احمد ندیم قاسمی

احمد ندیم قاسمی

ارتقا اس سے اجازت مانگے

    ارتقا اِس سے اجازت مانگے اُن سے ہو جائے وہ امت اُن کی میں کہ راضی بہ رضائے رب ہوں کوئی حسرت ہے تو حسرت اُن کی میں کہ ہر حال میں ہوں شکر بہ لب کوئی حاجت ہے تو حاجت اُن کی وقت اور فاصلہ برحق، لیکن میرا فن کرتا ہے بیعت اُن کی میرا معیارِ غزل خوانی ہے حرفِ سادہ میں بلاغت اُن کی نعت میری ہے، اشارہ اُن کا پھول میرے ہیں تو نگہت اُن کی کبریائی پہ کروں غور، ندیم اور تکتا رہوں صورت اُن کی