جو ہوا شام میں طاقت کے پرستار کے ساتھ
جو ہوا شام میں طاقت کے پرستار کے ساتھ اب نہ ٹکرائے گا کوئی کسی بیمار کے ساتھ مرحبِ وقت کا سر آج بھی کٹ سکتا ہے ہو مگر دست ِید اللہ بھی تلوار کے ساتھ اس کا کچھ نام تو دینِ نبویؐ میں ہو گا رُخ ابوذرؓ کی طرف پاؤں ہیں زردار کے ساتھ کل اسی بات پہ کاٹے گئے معصوم گلے آج ہر شخص ہے شبیرؑ کے انکار کے ساتھ کیسے شبیرؑ گنہگار کی بیعت کر لیں دین بدلا ہے کہیں وقت کی رفتار کے ساتھ میرا ذمّہ جو نہ فردوس کی خوشبو آئے دو قدم چل کے تو دیکھو کسی زوار کے ساتھ پائے قرآں میں پنھائی گئی جس دم زنجیر پھر قرأت چلی زنجیر کی جھنکار کے ساتھ غور کرنا کبھی شبیرؑ پہ مرنے والو نام شبیرؑ کا آتا ہے تو کردار کے ساتھ