محبوب خزاں

محبوب خزاں

تمہاری قسمت میں جھوٹ ہے

    تمہاری قسمت میں جھوٹ ہے اِس لیے کہ تم نے مجھے بتایا کہ اور بھی ہیں ہماری قسمت میں جھوٹ ہے اس لیے کہ ہم فریب کھایا کہ اور بھی ہیں ہماری روحیں تڑپ رہی تھیں کہ سچ بھی ہو زندگی میں شاید ہر اک میں شاید کسی میں شاید بڑی ستم گر تھی شام لیکن وہ آگ ہے رات کا اُجالا کہ ہم نے سب سوچ کر خوشی سے بہارِ ہستی کو پھونک ڈالا ہماری روحیں تڑپ رہی ہیں کہ سچ بھی ہو زندگی میں شاید ہر اک میں شاید کسی میں شاید