نہیں سنتا کوئی مجھ کشتۂ آلام کے شکوے
-
نہیں سنتا کوئی مجھ کشتۂ آلام کے شکوے کیے میں نے ہر ایک ایواں کی چوکھٹ تھام کے شکوے شفق کے رنگ آنکھوں میں، سحر کی اوس پلکوں پر نہ آئے پھر بھی لب پر چرخِ نیلی فام کے شکوے یہ کیسا دور ہے جس میں مجھے سننے پڑے ساقی وبالِ ہوش کے طعنے، شکستِ جام کے شکوے اب ان بھولے ہوئے قصوں کے دہرانے سے کیا حاصل یہ اب کیا آپ لے بیٹھے دلِ ناکام کے شکوے تماشا ہے کہ جن کے واسطے گردش میں تھے عالم انھیں بھی سُوجھتے ہیں گردشِ ایام کے شکوے