اعتبار کرو
-
تیرے میرے تعلقات کے بیچ جسم اور جان کیوں معلق ہے جب کہ میں اعتبار کی سانسیں تیرے پلو سے باندھ بیٹھا ہوں زندگی کا نظام اس پر ہے روز و شب کے معاملات سبھی بس اسی ڈور سے سلامت ہیں دیکھے ان دیکھے سارے نظارے آسماں اور زماں اسی سے ہیں چاند تارے جہاں اسی سے ہیں سرمئی دن سہانی سہ پہریں، اک اسی بات پر مچلتی ہیں قرب کی خواہشیں پنپتی ہیں عمر بچپن کی ہو کہ پچپن کی، اعتباری کا بوجھ ڈھوتی ہے بوجھ آخر تمہیں بھی ڈھونا ہے