اصغر ندیم سید

اصغر ندیم سید

آنگن کا گیت

    میں لاڈ کروں اپنے گھر سے اور اُس کے سادہ پکوانوں سے میرا رشتہ سارے دنوں سے (ماں اور بچے جیسا ہے) میں لاڈ کروں آوازوں سے جو خوابوں اور خرابوں سے جو ازل کے قہوہ خانوں سے آتی ہیں برقعہ اوڑھے میں لاڈ کروں کچے میوؤں اور اُن کی کچی خوشبو سے میں شہر میں ہوں اور شہر سے باہر چرواہوں کی بستی ہے میں لاڈ کروں بکری کے دودھ اور سرسوں کے پھیلے بستر سے میرا جسم سہانا منظر چڑیا میرے بستر پر رومان لڑائے آنکھیں میرا ساحل ہیں میں اُن سے باہر کیسے جاؤں رات کی رانی میرے دل میں لاڈ کروں آنگن سے اور الگنی سے بہنوں سے اور گلابوں سے بارش سے اور کتابوں سے دشمن کے ننھے بچوں سے میں لاڈ کروں کرتا جاؤں