احساس کی منڈیر پر رکھی نظم
-
فرصت ہی نہیں ملتی ہم بیٹھ کے کچھ گھڑیاں یادوں کی کوئی کھڑکی کھولیں تو ہوا مہکے سینے کا پرندہ بھی نظموں میں چہکے اور خواب کچھ ایسے ہیں ٹکتے ہی نہیں پل بھر ٹک جائیں تو نظمیں ہوں وہ صبح نہیں آئی جب شوق کنارے پر ہم نور سے جل تھل ہوں جو عمر ہتھیلی میں ان جبری لکیروں سے آگے کہیں لے جائے دفتر کی خباثت سے فرصت ہمیں مل جائے