خود سری بے بس و مسمار نظر آئی ہے
خود سری بے بس و مسمار نظر آئی ہے ایک روندی ہوئی دستار نظر آئی ہے مرحبا! عالمِ سر مست ہے منظر منظر جا بہ جا صورتِ دلدار نظر آئی ہے کیوں نہ میں رقص کروں اور مسلسل کیے جاؤں یار کے پاؤں کی جھنکار نظر آئی ہے یہ جو تم اڑنے لگے ہو کسی تتلی کی طرح کیا تمہیں پھول کی مہکار نظر آئی ہے اک نئے سائے کی تخلیق ہوئی ہے ممکن روشنی سی پسِ دیوار نظر آئی ہے سرسری میں نے جسے ایک نظر دیکھا تھا پھر وہی شکل کئی بار نظر آئی ہے مرحلہ حق کی حمایت کا ہے شاید عاصمؔ سر پہ لٹکی ہوئی تلوار نظر آئی ہے