ڈاکٹر صباحت واسطی

ڈاکٹر صباحت واسطی

خیالی منظروں میں رنگ بھرتا جار ہا ہوں

    خیالی منظروں میں رنگ بھرتا جار ہا ہوں میں نا موجود کو موجود کرتا جارہا ہوں زمیں کی انتہائی پستیوں میں آسماں ہے بلندی کی طرف زینہ اترتا جا رہا ہوں مجھے یکجا کیا جاتا تو یہ لمحہ بہ لمحہ مگر ساعت بہ ساعت میں بکھرتا جا رہا ہوں زیاں کرتا چلا جاتا ہوں اپنا ہر قدم پر گزرگاہِ تصرف سے گزرتا جارہا ہوں محبت کے ارادے ہیں بہت مضبوط لیکن محبت کے تقاضوں سے مکرتا جا رہا ہوں بنا رکھا تھا نامہ بر مگر کچھ سوچ کر اب کبوتر کے توانا پر کترتا جا رہا ہوں مری پوریں ہوا کی نبض پر رکھی ہوئی ہیں میں نامحسوس کو محسوس کرتا جا رہا ہوں تری رحمت تو ہے برحق تری محفل میں پھر کیوں لرزتا آ رہا ہوں اور ڈرتا جا رہا ہوں ہر آئینے میں عاصمؔ عکسِ خوش فہمی ہے صیقل بگڑنے کے تناظر میں سنورتا جا رہا ہوں