وحید الحسن ہاشمی

وحید الحسن ہاشمی

یہ اختیار کتنا وسیع و بلند ہے

    یہ اختیار کتنا وسیع و بلند ہے سارا جہاں حسینؑ کی مٹھی میں بند ہے بدلا ہے کربلا میں تقاضائے انقلاب نیزے پہ اب جو سر ہے وہی سر بلند ہے کیا ان کی ہمتوں پہ کوئی تبصرہ کرے بچہ بھی جن کے گھر کا شہادت پسند ہے ہر قوم چاہتی ہے کہ ہو جائے خود اسیر اتنی حسینیتؑ کی موثر کمند ہے ایوانِ انبساط میں جنت نہ کر تلاش یہ تو غمِ حسینؑ کے آنسو میں بند ہے دیکھے جہاں حسینؑ کی آغوش کا کمال ہے تیر پست گردن ِاصغر بلند ہے اب اس سے بڑھ کے رنگِ مساوات کیا ملے فرشِ عزا پہ پست نہ کوئی بلند ہے یہ دل پہ منحصر ہے مبارک تمہیں ہنسی مجھ کو غمِ حسینؑ میں رونا پسند ہے