در بہ در لوگ کہیں گھر تو بسانے سے رہے
در بہ در لوگ کہیں گھر تو بسانے سے رہے چھوڑ کر اپنا وطن کون ٹھکانے سے رہے خود ہمیں شہر کے حالات بدلنے ہوں گے آسمانوں سے فرشتے تو اب آنے سے رہے دوست خود اپنی حفاظت نہیں کر سکتا تو ہم ترے ساتھ اسی ایک بہانے سے رہے تجھ کو پردوں کے تسلسل میں نظر آتا ہے تجھ سے ہم حال یا حالات چھپانے سے رہے تیرا نغمہ تو پرندوں کا نہیں ہم آہنگ ہم ترے ساتھ کسی باغ میں گانے سے رہے کہہ دیا تجھ سے محبت ہے ہمیں، مان نہ مان اب ترے واسطے ہم زہر تو کھانے سے رہے بزمِ کم فہم کے پنڈال میں عاصمؔ جا کر داد کے واسطے ہم شعر سنانے سے رہے