احمد ندیم قاسمی

احمد ندیم قاسمی

تُو بشر بھی ہے مگر فخرِ بشر بھی تُو ہے

    تُو بشر بھی ہے مگر فخرِ بشر بھی تُو ہے مجھ کو تو یاد ہے بس اِتنا سراپا تیرا میں تجھے عالمِ اشیا میں بھی پا لیتا ہوں لوگ کہتے ہیں کہ ہے عالمِ بالا تیرا میری آنکھوں سے جو ڈھونڈیں، تجھے ہر سو دیکھیں صرف خلوت میں جو کرتے ہیں نظارا تیرا وہ اندھیروں سے بھی دَرَّانہ گزر جاتے ہیں جن کے ماتھے میں چمکتا ہے ستارا تیرا ندیاں بن کے پہاڑوں میں تو سب گھومتے ہیں ریگزاروں میں بھی بہتا رہا دریا تیرا شرق اور غرب میں بکھرے ہوئے گلزاروں کو نکہتیں بانٹتا ہے آج بھی صحرا تیرا اب بھی ظلمات فروشوں کو گِلہ ہے تجھ سے رات باقی تھی کہ سورج نکل آیا تیرا تجھ سے پہلے کا جو ماضی تھا، ہزاروں کا سہی اَب جو تا حشر کا فردا ہے وُہ تنہا تیرا ایک بار اور بھی بطحا سے فلسطین میں آ راستہ دیکھتی ہے مسجدِ اقصیٰ تیرا