دم سادھ کے دیکھوں تجھے، جھپکوں نہ پلک بھی
-
دم سادھ کے دیکھوں تجھے، جھپکوں نہ پلک بھی آنکھوں میں سمو لوں، ترے لہجے کی دمک بھی اے عشق! اگر مجھ کو ترا اذن ہو ممکن آغوش میں لے لوں، ترے پیکر کی مہک بھی اے ذکر! مرے فکر کی تقدیر بدل دے اے نور! مرے نطق کے کاسے میں چھنک بھی یہ رنگ مرے نور میں رکھے ہیں اسی نے گندھوائی تھی جس نے مری مٹی میں کھنک بھی اس شہر کی جانب مرے پاؤں نہیں اُٹھتے اس دل سے وہی دور کرے گا یہ جھجک بھی کیا میں نے کیا ہے کہ سزاوارِ ردا ہوں مجھ کو تو بہت ہے تری کملی کی جھلک بھی