وحید الحسن ہاشمی

وحید الحسن ہاشمی

دل کو تسکین نگاہوں کو ضیا ملتی ہے

    دل کو تسکین نگاہوں کو ضیا ملتی ہے ہر مرض کی درِ حیدرؑپہ دوا ملتی ہے ایک پل کو بھی نہ ہو حُبِّ علیؑ سے غافل اس تغافل کی بڑی سخت سزا ملتی کم طلب خلد درِ آل محمدؑ پہ نہ مانگ یہ تو سلمانؑ کے زیرِ کفِ پا ملتی ہے دیکھ یہ شرط ِوفاداریِ غم کھیل نہیں ہاتھ کٹتے ہیں تو معراجِ وفا ملتی ہے آ درِ آل محمدؑ پہ مریضِ اُلفت اس جگہ درد سے پہلے ہی دوا ملتی ہے کیوں جھجھکتا ہے سوئے کرب و بلا جانے سے رہِ کعبہ سے رہِ کرب و بلا ملتی ہے درد کا زہر سہی موت کی تکلیف سہی یا علیؑ کہہ دے جو دل سے تو شفا ملتی ہے سہل اتنا تو نہیں جنسِ مشیّت کا حصول تیغ کی چھاؤں میں خالق کی رضا ملتی ہے