جاوید انور

جاوید انور

کاسنی کی آبشار

    ..... کہ میں مرا مریض ہوں یہ جاننے میں آدھا دن گزر گیا کہ وہ نمازِ عصر کے ادھر جو کاسنی کی آبشار کا گلاب ہے غلیل کر نہیں رہا مری رگوں کو میں مرا تناؤ ہوں مجھے پتا نہیں چلا کہ وہ کہہ رہا تھا اور دن گزر گیا عجیب طبیب تھا میں آپ کا میں سن رہا تھا دیکھتا تھا جانتا تھا سوچتا تھا جانتا نہیں یہ بے وقوف رات بھی گزارنے کی چیز ہے میں جاگتا رہا .....!!