نیر مسعود

نیر مسعود

فارسی کہانی: ایک مختصر تعارف

         ایرانی ادب میں خیالات کے اظہار اور مفہوم کی وضاحت کے لیے قصہ کہانی سے کام لینے کی روایت زیادہ تر ہندوستان کی مرہونِ منت ہے۔ پنج تنتر کے پہلوی اور فارسی ترجموں نے اس روایت کو مستحکم کیا اور اس کے بعد سے فارسی کی غیر افسانوی تالیفوں میں بھی حکایتوں کا استعمال کثرت سے ہونے لگا۔ قابوس نامہ، مر زبان نامہ، سیاست نامہ، وغیرہ حکایتوں کے اہم مخزن اور گلستان اور اخلاقِ محسنی وغیرہ ان کا نقطۂ عروج ہیں۔ اخلاقِ محسنی کے مصنف ملا حسین واعظ کاشفی نے پنج تنتر کی کہانیوں کو انوارِ سہیلی کے نام سے رنگین فارسی نثر میں لکھا۔ جس کا اردو میں سب سے اچھا ترجمہ فقیر محمد خاں گویا نے بُستانِ حکمت کے نام سے کیا۔ اخلاقِ محاسنی اور گلستان وغیرہ کے بھی اردو ترجمے ہوئے۔ ان کتابوں کےاثر سے اردو میں بھی کہانی کا رواج عام ہوا: گویا ہندوستانی کہانی ایران کا چکر لگا کر ہندوستان کی اردو میں واپس آ گئی۔

         بیسویں صدی آتے آتے روایتی حکایتوں کا زمانہ ختم ہوا اور ان کی جگہ نئے طرز کے مختصر افسانے نے لے لی۔ ایران میں میر محمد حجازی اس نئے دور کا سب سے ممتاز ناول نویس اور افسانہ نگار تھا۔ حجازی اور اس کے ہم عصر پیچ اور ابہام سے خالی، خطِ مستقیم پر سفر کرنے والے، جذبات آمیز اور پُراثر افسانے لکھتے تھے جن کا مرکزی خیال بہت واضح ہوتا تھا، بلکہ کبھی کبھی تو یہ افسانہ نگار افسانے کے آخری جملوں میں اس کے مرکزی خیال یا افسانے سے برآمد ہونے والے نتیجے کی نشان دہی بھی کر دیتے تھے (یہ غالباً حکایتوں کا بچا کھچا اثر تھا)۔

         حجازی وغیرہ فارسی فکشن کے اُس جدید دور کے نمائندے تھے جس کے آغاز سے پہلے ہی اردو ادب اپنے معاصر ایرانی ادب سے بے نیاز، اور شاید بے خبر بھی، ہو چکا تھا۔ ابھی تک اردو کے بیشتر اصناف نے اپنے سامنے ایرانی فارسی اصناف کو ماڈل کے طور پر رکھا تھا لیکن اب وہ اپنے طور پر آگے بڑھ رہا تھا یا نئے ماڈلوں کے لیے ایران کے بجائے مغرب کی طرف دیکھنے لگا تھا۔ اردو فکشن کے سامنے   سے بھی ایرانی ماڈل ہٹ گیا تھا، لیکن دورِ جدید کے ان ابتدائی مرحلوں میں بھی اردو اور فارسی فکشن ایک دوسرے سے بہت زیادہ مختلف نہیں تھے، اس لیے کہ اب دونوں کے سامنے فکشن کا مغربی ماڈل آگیا تھا جس کے زیرِ اثر دونوں زبانوں کے افسانوی ادب میں غیر معمولی اور تیز رفتار پیش رفت شروع ہو گئی تھی۔ ایران میں اس پیش رفت کی اہم ترین علامت صادق ہدایت ہے۔

         صادق ہدایت ایرانی فکشن کا سب سے بڑا نام ہے۔ اس نے مغربی ادبیات کا وسیع مطالعہ اور کئی ملکوں کی سیر کی تھی۔ اسی کے ساتھ اس کو قدرت کی طرف سے قصہ گوئی کی زبردست صلاحیت ملی تھی۔ بوفِ کور (اندھا الو) اس کا شاہکار ناول (یا طویل افسانہ؟) ہے، جس نے مغربی دنیا کو بھی اس قدر متاثر کیا کہ میکائیل بارڈ نے ایک پوری کتاب a   Hedayat’s Blind Owl as Western Novel لکھی اور اس میں بڑے تفصیلی تجزیے کر کے اس نتیجے پر پہنچا کہ بوفِ کور صرف فارسی نہیں بلکہ عالمی ادب  میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہدایت ہندوستان اور اس کی روایات سے خاصا متاثر تھا جس کا اظہار اس کی تحریروں میں بھی ہوا ہے۔ بوف کور کا مرکزی کردار بنارس کے ایک مندر کی رقاصہ کا بیٹا ہے اور اس انوکھی داستان میں ہندوستان ایک مرموز، سحر آمیز سرزمین کے طور پر اُبھرتا ہے۔ فرانسیسی زبان میں بھی ہدایت کی ایک کہانی Lunatique کا محلِ وقوع بمبئی اور کردار ہندوستانی ہیں۔ اس کہانی میں ہدایت نے کچھ مکالمے اردو زبان میں بھی لکھے ہیں۔

         ہدایت نے کافکا، سارتر وغیرہ کے فارسی ترجمے بھی کیے اور اس کو صحیح معنی میں ایرانی فکشن کی عہد ساز شخصیت کہا جا سکتا ہے، اور یہ شخصیت جنون کی حد تک غیر معتدل اور نفسیاتی گتھیوں سے بھری ہوئی تھی۔ اور یہ شخصیت بہ آسانی ”مریضانہ“ کہی جا سکتی تھی، اور اس کے افسانے اسی شخصیت کا نقش ہیں۔ یہ فارسی افسانے کے حق میں نیک فال تھی، اس لیے کہ ابھی تک یہ افسانہ معتدل اور صحت مند ذہنوں کے قبضے میں تھا۔ ہدایت کی قلمرو میں پہنچ کر اس نے ایسے ایسے روپ اختیار کیے جن کی فارسی ادبیات کی رچی ہوئی روایت کا تربیت یافتہ ذہن مانوس نہیں تھا لیکن مانوس ہونے پر تیار تھا، اور مانوس ہوا۔ اور دیکھتے دیکھتے فارسی افسانے کا افق وسیع ہونے لگا۔ لیکن خود ہدایت اپنی شخصی الجھنوں اور افتادِ طبع کے جال میں پھنستا چلا گیا۔ اس نے کئی مرتبہ خود کشی کی کوشش کی اور آخر گیس سے اپنا دم   گھونٹ کر مر نے میں کامیاب ہو گیا۔ سینتالیس اڑتالیس سال کی عمر میں اس کا اس طرح اٹھ جانا ایرانی ادب کا بڑا سانحہ تھا، لیکن وہ اپنی زبان کو فکشن کا جو معیار دے گیا اس کے اثر سے ایران میں عمدہ افسانہ نگاروں کی ایک پوری کھیپ تیار ہو گئی۔ ایرانی رسالوں نتگین، سخن وغیرہ میں تکنیک کے تجربوں اور اچھوتے موضوعات والے افسانوں کو بہ طورِ خاص جگہ دی جانے لگی۔ اس خصوص میں مجلہ سخن، تہران قابلِ ذکر ہے جس میں تواتر کے ساتھ بہت اچھے فارسی افسانے شائع ہوتے رہے۔ جمال میر صادقی، عباس حکیم، بابا مقدم، غلام حسین ساعدی، غلام حسین نظری وغیرہ سخن کے ممتاز لکھنے والے تھے جن میں کئی کے تراجم مغربی زبانوں میں بھی ہوئے، اس کے علاوہ جلال آل احمد اور ان کی بیوی سیمین دانشور، صمد بہرنگی وغیرہ کو بھی مغرب نے اعتنا کی نظر سے دیکھا۔ منیرو روانی پور، اسماعیل شاہرودی، محسن دامادی، فریدون تنکابنی اور متعدد دوسرے افسانہ نگاروں نے بھی فارسی فکشن میں اپنے انفرادی نقوش قائم کیے۔

         جدید فارسی افسانے کے مقابل جب ہم اپنے اردو افسانے کو رکھتے ہیں تو دونوں میں مماثلتیں زیادہ، مغائرتیں کم نظر آتی ہیں۔ فنی حرفت کے لحاظ سے بھی اردو افسانہ فارسی افسانے سے پیچھے نہیں ہے لیکن فارسی افسانے میں تنوع اردو افسانوں سے شاید کچھ زیادہ نکلے۔ اس کا سبب یہ ہے ایرانی افسانہ نگار ہمارے مقابلے میں عالمی ادبیات سے زیادہ آشنا ہیں۔ اہل ایران مغربی فکشن کے قریب قریب ہر شاہکار کو، اور دوسرے ملکوں کے بھی اہم افسانوں کو اپنی زبان میں منتقل کر لیتے ہیں (اردو افسانہ نگاروں میں بھی پریم چند، کرشن چندر، بلراج مین را وغیرہ کی بعض چیزوں کے فارسی ترجمے چھپے ہیں)۔ ترجمے کے میدان میں وہ ہم سے بہت آگے ہیں، اور جب ایران کے مقابلے میں ہم اپنے یہاں تراجم کی صورتِ حال پر نظر کرتے ہیں تو سخت احساس کمتری پیدا ہوتا ہے۔ تراجم سے اس غیر معمولی شغف کا مثبت اثر لازماً ایرانی فکشن پر اردو سے زیادہ پڑا ہے۔

         فارسی اور اردو افسانے میں سب سے زیادہ فرق استعمالِ زبان کا نظر آتا ہے۔ ایرانی افسانہ نگار بول چال کی زبان اور عوامی تلفظ کو ہم سے بہت زیادہ بے تکلفی کے ساتھ تحریر میں لاتے ہیں۔ وہ الفاظ کی لغوی ہیئت کے علاوہ اس ہیئت کو بھی استعمال کرتے ہیں جو زبان سے ادا ہوتی ہے، مثلاً ”میشود“ کی جگہ ”میشہ“،”بیایند“ کی جگہ ”بیان“،”را“ کی جگہ ”و“ کی آواز۔ ہمارے یہاں ”حضرت“ کی جگہ ”حضت“ کے قبیل کی مثالیں خال خال ملیں گی، لیکن فارسی افسانوں میں محلّی لہجوں اور لغاتِ عامیانہ کا استعمال اتنا عام ہے کہ ان کی فرہنگیں تیار کر لی گئی ہیں۔ اور زبان کے ساتھ یہ آزادانہ رویہ ان کے یہاں صرف مکالموں تک محدود نہیں ہے بلکہ اسی انداز کے بیانیے کے ساتھ پورے پورے افسانے لکھے جار ہے ہیں۔

         فارسی افسانوں کو پڑھتے ہوئے یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ ایرانی افسانہ نگار فطرت کے جتنے قریب ہیں  اتنے  ہم نہیں ہیں۔ موسموں اور فضاؤں کی کیفیات کا بیان اُن کے یہاں بہت جاندار ہوتا ہے  اور یہ عناصر ان کے افسانے میں اہم کردار بھی ادا کرتے ہیں ۔ درختوں میں بھی ایرانی افسانہ نگاروں کی دلچسپی ہم سے زیادہ ہے۔ بابا مقدم کے افسانوں میں "لا شۂ مار“ (”مردہ سانپ“) کادارِ زعفران، ”گلہای زرد و کفشہای میخدار“ کا کہنہ درخت، منوچیر خسروشاہی کے ”مرگ“ کا کیڑوں بھرا درخت اور دوسرے بہت سے افسانوں کے پیڑ پھول پودے انسانی کرداروں سے کم اہمیت نہیں رکھتے۔

    فطرت سے اسی علاقہ مندی کا اثر یہ بھی ہے کہ ایران کے افسانہ نگاروں کے یہاں جانور ہم  سے زیادہ ملتے ہیں ۔ اُن کے یہاں ہمارے رفیق حسین کا جواب تو پیدانہیں ہو سکا لیکن جانوروں کو مرکزی کردار بنا کر لکھے جانے والے افسانے فارسی میں اردو سے بہت زیادہ ہیں ۔ صادق ہدایت کا سگ ولگر د(سگ آواره) عالمی شہرت کا افسانہ ہے ۔ صادق چوبک کا ’آتما، سگِ من“ اس سے بھی کچھ بہتر افسانہ ہے۔ فریدہ رازی کے ”گربہ ام را کشتم“ ( بلی کا خون) اور ہدایت کے ”سہ قطره خون“  میں بلی کو افسانے کا اہم کردار بنایا گیا ہے ۔ بابا مقدم کے ”باران و اشک“ (بارش اور آنسو) میں  گھوڑے اور قفسہا (پنجرے)میں پرندے عمدہ المیہ افسانوں کے انسانی کرداروں کی طرح اثر کرتے ہیں ۔ اس لحاظ سے، اور عمومی طور پر بھی، ایرانی افسانوں کا مطالعہ اردو کے قارئین اور افسانہ نگاروں کے لیے دلچسپی  اور فائدے سے خالی نہیں ، اس لیے ضروری ہے کہ فارسی کے عمدہ  اور زیادہ سے زیادہ افسانوں کو اردو میں منتقل کیا جائے ۔

    اردو میں فارسی افسانوں کے ترجموں کی تعداد اطمینان بخش نہیں ہے ۔ صادق ہدایت کے ترجمے نسبتاً معقول تعداد میں ہوئے ہیں اور ان کا ایک مجموعہ بھی سگ آوارہ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ سید حامد حسن قادری مرحوم نے بھی فارسی افسانوں کے تراجم کا ایک مجموعہ شائع کیا۔ کچھ ترجمے نصابی ضرورتوں کے تحت بھی ہوئے ۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ اردو میں تراجم کے ذریعے فارسی افسانوں کی نمائندگی اتنی نہیں ہوئی جتنی ہونی چاہیے تھی ۔ زیر نظر مجموعہ اسی کمی کی تلافی کی ایک کوشش ہے جس کی تحر یک میرے کچھ عزیز دوستوں کی طرف سے ہوئی تھی۔

    1969 میں عابد سہیل کی فرمائش پر ان کے رسالے کتاب کے لیے میں نے شین پرتو کے افسانے’’بہاے عشق“ کا ترجمہ اس لیے کیا کہ اسے پڑھ کر منٹو کا افسانہ ”سرکنڈوں کے پیچھے“ یاد آتا ہے۔ 1971 میں شمس الرحمٰن فاروقی کے لیے بابا مقدم کے افسانے "قفسہا“ کا ترجمہ(پنجرے) کیا جو شب خون میں شائع ہوا۔ یہ افسانہ کراچی کے دو نوجوان دوستوں اور اردو کے ممتاز متر جموں آصف فرخی اور اجمل کمال کو بہت پسند آیا اور دونوں مجھ سے مزید ترجموں کے طالب ہوئے ۔ اجمل کمال نے جب اپنا رسالہ آج باقاعدگی کے ساتھ نکالنا شروع کیا تو اس کے لیے مجھ سے جدید فارسی افسانوں کے تر جموں کی فرمائش کی۔ میں نے تین ترجمے انہیں بھیجے جو خزاں (ستمبر )1990 کے آج میں شائع ہوئے۔ اجمل نے ہدایت کے بوف کورکا اردو میں بہت اچھا ترجمہ کیا ہے۔ ان کا اراده ہوا کہ آج کے ایک دو شمارے فارسی افسانوں کے تر جموں کے لیے وقف کیے جائیں ۔ مترجموں کی فہرست میں مجھ کو بھی شامل کر کے انہوں نے کراچی سے مجھے فارسی افسانوں کے مجموعوں پر مجموعے ( جو وہ ایران سے لے کر آئے تھے ) بھیجنا شروع کیے۔ ان کے لیے میں نے نَو اور افسانوں کے ترجمے کیے۔ غلام حسین ساعدی کے ”گدا“ کا ترجمہ( بھکاری) شب خون میں شائع ہو چکا تھا۔ مصنف نے اسے ”نمائش نامۂ بے گفتار“ (خاموش ڈراما) قرار دیا ہے،  لیکن ہیئت کےاعتبار سے یہ صیغۂ حال میں لکھا ہوا افسانہ بھی ہے، اس لیے اسے بھی شامل کر کے کل پندرہ ترجمے ہو گئے جو ایک مجموعے کے لیے کافی معلوم ہوئے۔

    ترجمے کے لیے افسانوں کے انتخاب میں صرف یہ معیار پیش نظر رکھا گیا ہے کہ افسانہ اچھا ہو اور اس کا ترجمہ نسبتاً آسان ہو۔ کئی بہت اچھے  افسانے محض متر جم کی کم استعدادی کی وجہ سے انتخاب میں شامل نہ ہو سکے ۔ ان محروموں میں ساعدی کا افسانہ ”فقیر“(روضے والی) بھی تھا جسے چھوڑنے پرمیرادل راضی نہ ہوتاتھا لیکن فارسی افسانوں کی جس خصوصیت یعنی بول چال کی زبان کا اوپر  ذکر آیا وہ ترجمے  کی راہ میں حائل تھی۔ کسی طرح افسانے کا تر جمہ تو کر لیا لیکن پچیس تیس لفظ اور فقرے ایسے باقی رہ گئے جن کا مطلب فرہنگوں کی ورق گردانی سے بھی حل نہیں ہوا۔ اپنے ایرانی دوست آقاے ابراہیم حسنی کاممنون ہوں کہ ان کی مدد سے آخر یہ  مشکل آسان ہوئی۔

    فارسی کی ان کہانیوں کو اردو روپ دینے میں اس بات کا لحاظ رکھا گیا ہے کہ ترجمے کی زبان اردو محاورے کے مطابق ہو، لیکن اتنی مطابق بھی نہ ہو کہ ایرانی کہانی پر ہندوستانی کہانی کا گمان ہونے لگے۔