وحید الحسن ہاشمی

وحید الحسن ہاشمی

یہ آرزو تھی مدینے کبھی جو چلتے ہم

    یہ آرزو تھی مدینے کبھی جو چلتے ہم درِ حضورؐ کی مٹی جبیں پہ ملتے ہم یہ ہے حضورؐ کی بس اِک نگاہ کا فیضان زمانہ بدلے تو بدلے، نہیں بدلتے ہم جو تشنگانِ ولائے نبیؐ کی ہوتی تلاش تو اس زمانے میں بس ایک ہی نکلتے ہم نظر جو آتی کہیں شمعِ رُوئے پیغمبرؐ زمانہ دیکھتا مثلِ پتنگ جلتے ہم جو پختہ کار نہ تھے عشق میں پلٹ آئے درِ نبیؐ پہ پہنچ کر کبھی نہ ٹلتے ہم دیا حضورؐ نے ہم کو علوم کا دریا نہ ہوتے آپ تو صحرا میں ہاتھ ملتے ہم تجلیِ درِ سردارِ انبیاء کے حضور بڑے بڑے جو نہ سنبھلے تو کیا سنبھلتے ہم نبیؐ کے عشق نے ہم کو کیا ہے بار آور نہ ہوتا عشق تو پھر پھولتے نہ پھلتے ہم