دن بہار کے
-
اس بہار کی پھبن میں اس بہار کی تھکن ہے جو گزر گئی ہم قلم یہ پوچھتے ہیں اتنے دن کہاں گنوائے شعر کیا ہوئے ہم سفر یہ سوچتے ہیں اِس کو اور ہی لگن ہے اس کو چھوڑ دو دلربا یہ دیکھتے ہیں اس کی آنکھ ہی نہیں ہے اِس کا کیا کریں کیا بتائیں کیوں بتائیں کون ہے جسے بتائیں چھیڑتی چلیں ہوائیں، جاگتی شبیں جگائیں دن بہار کے