شانتی۔۔۔ شانتی۔۔۔ شانتی۔۔۔
-
پٹخ دیا ہے قلم بھی، سفید کاغذ بھی انڈیل دی ہے سیاہی ادھوری نظموں پر جلا دی اپنے ہی ہاتھوں سے ہر غزل اپنی گرا دیا ہے بیاضوں کو کوڑے دانوں میں سو خواب کا ہے تکلف، نہ آس کا جھنجھٹ نہ حسرتوں کا الم ہے، نہ آرزو کا ملال نہ رنج کی ہے شکایت، نہ درد کا شکوہ ہواؤ! آؤ کہ اب گر گئے ہیں سارے کواڑ ہواؤ! آؤ کہ اب ڈھے گئی ہیں دیواریں