ڈاکٹر صباحت واسطی

ڈاکٹر صباحت واسطی

ہمارے حق میں خوش اظہار ہو سکتے نہیں ہیں

    ہمارے حق میں خوش اظہار ہو سکتے نہیں ہیں فرشتے غیر جانبدار ہو سکتے نہیں ہیں انھیں کیسے نظر آئے گا اپنا دوسرا رخ جو اپنی ذات کے اس پار ہو سکتے نہیں ہیں چلو جا کر اذانِ فجر دیتے ہیں کہیں اور یہاں کے لو گ تو بیدار ہو سکتے نہیں ہیں تمہاری یاد سے اکتا نہیں سکتی طبیعت تمہارے ذکر سے بیزار ہو سکتے نہیں ہیں کہانی کار دے مجھ کو رہائی آئنے سے کہ اک جیسے ہی دو کردار ہو سکتے نہیں ہیں انہی پر کیوں ہمارا کارواں چلتا رہا ہے کبھی جو راستے ہموار ہو سکتے نہیں ہیں کوئی مشکل نہیں اس شہر میں مشہور ہونا مگر ہم اس طرح کے یار ہو سکتے نہیں ہیں مکیں کیا بے سرو ساماں نہیں ہوتے عاصمؔ مکاں کیوں بے درو دیوار ہو سکتے نہیں ہیں