تازہ سینہ میں
تازہ سینہ میں محبت کا فسوں جاگا ہے خواب زاروں سے ستاروں کے سفینے اُترے گھنٹیاں ننگے قدم، خاک بسر، جانے کہاں جاتی ہیں اس نئے دکھ کے لیے کوئی نئی دنیا ہو ہوں نئے پیڑ، نیا چاند، نیا سورج ہو ہوں نئے حرف، نئے لفظ، نئی نظمیں ہوں چاندنی رات کا ملبوس نہ یوں میلا ہو دھوپ کے لہجہ میں نرمی ہو شرافت ہو محبت کی سی شیرینی ہو دو نئے ہاتھ نئے ہونٹ نئی آنکھیں ہوں ہو نیا ذہن نئی روح نئی صورت ہو اک نیا دل ہو جو پاگل ہو محبت کے لیے خود کو جلا سکتا ہو جس میں صحراؤں کی وسعت ہو سمندر کی سی گہرائی ہو جس میں خاموشی ہو ہیبت ہو پریشانی ہو خاک میں رفعت افلاک ملا سکتا ہو نیند سے مردہ پہاڑوں کو اُٹھا سکتا ہو