خالد احمد

خالد احمد

عکس بھی سایہ بھی ضیا بھی نہ تھا

    عکس بھی سایہ بھی ضیا بھی نہ تھا جس کو چھونے کا حوصلہ بھی نہ تھا میں کہ تھا شہرِ بندگی کا مکیں قید میں بھی نہ تھا، رہا بھی نہ تھا کون سمجھے گا ایسا ربطِ لطیف وہ مرا تھا، مگر مرا بھی نہ تھا بج اُٹھیں گھنٹیاں سی کانوں میں ابھی ظالم نے کچھ کہا بھی نہ تھا جل اُٹھی میری پور پور مگر ابھی میں نے اُسے چھوا بھی نہ تھا زندگی میری زخم زخم ہوئی وار خالدؔ ابھی ہوا بھی نہ تھا