ڈاکٹر صباحت واسطی

ڈاکٹر صباحت واسطی

مصور ممکن و امکان کا پیکر بناتا ہے

    مصور ممکن و امکان کا پیکر بناتا ہے مری تصویر وہ مجھ سے بہت بہتر بناتا ہے اسے آتا ہے رکھنا تقش میں تجدید کا رنگ پرانے کینوس پر نت نئے منظر بناتا ہے سفر کرتا ہے خارج کی طرف ہر نقش داخل سے مرے باہر کا منظر وہ مرے اندر بناتا ہے بنا دیتا ہے پہلے خون سے اک جسم کاغذ پر پھر اس کے بعد وہ تصویر میں خنجر بناتا ہے ہم اہلِ آگہی سجدہ نہیں تجسیم کر سکتے ہمیں معلوم ہے پتھر سے کیا آذر بناتا ہے طلسمِ خود فریبی ہے کہ خوش ہے فتح پر وہ بھی سپاہی مانگ کر دشمن سے جو لشکر بناتا ہے ہماری سرکشی کی حد اسے معلوم کیا عاصمؔ وہ سادہ خو ہتھیلی پر ہمارا سر بناتا ہے