آزاد نظم سے نثری نظم تک
آزاد نظموں کا یہ انتخاب اجتماع ضدین ہونے کی بجائے 1936 کے بعد تخلیق ہونے والی آزاد نظم اور 1960 کی نئی شاعری کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے کی کوشش ہے، کیونکہ شعرا کی ہر دو نسلوں میں ہر طرح کے تصوراتی اور اسلوبیاتی اختلاف کے باوجود ایک قدرِ مشترک شاعری اور ادب میں رجعت پسندی اور بے جا روایت پرستی کے خلاف احتجاج تھا۔ 1963 کی جدید شاعری میں ایک ترقی پسند اور غیر ترقی پسند دونوں طرح کے شاعر شامل تھے۔ ترقی پسند تحریک ایک منظم تحریک تھی جس کی نظریاتی وضاحت اس دور کے ادیبوں نے کی، ان کے برعکس غیر ترقی پسند شعرا کی نظمیں کسی ایک خاص ادبی تحریک کی پیداوار نہیں تھیں، غیر ترقی پسند شعرا کی ترکیب کچھ ڈھیلی ڈھالی اور غیر واضح تھی، تاہم یہ میرا جی اور ان کے رفقائے کار کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ ان شعرا کی کوئی نظریاتی اساس نہیں تھی تاہم انہوں نے شاعری کی تصوراتی فارمولیشن کی۔ البتہ میرا جی نے نئے اسلوب کی ضرورت پر دو تین مضمون لکھے۔ فیض کے کلیات شعر میں کل سات آزاد نظمیں ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فیض کو آزاد نظم کے فروغ میں دلچسپی نہیں تھی۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ فیض اردو غزل کے احساساتی دائرے میں ہمیشہ اپنے آپ کو زیادہ محفوظ تصور کرتے تھے۔ میرا جی اور راشد نے خصوصی طور پر آزاد نظم کو اظہار کا ذریعہ بنایا، انہوں نے اردو شاعری میں مسلسل تلازماتی عمل کے ذریعے ذاتِ انسانی کی ان جذباتی حالتوں کو پیش کیا جن کے اظہار میں پابند نظم کی ہیئت ایک رکاوٹ تھی۔ اردو میں پابند نظم بھی غزل کے زیرِ سایہ فروغ پاتی رہی ہے اور نظم گو شعرا نے غزل کے لسانی اور علامات کو نظم میں منتقل کرکے نظم اور غزل کے فاصلے کو کم کیا ہے۔
اردو شاعری میں نظم کی روایت محدود اور غیر مسلسل ہے۔ اردو کے نقادوں نے مثنوی یا منظوم قصے کو نظم کی ابتدائی شکل کہا ہے، اور اس طرح وہ اردو نظم کی روایت کو کھینچ کر دکنی ادب میں لے جاتے ہیں۔ اسی طرح قصیدہ، قطعہ وغیرہ کو بھی نظم کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے۔ اردو کے کلاسیکی شعرا شروع ہی سے کاہل رہے ہیں، جو کچھ انہیں فارسی شاعری کی روایت میں دستیاب تھا اسے من و عن قبول کر لیا اور کبھی اپنی افتاد طبع کو آزمائش میں نہیں لائے۔ اردو شاعری کی اصناف فارسی اصناف شعر کی ہوبہو پیروی کرتی ہیں، بلکہ یہاں تک کہ مثنویوں اور بیانیہ نظموں کے واقعات اور اندرونی سٹرکچر بھی فارسی شاعری سے ماخوذ ہے۔ فارسی شاعری کے زیرِ اثر اردو کے کلاسیکی شعرا نے بھی یہ فرض کر لیا تھا کہ جذباتی اور خصوصاً عاشقانہ اظہار غزل کی ہیئت میں کرنا چاہیے اور جہاں منظر کشی مقصود ہو یا کسی موضوع کو بیان کرنا ہو تو وہاں نظم لکھیں۔ یہ تصور اردو کے شعرا میں اتنا راسخ ہوچکا تھا کہ نظیر اکبر آبادی سے لے کر انجمن پنجاب کے شعرا تک نظم میں اسی تکنیک کو استعمال کیا گیا ہے۔ اقبال مشرقی شعر و ادب کے ساتھ ساتھ مغربی علوم اور ادبیات پر بھی نگاہ رکھتے تھے، انہوں نے پابند نظم کے سٹرکچر میں چند بنیادی تبدیلیاں کیں۔ اقبال سے پہلے اردو شاعری کی روایت میں نظم کا خاکہ ادھورا ہے۔ نظیر اکبر آبادی اردو کا واحد کلاسیکی شاعر تھا جس نے نظم گوئی کی طرف باقاعدہ توجہ دی اور ایک دبیز کلیات شعر یادگار چھوڑا جس میں نظموں کی وافر تعداد موجود ہے، اس نے دوسری اصناف شعر میں بھی طبع آزمائی کی لیکن نظم اس کی وجہ شہرت بنی۔ ترقی پسند نقادوں نے مبالغہ سے کام لیا ہے، وہ اس لیے اسے بڑا شاعر کہتے ہیں کہ اس نے آگرے کی عمومی زندگی کی نقاشی کی ہے۔ یہ بات تو درست ہے کہ نظیر کی شاعری میں زندگی کی کلیت ملتی ہے اور اس عہد کی بزمیہ زندگی کی سیر حاصل تفاصیل بھی دستیاب ہیں۔ یہ مظاہر اردو غزل میں ناپید تھے، اس لیے نظیر اکبر آبادی کی شاعری کا رنگ اپنے معاصرین کی گھٹی گھٹی شاعری سے مختلف ہے۔ نظیر اکبر آبادی کی نظمیں بے جا طوالت اور اکتا دینے والی تکرار کی حامل ہیں، نظیر اکبر آبادی کا فلسفہ اخلاق بھی روایتی ہے، وہ نظموں میں اپنے مافیہ میں پھیلاؤ پیدا کرنے کی بجائے تکرار کے ذریعے تاثر پیدا کرتا ہے، موضوع کی تکرار کی وجہ سے اس کی نظموں کا بیشتر حصہ میکانکی ہو جاتا ہے … نظم گوئی میں در اصل نظیر اکبر آبادی کا اصل کا رنامہ وہ لسانی سٹرکچر تھا جو اس نے غزل کے مقابلے میں تیار کیا تھا جس میں آزاد بیان کا رجحان تھا اور جس میں غزل کی لغت کی بجائے مقامی زبانوں کے الفاظ کے استعمال کے ذریعے اپنی معروضی زندگی کو ازسرِنو دریافت کیا گیا تھا۔ یہ اسلوب اردو شاعری میں صریحاً ناپید تھا۔ نظیر اکبر آبادی کے علاوہ حاتم اور سودا نے بھی نظم نما تحریریں یادگار چھوڑی ہیں لیکن وہ کسی امتیاز کی حامل نہیں ہیں۔ نظیر اکبر آبادی کی وفات کے ساٹھ ستر برس تک اردو کے کسی شاعر نے نظم کی طرف توجہ نہیں کی۔ 1870 کے لگ بھگ انجمن پنجاب کے مشاعرے صرف کرنل ہالڈرائیڈ کی خوشنودی کے لیے منعقد نہیں کیے جاتے تھے، ان کی ایک غایت اردو شاعری کو ایک تازہ ہوا کا جھونکا دینا تھا جو داغ ایسے شعرا کے ہاتھوں تصنع کا شکار ہو چکی تھی۔ حالی، آزاد، شبلی وغیرہ، تمام تمدنی تغیر کے سفیر تھے، وہ شاعری کو تصنع سے پاک کر کے زندگی کے قریب لانا چاہتے تھے، ان نیک خواہشات کے باوجود اردو نظم کے سٹرکچر اور موضوع میں وہ تبدیلی نہ آ سکی جس کے وہ خواہاں تھے۔ اس لیے کہ ان شعرا میں کوئی اعلیٰ شعری ہنر کا حامل نہیں تھا۔ دوسرے یہ کہ انجمن پنجاب کے شعرا کی شاعری ایک شعوری منصوبہ بندی کے تحت لکھی گئی تھی جس میں ہر طرح کی جذباتی سطح ناپید تھی، انہوں نے زیادہ تر موضوعاتی نظمیں لکھیں جو تہواروں اور موسموں کے بارے میں تھیں ۔ ظاہر ہے ایسی نظموں کا کوئی قاری نہیں تھا تیسرے یہ کہ ان شعرا نے نظم جدید کی کوئی نظریاتی اساس واضح نہیں کی، صرف یہ کہنے سے بات نہیں بنتی کہ شاعری کو تصنع سے پاک ہونا چاہیے۔ فنی سطح پر انجمن پنجاب کے زیر اثر لکھی گئی نظموں کا ڈھانچہ نظیر اکبر آبادی کی نظموں سے ماخوذ ہے۔
تاریخی اعتبار سے انجمن پنجاب کے زیرِ اثر لکھی جانے والی نظموں کو جدید اور نئی شاعری کا پیش خیمہ تونہیں کہا جاسکتا کہ ان شعری تحریکوں میں کوئی تاریخی تسلسل نہیں تاہم اس کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ انجمن پنجاب کے زیرِ اثر لکھی جانے والی شاعری کلاسیکی غزل کے خلاف پہلا ردعمل تھا جو زیادہ بھرپور اور مربوط طریقے سے مقدمہ شعروشاعری میں ظاہر ہوا۔ بیسویں صدی کے شروع میں شرر نے بھی ایک دو ڈرامے بلینک ورس میں لکھے لیکن ان کی حیثیت صرف تجرباتی اور نصابی ہے۔ آزاد نظم کے باقاعدہ تجربہ 1930 کے بعد شروع ہوتا ہے۔ تصدق حسین خالد اور ن م راشد دونوں اس کا موسس ہونے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ اردو آزاد نظم ترقی اور غیر ترقی پسند شعرا کی مشترکہ مساعی اردو میں متعارف ہوئی تھی، اگرچہ دونوں کے شعرا ایک دوسرے سے دور تھے لیکن دونوں اس نظریے کے حامل تھے کہ اردو شاعری کا پیرہن بوسیدہ ہو چکا تھا، اس میں تغیر کی ضرورت تھی۔ اس میں تغیر کی ایک شکل اس کا لسانی اسلوب تھا کہ حتی الامکان غزل کی ڈکشن کے استعمال سے گریز کیا جائے کیونکہ ایک مخصوص قسم کی لغت اپنے ساتھ مخصوص تلازمات اور معنوی ہیولے ساتھ لاتی ہے۔ 1936 کے ترقی پسند اور غیر ترقی پسند شعرا شاعری کے لسانی تغیر کے عمل میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکے، اگرچہ میرا جی اور کچھ دوسرے شعرا نے غزل کے علائم اور رموز کے استعمال سے اجتناب کرکے شاعری کے اظہار کو بدلنے کی کوشش بھی کی لیکن انہیں خاطر خواہ کامیابی نہ ہوئی۔ بے شک انہوں نے کہیں کہیں نئی لغت بھی متعارف کی لیکن وہ بھی اردگرد میں غزل کی چھاپ لیے ہوئے ہے، جگہ جگہ اضافتوں کا استعمال کیا ہے، مصرعوں کی ساخت غزل کے شعر کے انداز میں کی گئی ہے۔ اسی طرح فنی سطح پر بھی آزاد نظم ایک رکا رکا سا انداز ہے، مصرعے ایک دوسرے میں مدغم ہونے کی بجائے اپنی اپنی جگہ پر جامد نظر آتےہیں۔ جدید شعرا کا زمانہ (یعنی وہ شعرا جنہوں نے 1936 کے لگ بھگ نئی شعری اسلوبیات کو استعمال کیا) آزاد نظم کی ابتدائی تشکیل کا تھا۔ 1960 میں نئی شاعری کی تحریک کے زیرِ اثر آزاد نظم ایک نیا رخ اختیار کرتی ہے، اس میں نہ صرف موضوعاتی تغیر رونما ہوتا ہے بلکہ فنی سطح پریہ اپنا لب و لہجہ بدلتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ نئی شاعری اردو شاعری میں نئی اسلوبیات کی ایک تحریک تھی جس میں شاعری کی اندرونی و بیرونی ہیئت دونوں کو یکساں اہمیت دی گئی۔ ان سے پہلے کی نسل کے یہاں آزاد نظم کے استعمال میں ذہنی تذبذب نظر آتا ہے ،اس کی جگہ نئے شعرا کی نظموں میں آزاد نظم کے بلا روک ٹوک استعمال کا رویہ بھی ملتا ہے۔ 1960 کے نئے شعرا نے آزاد نظم کو اپنے اظہار کا واحد ذریعہ تصور کیا، چنانچہ انہوں نے پابند، معرا نظمیں، اور غزلیں لکھنے سے دانستہ گریز کیا۔ یہ شاعری کےبارے میں ایک رویہ تھا جس میں کلاسیکل اور مروجہ ساختیات کو منہدم کرکے ایک نئی شعری بوطیقا کو رائج کرنا تھا جس میں شاعر کے تخلیقی عمل کو نصابی قیود سے رہا کر کے اسے ہر طرح کی موضوعاتی اور ہیئتی آزادی فراہم کرنا تھا۔ نئے شعرا کے اس اصرار کے نتیجے کے طور پر پہلی مرتبہ اردو شاعری میں آزاد نظم وسیع پیمانے پر لکھی گئی اور گذشتہ دو دہائیوں میں پابند نظم کا رواج کم و بیش ختم ہوچکا ہے، کیونکہ پابند نظم شاعری کے جس اسلوب کو جنم دیتی ہے وہ شاعر کے نئے تجربات کی نیابت نہیں کرتا۔ یہ تو وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ آزاد نظم نے کس حد تک مقبولیت حاصل کی ہے تاہم یہ ہیئت جو کبھی تمسخر کا ہدف تھی، ایک معتبر اور قابلِ قبول شعری ہیئت بن چکی ہے جسے اب نئی شاعری کا امتیاز تصور کیا جاتا ہے۔
آزاد نظم کی تفہیم کے سلسلے میں بعض غلط فہمیاں حائل رہی ہیں۔ ابھی تک آزاد نظم گو شعرا اور غزل گو شعرا میں محاذ آرائی کا سلسلہ رہا ہے۔ اس کی پہل غزل گوشعرا کی طرف سے ہوئی تھی۔ جب 1936 میں اس کے تعارف نے ایک شدید ردِ عمل پیدا کیا تھا اور اسے شاعری ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے ردعمل کے طور پر فریقین میں محاذ آرائی کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا جو آج بھی کسی حد تک جاری ہے۔ آزاد نظم اور غزل میں اس لیے تصادم پیدا ہوا کہ اردو کے غزل گو شعرا آزاد نظم کو چیلنج تصور کرتے تھے، اس کے نتیجے کے طور بہت سی غیر ضروری تنقید معرض وجود میں آئی۔ آزاد نظم، اردو غزل کی تردید کرنے کی بجائے یہ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ شاعری کی تخلیق کے لیے صرف غزل لکھنا ہی ضروری نہیں ہے، اظہار کی ضرورت کے تحت ہر طرح کے شعری اسالیب وضع کیے جاسکتے ہیں۔
اردو تنقید میں آزاد نظم کے فنی پہلوؤں پر غور وخوض نہیں کیا گیا۔ عام مغالطہ ابھی تک قائم ہے کہ آزاد نظم میں کوئی بحر اور وزن نہیں ہوتا اور شاعر کے منہ میں جو کچھ آتا ہے وہ کہہ دیتا ہے، اس لیے آزاد نظم آہنگ سے عاری ہوتی ہے۔ یہ آزاد نظم پر بہت پرانا اعتراض ہے اور کئی مرتبہ اس کا جواب بھی دیا گیا ہے۔ ہر آزاد نظم کسی نہ کسی مفرد یا مرکب بحر میں لکھی جاتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مروجہ بحور میں ارکان کی تعداد مقرر ہوتی ہے، عموماً کلاسیکی غزل میں چار ارکان کو ایک مصرع کے بنیادی آہنگ بنایا گیا ہے جبکہ آزاد نظم میں آہنگ یا بحر کا بنیادی یونٹ ہوتا ہے جو نظم کے بنیادی موتیف کے ساتھ تعداد میں بڑھتا یا گھٹتا رہتا ہے:
فعولن فعولن
فعولن
فعولن فعولن فعولن فعولن
فعولن
فعولن فعولن فعولن فعولن فعولن
آزاد نظم میں ارکان کی اس یا کسی اور ترتیب سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس کا صوتی آہنگ انفرادی مصرعوں کا ہونے کی بجائے ایک کلیت میں نمایاں ہوتا ہے بلکہ اسی طرح جیسے اس میں معنی کی تشکیل ایک مصرع کی بجائے ساری نظم سے کی جاتی ہے۔ وزن کے ارکان کی یہی ترکیب مرکب بحور کے استعمال کے دوران پائی جاتی ہے۔ نئے شعرا نے آزاد نظم کی اس عروضی سکیم میں بھی بعض انحرافات کیے ہیں۔ چونکہ آزاد نظم میں آہنگ کا کوئی صوتی پیرایہ پہلے سے متعین نہیں ہوتا اس لیے یہ تجربہ کے معنوی اسلوب سے پیدا ہوتا ہے۔ نئے شعرا نے آزاد نظم کے بنیادی آہنگ کے سٹرکچر میں تو کوئی نمایاں تبدیلی پیدا نہیں کی تاہم عام رجحان یہ رہا ہے کہ عروضی نغمیت کو ضرورت سے زیادہ اچھالا نہ جائے۔ بہت سے شعرا نے بحر کو زیادہ سے زیادہ استعمال کیا ہے کہ اس کا آہنگ نثری آہنگ کے قریب تر ہے، اس بحر کو استعمال کرتے ہوئے بھی انہوں نے آزاد نظم کو نثری نظم کے قریب تر لانے کی کوشش کی ہے۔
گذشتہ پندرہ سالوں سے آزاد نظم گو شعرا نے نثری نظم کی تحریر کی طرف خصوصی توجہ دی ہے، اور ان کے زیرِ اثر یہ ایک وبا کی طرح نئی نسل میں پھیل گئی ہے۔ تصوراتی سطح پر نثری نظم کی ہیئت بندی کافی مشکل ہے لیکن یہ اپنے ڈیزائن کے اعتبار سے آزاد نظم سے بے حد مماثل ہے۔ اس میں آزاد نظم کے برعکس وزن کی بنیاد نامیاتی آہنگ پر ہوتی ہے جو ہر طرح کی عروضی تقظیع سے انکار کرتا ہے۔ تاہم عروضی آہنگ کی عدم موجودگی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ایک اچھی نثری نظم آہنگ سے عاری ہوتی ہے۔ ایک اچھی نثری نظم لکھنے کے لیے زبان کے تخلیقی استعمال پر عبور ضروری ہے۔ نثری نظم، آزاد نظم کا نعم البدل نہیں ہے بلکہ یہ شاعری کی ایک ہیئت ہے طویل بیانیہ اور ایپک لکھنے کا امکان ہے۔
آزاد نظم اور نثری نظم اردو شعری روایت سے انحراف یا بغاوت نہیں ہیں، یہ اردو کی شعری روایت میں نئے شعری اسالیب کی دریافت اور اس کا فروغ ہیں۔