یار کی خوشبو ہے رستہ شام کا
-
یار کی خوشبو ہے رستہ شام کا کتنا رنگیں ہے علاقہ شام کا اب تو جیسے ساتھ رہتا ہے مرے شام سے پہلے بھی سایہ شام کا رات بھر الجھے رہیں گے ذہن ودل صبح تک جائے گا جھگڑا شام کا ڈوبتی جاتی ہے دن کی کائنات کس نے کھولا ہے دریچہ شام کا اک اندھیرے کا سمندر ہے کہیں جس طرف بہتا ہے دریا شام کا