کا فلسفہئ خودی، نطشے کا فوق الانسان اور مغرب کے جدید خیالات کے لحاظ سے انفرادیت کی ترقی ایک نئی چیز معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اسی ہندوستان میں آج سے پانچ سو سال پہلے بنگال کا پہلا شاعر چنڈی داس ایسے ہی خیالوں کے گیت گاتا رہا ہے۔ چنڈی داس کے ان گیتوں میں جن کا تعلق سہجیا مسلک سے ہے، ایک گیت ایسا بھی ہے جس میں ان خصوصیات کا ذکر ہے، جن کا ہونا ایک انسانِ کامل میں ضروری ہے۔ گویا وہ غالب ہی کی طرح یہ کہہ رہا ہے کہ:
”آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا“
ہم سب انسان انسان پکارتے ہیں لیکن بہت کم ہیں جو انسان کی حقیقی خصوصیات سے آگاہ ہیں، انسان عالمِ تخلیق کی روحِ زندہ ہے جو ہر تخلیق ہے اور ہمارے تخیل کو لبھانے والے بہترین اجزاء کا مرکب، ہم میں سے اکثر اس کے ظاہر کو دیکھ کر دھوکا کھا جاتے ہیں اور ان کی نگاہیں اس بھید تک نہیں پہنچ سکتیں جو انسانیت کی اصل بنیاد ہے، حقیقتاً محبت ہی انسا ن کو انسان بناتی ہے، اب خواہ ہم اس محبت کی دوا اور درد لا دوا سمجھ کر صرف عشق کہہ لیں، جس سے ہم نے زیست کا مزہ پایا۔
اس سلسلے میں میرا جی کی ایک نہایت ہی عجیب نظم کا حوالہ دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ جس کا تعلق انسان اور اس کے ارتقاء کے بارے میں مندرجہ بالا خصوصیات سے ہے۔ یعنی ”انسان عالمِ تخلیق کی روحِ زندہ ہے جو ہر تخلیق ہے۔“ یہ نظم غالباً ہیرو شیما کے بعد عالمگیر انسانی ہلاکت کے اندیشوں کے بارے میں ہے جن کا اظہار دنیا بھر کے دانش مندوں کی طرف سے پچھلی نصف صدی سے بار بار ہو رہا ہے۔ نظم کا عنوان ہی ”روحِ انسان کے اندیشے“ ہے۔ اور اس میں ایک آفاقی دہشت کے ماحول میں بھی انسانی مستقبل کے بارے میں ایسے رجائی خیالات کا اظہار ہے، جو میرا جی سے منسوب کرنا تعجب خیز معلوم ہوتا ہے:-
اس نظم کے کچھ بند اس طرح ہیں:-
”خیال موت کے مجھ کو ستا رہے ہیں کیوں؟
یہ سائے تیرہ و تاریک آ رہے ہیں کیوں؟
اور عقل و ہوش کو بے خود بنا رہے ہیں کیوں؟
کہ زندگی کا ابھی ہو نہیں چکا آغاز
ابھی ہزاروں برس اور آنے والے ہیں
مرے عروج و تنزّل کو لانے والے ہیں
ٍمجھے عجیب زمانے دکھانے والے ہیں
مجھے دکھائیں گے لاانتہا زمین کے راز
ابھی تو شامِ غمِ عشق ہے سحر ہوگی
ٍابھی تو شاخِ تفکر بھی بارور ہوگی
ابھی خیال کی وسعت کشادہ تر ہوگی
کہ لاکھوں نغمے ہیں دل میں لیے فضا کا ساز
یہ پست ہمت و دردانہ رنگ کیسے ہیں؟
یہ قلب کوہ میں گہرے سرنگ کیسے ہیں؟
یہ بحرِ فکر میں وحشی نہنگ کیسے ہیں؟
ابھی نہیں ہوئی پوری مری مہیب نماز
میرا جی کی تمام کش مکش اور جستجو کا مقصد جدید زمانے کے انتشار اور پریشاں خیالی کی سطح کے نیچے جاکر، نئے انسانی تجربے کی تہہ تک پہنچ کر جدید انسان کی روح کا سراغ لگانا تھا، جس کے بارے میں بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کلیتاً مفقود ہو چکی ہے۔
اس کی شاعری میں اصل مرکزی حیثیت اسی جستجو کو تھی، اس کی ذاتی مایوسیوں اور جذباتی ناآسودگیوں کا اس سے بہت کم تعلق تھا، اگر ”لب جوئے بار“ کو اس کی شاعری کا حاصل سمجھ کر بات کی جائے تو اس کے بنیادی مقاصد کا پتہ نہیں چل سکے گا اور پھر ”لب جوئے بار“ کے بارے میں جو کہا گیا ہے وہ تعبیر کی غلطی کا نتیجہ ہے، اصل میں اس نظم کا مفہوم وہ نہیں ہے جو میرا جی کے بدخواہوں کی طرف سے عام کیا گیا ہے۔ بہرحال میرا جی کی شاعری کے بارے میں، اس کے موضوع اور اسلوب کے بارے میں، سنجیدگی سے گفتگو کرنی ضروری ہے۔
(وائی۔ ایم۔ سی۔ اے ہال میں ۰۲ اکتوبر ۹۸۹۱ء کو پڑھا گیا)