کل اثاثہ ہے یہی، دیکھ لے کیا میرا ہے
کل اثاثہ ہے یہی، دیکھ لے کیا میرا ہے یہ مصلیٰ یہ صحیفہ یہ عصا میرا ہے جا رہا ہے جو کھلے دشت میں جنت کی طرف رقص کرتا ہوا نقشِ کفِ پا میرا ہے اس لئے نشۂ گل وقت میں تحلیل ہوں میں مے پرانی ہے مری جام نیا میرا ہے وہ اسے توڑنا چاہے بھی تو کیا توڑے گا عہد اس کا تو نہیں عہدِ وفا میرا ہے اس سے ثابت ہے محبت کو نہیں حاجتِ قرب غائبانہ یہ تعلق جو ترا میرا ہے تھی عدو کو بھی یہی ضد کہ خدا ہے اس کا میرا اصرار بھی یہ تھا کہ خدا میرا ہے مختلف سمت میں سجدے نہیں ہوتے مجھ سے ہے وہی قبلہ کہ جو قبلہ نما میرا ہے مطمئن ہوں مجھے شہرت سے غرض خاص نہیں وقت میرا نہ سہی عہد مرا میرا ہے