چڑھ گیا سانس، جھک گئیں نظریں
چڑھ گیا سانس، جھک گئیں نظریں
رنگ رخسار میں سمٹ آیا
ذکر سن کر مری محبت کا
اتنے بیٹھے تھے، کون شرمایا؟
چڑھ گیا سانس، جھک گئیں نظریں
رنگ رخسار میں سمٹ آیا
ذکر سن کر مری محبت کا
اتنے بیٹھے تھے، کون شرمایا؟