تنہائی سی تنہائی تھی، کرتا بھی تو کیا میں
-
تنہائی سی تنہائی تھی، کرتا بھی تو کیا میں سو، شہر میں صحرا کی طرح پھیل گیا میں کیا خاک تجھے؟ اے مرے نو سال بتاؤں اِس قریۂ ہجراں میں کب آباد ہوا میں تا عمر چھلکتی رہی آنکھوں میں گلابی منہ تک، مئے گل رنگ سے لبریز رہا میں تا حدِّ محبت، تری یادوں کا دھواں تھا رویا، مگر اتنا کہ بس اندھا نہ ہوا میں خالدؔ وہ تھکن تھی کہ تہِ سایۂ مژگاں دیوارِ خمیدہ کی طرح بیٹھ گیا میں