شب ہجراں
ہوا بے مہر تھی اس رات ٹھنڈی اور کٹیلی سانس لینا سر سے اُونچی لہر سے ٹکر لگانا تھا صدا کوئی نہیں تھی سمت کی تعین مشکل تھی نشیبی بستیوں میں راستے اک دوسرے میں ختم ہوتے تھے تجھے کیا علم ہے وہ رات سر تا پا شب ہجراں ہمارے حق میں کیسی تھی لکیریں ہاتھ کی نامہرباں ماتھا معیشت کی طرح تنگ اور گھر برکت سے، چہرہ نور سے عاری گناہوں کا کیا مقدور تھا اچھا عمل بھی ہو نہیں پایا کسی بڑھیا کی کٹیا میں دیا جھاڑو نہ روئے باوضو ہو کر نہ کچھ ترتیل نہ تحلیل ہونٹوں سے دعا ہی پھوٹتی لیکن ہماری تیرہ روزی رات کے ہر برج پر بیدار اور چوکس تھی گاہے گاہے اک للکار آتی تھی ازل کی لوح سے اور ہم منوں مٹی کے نیچے سہم جاتے تھے ہوا بے مہر تھی اس رات ٹھنڈی کٹیلی سانس لینا سر سے اونچی لہر سے ٹکر لگانا تھا