ہر آئنے میں ہیں مرا دلدار اور میں
ہر آئنے میں ہیں مرا دلدار اور میں چاروں طرف ہے عکسِ رخِ یار اور میں اس معبدِ وجود میں رہتے ہیں ساتھ ساتھ میری طرح کا ایک گناہگار اور میں گھر کے معاملات پہ ہر رات دیر تک کرتے ہیں گفتگو در و دیوار اور میں اے زندگی نویس مری سرگزشت میں کیوں ہیں الگ الگ مرا کردار اور میں دل رہ گیا پڑا ہوا محراب کے قریب سجدے سے اٹھ کے آگئے دستار اور میں گلچیں سے اختلاف پہ گلشن بدر ہوئے ہر فصلِ گل میں پھول کی مہکار اور میں ممکن نہیں ہے کوئی تعلق ہو بے غرض یہ بحث کر رہے ہیں مرا یار اور میں لاتے گئے طواف کے پھیلاؤ میں کمی مرکز کو ڈھونڈتے ہوئے پرکار اور میں پہچاننا نہیں مجھے مشکل کہ خاص ہیں اس عام سے ہجوم میں دو چار اور میں آتا نہیں سمجھ کہ بنے دوست کس طرح عاصمؔ مرے عدو کا طرفدار اور میں