Toggle navigation
شاعری
نظم
غزل
مثنوی
نعت
حمد
قصیدہ
قطعہ
نثری نظم
شعری تراجم
شعری مزاح
نثر
نثر نگار
افسانہ
ناول
ناولٹ
ڈرامہ
خاکہ
مضامین
ادبی کالم
یاداشتیں
تنقید
نثری تراجم
انشائیے
فنون-لطیفہ
موسیقی
مصوری
خطاطی
رقص
فن تعمیر
رسائی ادب
سلام
مناقب
مرثیہ
شعرا
(current)
ای-کتاب
عالمی ادب
ارسال کریں
جون ایلیا
ہیں بے طور یہ لوگ تمام
ہیں بے طور یہ لوگ تمام
ان کے سانچے میں نہ ڈھلو
میں بھی یہاں سے بھاگ چلوں
تم بھی یہاں سے بھاگ چلو
قطعہ
غزل
ہے محبت حیات کی لذت
چاند کی پگھلی ہوئی چاندنی میں
مری جب بھی نظر پڑتی ہے تجھ پر
وہ کسی دن نہ آ سکے پر اسے
جو حقیقت ہے اس حقیقت سے
شرم، دہشت، جھجھک، پریشانی
پسینے سے مرے اب تو یہ رومال
تم ہو جاناں شباب و حسن کی آگ
آپ کو تلخ نوائی کی ضرورت ہی نہیں
چڑھ گیا سانس، جھک گئیں نظریں
تم زمانے سے لڑ نہیں سکتیں
دور نظروں سے خلوتِ دل میں
شرابی بھول جاتے ہیں سبھی کچھ
ہیں بے طور یہ لوگ تمام
تیری یادوں کے راستے کی طرف
لہو روتے نہ اگر ہم دم ِ رخصت یاراں
کیا ہیں وہ اپنی وعدہ گاہیں
عجب تھا اس کی دلداری کا انداز
بات ہی کب کسی کی مانی ہے
نشۂ ناز نے بے حال کیا ہے تم کو
اپنے سب یار کام کر رہے ہیں
عمر گزرے گی امتحان میں کیا
نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
بے قراری سی بے قراری ہے
کتنے عیش اڑاتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے
حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی