مصطفیٰ ارباب

مصطفیٰ ارباب

سیب

    وہ ایک سیب اٹھا کر اپنے نازک اور خوب صورت ہاتھوں سے قاشیں بنا کر کھانے لگتی ہے میٹھا اور رسیلا سیب جسے وہ سفید دانتوں سے آہستہ آہستہ چباتی ہے مزہ اس کے منہ میں گھلتا ہے قریب ہی بیٹھا ہوا فرد اپنے کھردرے ہاتھوں سے اسی سیب کی ایک قاش پلیٹ میں سے اٹھاتا ہے اور بے مزہ پھیکے سیب کو تھوک دیتا ہے دونوں حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں وہ نہیں جان سکتے سیب کو صرف لڑکی پسند آئی تھی!