ڈاکٹر صباحت واسطی

ڈاکٹر صباحت واسطی

صوتِ صورت نما بناتے ہوئے

    صوتِ صورت نما بناتے ہوئے بن گیا میں صدا بناتے ہوئے اس نے آغاز کیا کیا ہوگا وقت کی ابتدا بناتے ہوئے کس طرح درمیاں بنا ہوگا ابتدا انتہا بناتے ہوئے گونج پیدا بہت ہوئی ہوگی خامشی میں صدا بناتے ہوئے تھے کہاں آسمان اور زمین درمیانی خلا بناتے ہوئے کیا کیا ہو گا اتنی مٹی کا اس نے آب و ہوا بناتے ہوئے کس طرح کا ترا تخیل تھا مجھ کو میرے بِنا بناتے ہوئے کیا ثواب و گنہ تھے پیشِ نظر مجھ کو اچھا برا بناتے ہوئے دیر اس کو ذرا نہیں لگتی کوئی شے دیر پا بناتے ہوئے میں بنانے لگا تری تصویر دفعتاً رک گیا بناتے ہوئے خود بہ خود عشق ہو گیا تخلیق دل بنا دلربا بناتے ہوئے