عمارات شمارہ

عمارات شمارہ

اہرامِ مصر

     

    مغل شہنشاہ شاہ جہاں کی بیٹی جہاں آرا فارسی کی بہت اچھی اور معروف شاعرہ تھی ، کسی خاص واقعہ سے متاکر ہو کر اُس نے شہنشاہ کی موجودگی میں ایک مصرعہ گنگنایا ” نیمے دروں نیمے بروں “۔ بادشاہ کوکسی غلط خیال کا اندیشہ ہوا اور اس نے مصرعہ کی وضاحت طلب کی ۔ شہزادی نے فی البدیہ جو چار مصرعے بیان کئے اُن میں سے پہلے مصرعے کے لفظ ’’شاہ جہاں‘‘ کو ہم نے تبدیل کر کے ’’اہرامِ آں‘‘ کر دیا ہے، اب یہ چار مصرعے ہمارے موضوع ” اہرامِ مصر “ کے اوصاف کے بارے میں صحیح عکاسی کرتے ہیں، مصرعے ملاحظہ کیجیے۔

    از ہیبتِ ’’اہرام ِآں‘‘

    لرزد زمین و آسماں

    انگشتِ حیرت در دہاں

     نیمے دروں نیمے بروں

    آسان ترجمہ یہ ہے کہ، اہرام ِمصر کی ہیبت و جلال سے زمین و آسمان لرزتے ہیں ، اور عالم یہ ہو جاتا ہے کہ حیرت و استعجاب سے انگلی آدھی منہ کے اندر اور آدھی باہر رہ جاتی ہے‘‘ یہ عظیم الجثہ مثلثی سنگی عمارتیں وہ پتھروں سے بنے مقبرے ہیں جو پچھلے ایک ہزار برس سے دنیا بھر کے سائنس دانوں ، علماء، صوفیاء اور عام لوگوں کے درمیان موضوع بحث رہے ہیں۔ ان کے مباحثے کا زیادہ تر محور و مرکز مصر کا سب سے بڑا اہرام The great Pyramid of Cheops رہا ہے، جس کے کئی تلفظ کیے جاتے ہیں، ’’شی اوپس‘‘ یا ’’چیوپس‘‘ یا ’’خیوف‘‘ وغیرہ لیکن مصری لوگ ’’خوفو‘‘ سے یاد کرتے ہیں۔

    یہ تراشیدہ سنگی چٹانوں کا وہ چیستانی انبار ہے جو ہزاروں برسوں سے انسانی ادراک و اذہان کے ایک لاینحل معمہ اور ناقابل تسخیر چیلنج کی حیثیت سے سینۂ گیتی پر بڑی شان اور دبدبے سے ایستادہ ہے۔ آج بھی جب کہ انسان نے خلاء کی وسعتوں اور سمندروں کی گہرائیوں تک کو کھنگال ڈالا ہے ،شی اوپس کا یہ عظیم اہرام پہلے ہی کی طرح کھڑا جدید سائنس اور سائنس دانوں کا منہ چڑا رہا ہے۔

    فراعنۂ مصر نے یہ اہرام اپنی قدیم بادشاہت کے اُس دور میں تعمیر کیے تھے جو 4400 قبل مسیح سے شروع ہو کر 2466 قبل مسیح پر ختم ہوتا ہے۔ اس دوران اُن کے گیارہ خاندانوں نے حکومت کی۔ مینز Menes اس خاندان کا پہلا بادشاہ تھا جس نے زیریں مصر میں میمفس Memphis کا شہر بسایا جو نئے بادشاہ کے آنے تک مصر کا دارالحکومت رہا اگر چہ اسی زمانہ میں تھیبس Thebes کا شہر بھی وجود میں آچکا تھا۔ تیسرے خاندان کے دورِ حکومت میں اینٹوں کے مکانات بننے شروع ہو چکے تھے۔ اور مقبروں کی تعمیر شروع ہو چکی تھی۔ لکھنے کے فن کو ترقی حاصل ہو چکی تھی ۔ ’’مستبہ Mastabas ‘‘ عمارتوں کی مسطح چھتیں اب بادشاہوں کے نو کیلے مقبروں کی عمارتوں میں تبدیل ہونی شروع ہوگئی تھیں جنہیں اب ہم اہرام کہتے ہیں۔ ان اہراموں کی تعمیر چوتھے خاندان کے دورِ حکومت میں ہوئی۔ اگرچہ پہلا اہرام ’’سینیفرع Seneferu ‘‘ نے تعمیر کیا تھا مگر جس اہرام کو اُس کے بعد تعمیر کیا گیا وہ ’’شی اوپس‘‘ کا مقبرہ ہے اور اسی کو سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔

    دوسرا اہرام ’’خافرا‘‘ نے بنوایا جسے Chephren کہتے ہیں۔ تیسرے اہرام کا تعلق ’’میکرینوز یا مینکورا‘‘ سے ہے، اس کے نام کے تلفظ میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے، اسے Mykerinos یا Menkaura پڑھا گیا ہے۔ یہ تینوں اہرام شہر قاہرہ سے قریب غیزہ Gizeh کے مقام پر واقع ہیں۔

    ان اہراموں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ہر بادشاہ اپنے اپنے اہرام میں زندگی کے دوران میں اضافہ کرتا رہتا تھا، یہاں تک کہ اس کی موت واقع ہو جاتی تھی۔ ان میں رکھے گئے تابوت بھی بادشاہ کی لاش ان میں محفوظ کر کے بعد میں رکھے جاتے تھے، کئی اہراموں میں اتنے بڑے بڑے تابوت ملے ہیں کہ راہ داریوں کی تنگی کی وجہ سے انہیں اندر نہیں لایا جا سکتا تھا بلکہ انہیں اہرام کے اندرہی پتھروں کو تراش کر بنایا گیا تھا، ان اہراموں کے بارے میں دلچسپ ترین موضوع یہ ہے کہ ان کی تعمیر کس طرح ہوئی تھی۔ اس بارے میں بہت سی قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں اور اُن میں بڑا اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ دوسرے اہرام کے عقب میں کچھ بیر کس نما تعمیرات کے آثار پائے جاتے ہیں جن میں تقریباً چار ہزار افراد کی گنجائش نکل سکتی ہے اور غالباً یہی تعداد اہرام کی تعمیر کے لیے تربیت یافتہ افراد کی بھی رہی ہوگی۔ تعمیر کے سلسلے میں طرح طرح کے نظریات پائے جاتے ہیں ،جن کے بارے میں تفصیلی کتب لکھی گئی ہیں فلمیں بنی ہیں اور نہ جانے کتنی ڈاکومینٹریز بنائی گئی ہیں اور ہر نظریہ کی عملی شکل خاصی حد تک قرینِ قیاس معلوم ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان اہراموں کے بارے میں دنیا  اب تک تذبذب کا شکار ہے اور کسی نظریہ کو بھی یقین کا درجہ حاصل نہیں۔

    اہرام کے معماروں نے پہلےغزہ کی سطح مرتفع کے ایک ایک انچ کو ہموار کیا ہوگا پھر اپنے کمالِ فن کو سینۂ   گیتی پر ثبت کیا ہو گا، یہ سطح مرتفع قاہرہ سے چند میل دور دریائے نیل سے ایک سو تیس فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہ عظیم اہرام جسے عرف عام میں شی اوپس کا اہرام کہا جاتا ہے، پتھر کے دو سو ایک، ایک کے بعد دوسرے بلند ہوتے ہوئے متوازی زینوں پر مشتمل ایک چالیس منزلہ بلند عمارت ہے۔ بنیادی طور پر اس کی ساخت   میں سفید چونے کے پتھر کی وسیع بیرونی دیوار بھی شامل ہے۔ اس کی چورس بنیاد 13-1/4 ایکڑ رقبے پر محیط ہے۔ اس کی چاروں بنیادی سمتوں میں سے ہر ایک کی لمبائی 760 فٹ 11 انچ ہے۔ اس طرح اگر آپ اہرام کی بنیاد کا چکر لگا ئیں تو تقریبا 2/3 میل کا فاصلہ طے کرلیں گے۔

    اس اہرام میں نوے ملین ( نو کروڑ ) مکعب فٹ پتھر استعمال کیا گیا ہے۔ اس کی تعمیر میں لگائے گئے کل پتھروں کا اندازہ تئیس لاکھ ( 2300000 ) کے قریب لگایا گیا ہے، جن میں سے ہر پتھر کا وزن دو سے تین ٹن تک کا ہے، گویا کہ اہرام میں استعمال شدہ پتھروں سے امریکہ کی سالٹ لیک سٹی اوٹا سے نیو یارک شہر تک ایک فٹ موٹی اور اٹھارہ فٹ چوڑی شاہراہ بنائی جاسکتی ہے۔ جیومیٹری کے حساب سے یہ عظیم اہرام صحیح معنوں میں ایک ایسا اہرام ہے جس کی بنیاد ایک مکمل مربع ہے۔ اور اس کی چاروں اطراف مساوی مثلثوں کی شکل کی ہیں جو بنیاد سے اوپر اور اندر کی طرف اُٹھی ہوئی ہیں۔ اس کے اطراف کی ڈھلان تقریباً 51 ڈگری کے زاویے پر رکھی ہوئی ہے۔ بلندی پر جا کر یہ اطراف ایک ایسے نقطے پر ملتی ہیں جو بنیاد کے عین مرکز کی سیدھ میں ہے۔ اس عظیم اہرام کا ایک اور امتیاز اس کی بنیاد کے ساکٹ ہیں ، یعنی ایسے سوراخوں کا سلسلہ جو بنیاد کی چٹان میں اطراف کے بنیادی پتھروں کو تھامے ہوئے ہیں۔

    اہرام کا ایک قابل ذکر پہلو اس کی حیرت انگیز سمت بندی (Orientation) ہے۔ بنیاد کو ٹھیک شمال جنوب مشرق مغرب کی سمت میں اس طرح رکھا گیا ہے کہ پانچ سیکنڈ کی غلطی بھی دریافت نہیں کی جا سکی۔ یہ دنیا کی انتہائی درست سمتی عمارت ہے۔ اس کی تعمیر کے وقت اس کی سمتوں میں انتہائی احتیاط سے کام لیا گیا تھا۔ یہ پانچ سیکنڈ کی غلطی بھی اگر ہے تو محض زلزلے یا زمینی خول کے   کھسکنے یا ایسی ہی کسی اور وجہ سے رہ گئی ہے ، اور یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ اہرام کے معماروں کے پاس ہماری طرح جدید ترین سمت پیما  آلات بھی نہیں تھے چناں چہ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ان کے پاس سمت پیمائی کا جو علم تھا وہ اب داستان ِپارینہ بن چکا ہے۔

    اہرام میں اندر جانے کے لیے شمال کی جانب ایک دروازہ بنایا گیا ہے جو زمین سے 47 فٹ چھ انچ اونچائی پر ہے اور ایک راہ داری میں کھلتا ہے، یہ راہ داری کچھ دور جانے کے بعد نیچے کی طرف چلی گئی ہے اور پھر یہ راستہ اوپر کی جانب اہرام کے قلب میں واقع گرینڈ گیلری یا شاہی چیمبر میں پہنچ جاتا ہے۔ شاہی مقبرہ میں ایک دروازہ کے ذریعہ داخل ہوتے ہیں۔ یہ شادی چیمبر یا شاہی مقبرہ ساڑھے چونتیس فٹ طویل، سترہ فٹ عریض اور انیس فٹ اونچا ہے جسے ایک انتہائی وزنی پتھر سے ڈھک دیا گیا ہے، یہ پتھر تقریباً پچاس ٹن وزنی ہے۔ بیچ میں گرینائٹ پتھر کا تابوت رکھا ہوا ہے۔ جس میں فرعون کی ممی شدہ لاش رکھی گئی تھی۔ یہیں سے دو ہوا کی نالیاں شمال اور جنوب کی طرف جاتی ہیں جن کی پیمائش صرف آٹھ انچ اور چھ انچ ہے۔ یہ دونوں سوراخ بیرونی سطح تک جاتے ہیں ۔ یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ اتنی چھوٹی سی نالی اتنی طویل کس طرح بنائی گئی ہوگی ؟ یہ نالیاں یا تو ہوا کے لیے بنائی گئی تھیں یا پھر روح کے باہر جانے کے لیے ؟ شاہی چیمبر کے علاوہ دوسرا چیمبر ملکہ کا ہے جو نسبتاً چھوٹا اور شاہی چیمبر کے کافی نیچے واقع ہے، یہاں پہنچنے کے لیے شمالی راستہ استعمال کیا جاسکتا ہےتیسرا چیمبر زیر زمین واقع ہے، اس طرح شی اوپس کے اس اہرام میں تین چیمبر تعمیر کیے گئے ہیں۔ بیرونی سطح کو چونے کے پتھروں کی سلوں سے ڈھانیا گیا تھا جواب غائب ہو چکے ہیں ۔ اب بیرونی سطح وزنی پتھروں کی سیڑھیوں جیسی نظر آتی ہے۔ تیسرا چیمبر جو زیر زمین واقع ہے ، اس میں بھی ایک ہوا کی نالی ( شافٹ) موجود ہے جو ملکہ کے چیمبر کو جاتے ہوئے راستے اور صدر دروازے سے آتے ہوئے راستے کو ملاتی ہے۔ اس اہرام کی مجموعی اونچائی 480 فٹ ہے۔

    ملکہ کا چیمبر اٹھارہ فٹ دس انچ لمبا ، سترہ فٹ ایک انچ چوڑا اور پہلی سطح پر اس کی دیواریں پندرہ فٹ چار انچ اونچی ہیں ۔ اس کمرے کی محرابی یا نوکیلی چھت کی زیادہ سے زیادہ بلندی بیس  فٹ پانچ انچ ہے۔ کمرے کی مشرقی دیوار میں ایک غیر معمولی طاق بنا ہوا ہے جسے Great Niche کہا جاتا ہے۔

    ابوالہول The Great Sphinx

    ابو الہول عربی لفظ ہے جس کے معنی ” خوف والا“ ہے SPHINX یونانی لفظ ہے۔ قبطیوں کے ہاں اس کا نام ”بلبیب‘‘ تھا جو بگڑ کر ’’بلہول‘‘ ہو گیا اور بعد میں ’’ابوالہول‘‘ ہو گیا یہ عجیب و غریب مجسمہ شی اوپس کے اہرام کے سامنے پایا جاتا ہے جو پتھریلی چٹان کو کاٹ کر بنایا گیا ہے اور پتھر کی اینٹوں سے اس کی مزید تشکیل کی گئی ہے، اس کا جسم شیر سے مشابہ ہے جب کہ اس کا چہرہ انسان کا ہے، یہ شی اوپس کے اہرام کی تعمیر کے وقت بھی موجود تھا یعنی 3700 قبل مسیح سے قبل اس کو بنایا گیا تھا، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کی شکل ’’ہورس‘‘ سے ملتی جلتی ہے جو طلوع ہوتے ہوئے سورج کا خدا تھا۔ یہ ڈیڑھ سوفٹ لمبا اور 65 فٹ اونچا ہے جب کہ اس کا چہر ه 13 فٹ 6 انچ چوڑا ہے۔ یہ پورا مجسمہ (ابوالہول ) صحرا کی ریت میں دبا ہوا تھا ، 1816 ء کی کھدائی میں یہ دریافت ہوا۔ آج تک یہ بات تحقیق طلب ہے کہ اس کے بنانے کا کیا مقصد تھا ؟ اس کے پنجوں کے پاس ایک پتھر کی سل پائی جاتی ہے، ایسی سِل عموماً انسانی قربانی کے لیے استعمال کی جاتی تھی لہٰذا شاید یہ قربان گاہ کے طور پر استعمال ہوتی ہو؟ یہ مجسمہ کب بنا، کیوں کر بنا، کس نے بنایا، یہ سب باتیں ماہ و سال کے دبیز پردوں میں چھپی ہوئی ہیں۔ مجسمہ کی ایک داڑھی بھی تھی جو ریت میں دبی ہوئی پائی گئی ہے اور جواب برٹش میوزیم کی زینت ہے۔

    مصر کے یہ اہرام غیزہ کے لق و دق صحرا میں تعمیرات کا عجیب و غریب نمونہ بنے ہوئے دنیا کی بے ثباتی اور ثبات کا شاہ کار ہیں۔ جس وقت یہ تعمیر کیے گئے ہوں گے یقینا ًیہ علاقہ اُس وقت اپنی تعمیرات کے لیے بہترین شمار کیا گیا ہوگا اور تعمیرات کرنے والوں کے حیطۂ ادراک میں بھی یہ بات نہ ہوگی کہ زمانہ اتنی سنگلاخ اور مضبوط عمارتوں کے با وصف ایک نہ ایک دن ان کو برباد کرنے کی کوشش ضرور کرے گا۔ وہ شاید اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اُن کی حکومتوں کو دوام حاصل رہے گا اور یہ عمارتیں اپنی اصلی حالتوں میں یوں ہی قائم و دائم رہیں گی۔ غالباً یہی ایمان وایقان وہ جذبہ تھا جس نے اُن سے ایسی محیر العقول عمار تیں تعمیر کروالیں ۔ حقیقت یہی ہے کہ بڑے بڑے کام اُسی وقت ظہور پذیر ہوتے ہیں جب اُس عزم صمیم سے کام لیا جائے کہ یہ کام ہر حالت میں اختتام پذیر ہوگا اور اس کی تکمیل میں کوئی بھی سنگ گراں حائل نہ ہو سکے گا ، اکبرالٰہ آبادی نے کس قدر خوبصورت انداز میں یہی بات چارمصرعوں میں کہہ رکھی ہے۔

    دنیائے دنی کو نقشِ فانی سمجھو

     ہر سانس کو آنی جانی سمجھو

     پر جب بھی کرو آغاز کوئی کام بڑا

     ہر سانس کو عمرِ جاودانی سمجھو