اسلم انصاری

اسلم انصاری

اب اور جلنے کا اس دل میں حوصلہ ہی نہ تھا

    اب اور جلنے کا اس دل میں حوصلہ ہی نہ تھا کہ شہرِ شب میں اجالوں کا شائبہ ہی نہ تھا میں اس گلی میں گیا لے کے زعمِ رسوائی مگر مجھے تو وہاں کوئی جانتا ہی نہ تھا میں چپ کھڑا تھا کہ سب کہہ چکیں تو میں بھی کہوں کہ مجھ کو عرضِ تمنا کا اِدّعا ہی نہ تھا کسے کہیں کہ رفاقت کا داغ ہے دل پر بچھڑنے والا تو کھل کر کبھی ملا ہی نہ تھا گدازِ جاں سے لیا میں نے پھر غزل کا سراغ کہ یہ چراغ تو جیسے کبھی بجھا ہی نہ تھا مسافروں کو کئی واہمے ستاتے ہیں ٹھہرتے کیا کہ دریچے میں تو دیا ہی نہ تھا چمک اٹھا تھا وہ چہرہ حیا کی چادر میں کہ جیسے جرمِ وفا اس سے تو ہوا ہی نہ تھا ہمارے ہاتھ فقط ریت کے صدف آئے کہ ساحلوں پہ ستارہ کوئی رہا ہی نہ تھا