پھل جب بھی روشنی کے شجر نے نہیں دیا
پھل جب بھی روشنی کے شجر نے نہیں دیا منظر کشید کر کے نظر نے نہیں دیا اک لمحۂ وصال ملا ہے تو پھر اسے ہم نے تمام عمر گزرنے نہیں دیا اے خوابِ حسنِ یار تجھے صبح زار میں آنے دیا ہے بننے سنورنے نہیں دیا اِ ک عشق ہے کہ ہم نے نبھایا ہے مستقل اک زخم ہے جسے کبھی بھرنے نہیں دیا کیا ہو اگر ہو وقت کی رفتار مختلف اس نے مجھے یہ تجربہ کرنے نہیں دیا لایا تھا اک جہاز فلک سے نوادرات ہم نے اسے زمیں پہ اترنے نہیں دیا بے جان جسم رکھ دیئے مصنوعی سانس پر جو مر رہے تھے کیوں انھیں مرنے نہیں دیا عاصمؔ اسی نے بھوک میں لقمہ دیا مجھے جس نے شدید خوف میں ڈرنے نہیں دیا