نظم کا بائیوڈیٹا
نظم آپ کو کہیں بھی مل سکتی ہے مسجد کی سیڑھیوں پر ، گھر سے بھاگنے والی لڑکی کے بیگ میں پبلک لیٹرینوں کی دیواروں پر، خود کشی کرنے والے کی جیب میں نظم کو آپ کہیں بھی لے جا سکتے ہیں کسی مزار پر، کسی گرجے کے پچھواڑے، جوا خانے میں سبزی منڈی کے گوداموں میں ، کال کوٹھڑی میں نظم کسی کے ساتھ بھی سوسکتی ہے بانجھ عورت کے ساتھ ، بد بودار سیٹھ کے بستر میں مولوی کی چار پائی پر ،سادھو کی کٹیا میں نظم کو کوئی بھی پہن سکتا ہے حیض زدہ عورت بھی ،نو بالغ لڑکی بھی ، بوڑھا فقیر بھی نظم کو کوئی بھی چھو سکتا ہے اس کی رانوں پر، اس کے کولہوں پر، اس کے پاؤں کے ناخنوں پر آپ نظم کو گنگنا سکتے ہیں پینٹ کر سکتے ہیں