اشفاق عامر

اشفاق عامر

آنکھ کا نور بھی کھو جائے ستارہ نہ ملے

    آنکھ کا نور بھی کھو جائے ستارہ نہ ملے بحرِ ظلمات میں بھٹکیں تو کنارہ نہ ملے روز ہی خواب میں آواز سنیں اس کی ہم خواب سے اٹھ کے جو دیکھیں تو نظارہ نہ ملے بیعتِ درد کرے شہر یہ سار ااپنی مڑ کے دیکھیں تو کوئی شخص ہمارا نہ ملے کیسے لے لیتے زرِ دہر کبھی اپنے لیے اپنی ہی سانس پہ جب ہم کو اجارہ نہ ملے کون سے دشت میں جائیں کہ ملے ہم کو پناہ دل کی دیوار کا جب ہم کو سہارا نہ ملے آنکھیں تھک جائیں اسے ڈھونڈتے اپنی عامرؔ جس نے چھینا ہے سکوں اپنا دوبارہ نہ ملے