احمد مشتاق

احمد مشتاق

ہونے نہ ہونے کا بھی کچھ ڈھب نکالتے ہیں

    ہونے نہ ہونے کا بھی کچھ ڈھب نکالتے ہیں اس مرگ و زیست کو ہم فی الحال ٹالتے ہیں گم گشتگیِ دل کو پایا نہیں جنھوں نے صحرا بکھانتے ہیں، دریا کھنگالتے ہیں کیا شغل پوچھتے ہو ان دھوپ میں پڑوں کا سایہ تراشتے ہیں، دیوار ڈھالتے ہیں اس بزم میں نہ پوچھو، کیسی ابڑ دھبڑ ہے ہم بے خودی کے ہاتھوں خود کو سنبھالتے ہیں ذرے کو تاب دے کر سورج بنانے والے کیا داغ داغ سا یہ دل بھی اجالتے ہیں