رُت بدلنے کے بعد
-
دیکھنا اک دن برف پڑے گی اور خوابوں کی پلکوں پر بیٹھی حیرانی ویرانی ہو جائے گی نیلے پانی پر برفیلی سرد ہوائیں جامد ہو کر کانچ کے آنسو بن جائیں گی شکلیں چہرے اور زبانیں حرف سلوک ملوک مناظر ایک کتھا بن جائے گی یہ جو اندر ہول اُٹھتا ہے ٹھنڈا ٹھار سا ہو جائے گا تیرے میرے بیچ کی حدت آنکھوں میں جم جائے گی