مرثیہ خوانی کے عناصر
ابھی تک فنِ مرثیہ خوانی کے بارے میں جو بیانات اور اقتباسات پیش کیے گئے ہیں ان کی اور کچھ مثالوں کی روشنی میں اس فن کے حسبِ ذیل عناصر قابلِ توجہ قرار پاتے ہیں:
( ۱) آواز:
مرثیہ خوانی بڑے مجمعے کے سامنے کلام سنانے کا فن تھا۔ اُس زمانے میں جب آواز کو بڑھانے اور دور تک پہنچانے کے مشینی وسیلے موجود نہیں تھے، مرثیہ خواں کے لیے سب سے اہم چیز اس کی آواز تھی۔ ایسی آواز جو دور تک یکساں سنائی دے ،’پلّہ کش‘ کہلاتی ہے۔ تقریباً سبھی مشہور مرثیہ خوانوں کی آواز ، خواہ باریک ہو یا موٹی ، پلّہ کش ضرور ہوتی تھی۔ پیارے صاحب رشید کی آواز پتلی تھی۔ حیدرآباد میں جہاں وہ نواب بہرام الدولہ کے یہاں پانچ چھ ہزار کے مجمعے میں مرثیہ پڑھتے تھے اُن کی آواز کے پلے کا تجربہ کرنے کے لیے:
ایک صاحب پیشتر منبر کے نیچے پھر وسطِ مجلس کے بالکل آخری حصے میں دیوار سے لگ کر کھڑے ہو گئے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ ’’جیسے ہم منبر کے نیچے آواز سن رہے تھےبالکل اسی طرح آخر صف میں بھی آواز تھی۔‘‘١
مرزا دبیر کے فرزند مرزا اوج لکھنوی کی ’’آواز بڑی تھی جس سے دور بیٹھے سامعین بھی ان کا کلام آسانی سے سن کر محظوظ ہوتے تھے۔‘‘٢
دولہا صاحب عروج کی آواز کے بارے میں ان کے شاگر داقبال بہادر ترکمان بتاتے ہیں:
جس طرح سے کہ شیر ڈنکارتا ہے اُس طرح سے آواز نکلتی تھی۔ کسی طرح کے لاؤڈ اسپیکر کی ضرورت نہیں ہوتی تھی اور مجلس کے آخر میں جو شخص ہوتا تھا وہ بھی سن لیتا تھا۔٣
مرثیہ خوانوں کی آواز زیادہ تر ایسی ہوتی تھی کہ اہلِ مجلس کی دادو تحسین بلکہ رقت کے شور میں بھی سنائی دے سکتی تھی۔ اس خصوص میں میر مہر علی اُنس کی آواز غیر معمولی تھی ۔ ۱۲۹۲ ھ کے محرم میں حیدر آباد کے نواب تہو ر جنگ کے یہاں اپنی خوانندگی کا حال انہوں نے دُلہی پور ( بنارس ) کے حکیم سید علی کے نام ایک خط میں لکھا ہے۔ اس میں اپنی آواز کا ذکر اس طرح کرتے ہیں:
اور طرفہ یہ کہ اب کے مجھ کو یقین تھا کہ پہلی ہی تاریخ آواز گرفتہ ہو جائے گی، سونویں تک آواز کا یہ عالم تھا کہ آسمان تک جاتی تھی اور پانچ ہزار آدمیوں کی رقت پر بالاتھی ۔٤
شیخ ممتاز حسین جون پوری نے اپنے کم سنی کے زمانے میں میر اُنس کو پڑھتے سنا تھا۔ وہ جون پور کی ایک مجلس کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
برسات کا موسم تھا۔ مفتی محلے میں ایک بڑے شامیانے کے نیچے فرش بچھا ہوا تھا اور زیرشامیانہ منبر پر اُنس صاحب مجلس پڑھ رہے تھے۔ ان کی عمر اتنی کافی ہو چکی تھی کہ اس عمر کے لوگوں کو عموماً نشست و برخاست اور زور سے صدا دینے میں تکلف ہوتا ہے۔ مجلس پڑھنے کے دوران میں پانی برسنے لگا اور جابجا شامیانے سے بھی پانی ٹپکنا شروع ہوا۔ سامنے ایک ٹین کا سائبان تھا جس پر بوندیں جب پڑتیں تو اس قدر زور سے تڑ تڑ کی آواز آتی تھی کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ اب پانی نے اور زور باندھا اور صحن سے پانی بہہ کر نالی ڈھونڈھتا چلا گیا۔ لوگ کنمنا گئے۔ میر اُنس مرحوم نے منبر سے آواز دی کہ ’’ذرا آپ لوگ میری طرف متوجہ ہو جائیں‘‘۔ یہ کہہ کر جو پڑھنا شروع کیا تو وہ سماں بھولتا ہی نہیں کہ اُن کی آواز تھی کہ کوئی معجزہ ۔ خوب یاد ہے کہ ٹین پر بوندوں کی آواز کو دباتی ہوئی جو آواز بلند ہوتی تو میں ٹین کے سائبان کو بار بار حیرت سے دیکھتا تھا کہ اس پر کیا جادو ہو گیا کہ بوندیں تو پڑتی ہیں مگر آواز نہیں نکلتی ۔ ٥
مرثیہ خواں کی آواز کے لیے بلند اور پلّہ کش ہونے کے ساتھ یہ بھی ضروری تھا کہ اس میں مناسب اتار چڑھاؤ ہوں اور حسبِ موقع نرمی اور درشتی کا اثر پیدا ہو سکے۔ دولہا صاحب عروج کے بارے میں مرزا جعفر حسین کا بیان ہے کہ انہیں ’’آواز پر اتنا قا بو تھا کہ جہاں چاہتے گداز پیدا کر لیتے اور جس مقام پر ضرورت ہوتی گرج آجاتی۔‘‘ ۶
میرانیس کو مرثیہ خوانی کے لیے غیر معمولی آواز ملی تھی جس میں ایک غنائی کیفیت تھی۔ مولوی عبدالعلی کا بیان ہے کہ ’’ میر انیس کی آواز سبک اور تیز تھی ۔‘‘٧ اپنی خوانندگی پر انیس نے اپنے ایک مرثیے ’’سب سے جدا روش مرے باغِ سخن کی ہے‘‘ کے اس بند میں فخر کیا ہے:
ڈنکا ہو اس کلام کا کیوں کر نہ جا بہ جا
ہر بات میں ہے نغمۂ جاں بخش کا مزہ
دکھلا رہی ہے طبعِ سخنور نئی ادا
پردے سے دل کے آتی ہے احسنت کی صدا
لہجہ سنو زبانِ فصاحت نواز کا
تارِنفس میں سوز ہے مطرب کے ساز کا ٨
پورے بند میں موسیقی کے تلازمے (ڈنکا، بجا، نغمہ، ادا، پردہ، صدا،نواز تار،مطرب، ساز ) کے علاؤہ آخری مصرع خاص طور پر قابلِ توجہ ہے جس میں انیس اپنی آواز کو مطرب کے ساز سے ملارہے ہیں۔ انیس کی خوانندگی سننے والے ایک بزرگ سید محمد جعفر ( فرزند سید آغا میر ،شاگر دِانیس ) کا بیان ہے:
میرا نیس کی آواز میں جو دل کشی تھی وہ کسی انسان کا کیا ذکر کسی خوش الحان پرند اور کسی باجے کی آواز میں بھی نہیں ہے۔ ٩
یہاں بھی انیس کی آواز کی غنائیت پر زور دیا جا رہا ہے۔ شاد نے بھی اپنے بیان میں انیس کی ’’سُریلی آواز‘‘ کا ذکر کیا ہے۔ اثر آفرینی، سماں بندی اور تصور کو برانگیختہ کرنے میں سُر اور موسیقی کی کارفرمائی ظاہر ہے۔ انیس بھی اپنی غنائی آواز کے زیر و بم سے سننے والوں کی آنکھوں کے سامنے ان دیکھے مناظر پیش اور ان کے دلوں میں تازہ جذبات پیدا کر سکتے تھے۔ اسی لیے انہیں ہاتھوں اور بدن کے حرکات سے زیادہ کام نہیں لینا پڑتا تھا۔ پیارے صاحب رشید کا کہنا تھا کہ ’’انیس صرف آواز کے اتار چڑھاؤ اور اشارات سے کام لیتے تھے ۔‘‘١٠ انیس کی آواز ان کے مرثیوں کے لیے اور انیس کے مرثیے ان کی آواز کے لیے مناسب ترین تھے، اور اس طرح کے بندا نیس کی آواز میں ادا ہو کر المیہ راگوں کا تاثر پیدا کر سکتے تھے:
یہ دشتِ ہولناک کہاں، یہ چمن کہاں
جنگل کہاں، بتولؑ کے گل پیرہن کہاں
کنبہ کہاں نبیؐ کا، یہ دارِ محن کہاں
قبریں کہاں شکستہ دلوں کی، وطن کہاں
آئے ہیں ڈھونڈھتے ہوئے اس ارضِ پاک کو
سچ ہے کہ خاک کھینچتی ہے اپنی خاک کو
اچھی آواز قدرت کی دین ہے لیکن آواز کو اپنے قابو میں کرنا اور مضبوط بنانا مشق پر منحصر ہے۔ حامد علی خاں (بارایٹ لا) میر نفیس کی آواز کے بارے میں لکھتے ہیں:
جناب نفیس کی آواز بعد گھنٹوں کے پڑھنے کے جب خستہ ہو جاتی تھی اور وہ مرثیہ ختم کرنا چاہتے تھے اس وقت ایسی آواز نکالتے تھے جس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ یہ آواز الگ کسی خزانے میں محفوظ تھی اور اس سے اب تک کام نہیں لیا گیا تھا۔ ١١
یہ آواز پر قابو ہونے کی مثال ہے اور اس کے لیے باقاعدہ مشق اور ریاض کی ضرورت ہوتی تھی۔ اپنے پوتے دولہا صاحب کو مرثیہ خوانی سکھانے کے لیے میرانیس نے انہیں عورتوں اور جانوروں کی بولیاں سیکھنے کی ہدایت کی تھی اور اپنے بیٹے میر نفیس سے کہا تھا:
ان کو جانوروں کی بولیاں سکھلو اؤ اور جو شخص جانوروں کی بولیاں بولتا ہوا سے نوکررکھو۔ ١٢
جانوروں کی بولیاں سیکھنے کا مقصد بہ ظاہر یہ تھا کہ گلا نرم و کرخت ہر طرح کے آہنگ پر قادر ہو جائے ۔ عورتوں کی بولی پر قدرت حاصل ہونے سے لہجے میں لوچ اور آواز میں نرمی پیدا کی جاسکتی ہے۔ چناں چہ دولہا صاحب اپنی آواز میں گداز اور گرج دونوں پیدا کر سکتے تھے اور یہ قدرت کم وبیش سب مرثیہ خوانوں کو حاصل تھی۔ آواز کی تربیت کے بارے میں سید مہدی حسین لکھتے ہیں:
پہلے مشق سانس کی کرے۔ اس طرح سے دم بڑھاوے جہاں تک سانس وفا کرے۔ شمار اس کا دانۂ تسبیح ہے، یہاں تک سانس بڑھا وے کہ ایک سانس میں سودانے تسبیح کے گردش میں آجائیں۔ زیادہ دم نہ بڑھائے کہ قلب پر صدمہ نہ پہنچے۔ اس کے لیے وقت معین کرے ۔ تھوڑے عرصے میں اس قدر سانس بڑھے گی کہ سودا نے تمام ہو جائیں گے، بلکہ کچھ سو سے زیادہ متصور ہے، اور ورزش بھی ضرور ہے۔
ہفتے میں دو مرتبہ بہ آواز بلند سو پچاس بند مرثیے کے پڑھا کرے کہ وقت پڑھنے کے ناطاقتی آواز میں نہ ہو کہ دودو چار چار آواز گلے سے نکل رہی ہے، کھانس رہے ہیں۔ اور گھر کے سو بند مجلس کے دس بند سمجھنا چاہیے۔١٣
میرے ایک بزرگ سید مجاور حسین رضوی نیوتنوی مرحوم بہت اچھے مرثیہ خواں اور اس فن میں میر علی محمد عارف کے شاگرد تھے۔ وہ مشق کے لیے بند کمرے میں پوری آواز سے اتار چڑھاؤ کے بغیر، مرثیے کے دو سو بند ’’ایک سانس میں‘‘ یعنی رکے اور سستائے بغیر پڑھا کرتے تھے۔
مہدی حسین نے مرثیہ خواں کے لیے یخنی کے استعمال کی ہدایت کرتے ہوئے لکھا ہے:
خصوصاً ایّامِ عشرہ ٔمحرم الحرام میں روزانہ وقت ِصبح استعمال میں رکھے۔ اور یخنی میں مرچ سیاہ زیادہ رکھے کہ آواز کھلی رہے گی۔ اگر گرفتہ ہو تو مسکہ اور مصری و مرچِ سیاہ وقتِ شب کھا کر سور ہے۔ رومال گلے میں بندھا رہے۔ اور جس وقت مرثیہ پڑھ چکے، فوراً پانی میں نمک ڈال کر خوب گرم کر کے مثل چائے کے استعمال کرے تو بہتر ہے۔ اگر کلیجن ١٤ بھی رہے تو بہتر ہے۔ ١٥
مرثیہ خوانی میں آواز کا استعمال تین طرح سے ہوتا تھا۔ ایک صرف گلے سے پڑھنا، دوسرے سینے کے زور سے پڑھنا، تیسرے گلے اور سینے سے ملا کر آواز نکالنا۔ سینے کے زور سے پڑھنے میں آواز تو ٹھیک رہتی ہے لیکن قوت بہت صرف ہوتی ہے۔ گلے سے پڑھنے میں آواز میں قوت زیادہ صرف نہیں ہوتی لیکن آواز گرفتہ ہو جانے کا امکان رہتا ہے۔ لکھنؤ کے آخری دور کے مرثیہ خواں اور میر عشق کے پر پوتے سید محمد میرزا مہذب مرحوم نے میرے استفسار کے جواب میں فرمایا تھا کہ وہ صرف گلے سے پڑھتے ہیں لہٰذا جتنی دیر چاہیں تھکے بغیر پڑھ سکتے ہیں۔ اس کے برخلاف سینے کے زور سے پڑھنے والے جلد تھکتے ہیں۔ اس کی مزید وضاحت میر نفیس کی خصوصی آواز کے بارے میں حامد علی خاں کے بیان کے اگلے حصے سے ہوتی ہے جو حسبِ ذیل ہے:
ایک مرتبہ ۲۵ رجب ۱۳۱۸ ھ کو دل آرام کی بارہ دری میں میر [ نفیس] صاحب کو میں نے سنا۔ پڑھے اور خوب پڑھے۔ جب مجلس ختم ہوئی تو جناب میر صاحب کے پاس میں آ گیا۔ تھوڑی دیر بیٹھا۔ ان کے کلام اور پڑھنے کی تعریف کرتا رہا۔ جب رخصت ہوا جناب میر صاحب کو عجب حسرت بھری نگاہوں سے میں نے دیکھا۔ میرے ساتھ چند میرے عنایت فرماتھے۔ اُن سے میں نے راہ میں آہِ سر د بھر کر کہا کہ ” افسوس آج میر صاحب کو آخر مرتبہ سنا۔ اب سننا میسر نہ ہوگا۔ اس حالت ضعف و پیرانہ سالی میں پڑھے اور لاجواب پڑھے، لیکن جب مرثیہ ختم کرنے کو تھے اُس وقت کوشش کی اور زور لگایا کہ وہ آواز جس سے معلوم ہو کہ اب تک کام نہیں لیا گیا ہے اور بالکل تازہ آواز ہے نکلے، لیکن ضعف و نقاہت کی وجہ سے وہ آواز صرف ایک دو منٹ کے لیے نکلی، گویا نہ نکلی۔‘‘ ١٦
یعنی جب میر نفیس کا گلا تھک جاتا تھا تو وہ پوری قوت لگا کر سینے سے آواز نکالتے تھے۔ آخر عمر کی اس مرثیہ خوانی میں ان کی قوت اتنی زائل ہو چکی تھی کہ وہ سینے کے زور سے آواز نہیں نکال سکے۔ (اس مجلس کے چند ماہ بعد میر نفیس کی وفات ہو گئی۔)
سید مہدی حسین آواز کی ان تینوں قسموں کے بارے میں بتاتے ہیں:
اب یہ تصور کرنا چاہیے کہ کس آواز سے مرثیہ پڑھا جائے۔ اس میں تین قسم ہے۔ اوّل یہ کہ جس میں سبکی و شستگی وصفائی ِالفاظ و آواز ہے، سینے کے زور سے اور طاقت سے پڑھے، آواز ماندی نہ ہوگی۔ دوم سینے اور گلے کے زور سے جو پڑھے گا اس میں آواز ماندی ہوگی مگر بعدِ شب کھل جائے گی۔ سوم کُلیا جو گلے کے زور سے اور طاقت سے پڑھے گا اُس کی آواز خستہ و گرفتہ ہو جائے گی اور کبھی صفائیِ الفاظ نہ ہوگی کیوں کہ اس میں دم کی رکاوٹ ہے۔ ١٧
ثابت نے بتایا ہے کہ مرزا دبیر سینے کے زور سے پڑھتے تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مرثیے کے محل کے اعتبار سے آواز کبھی صرف گلے سے، کبھی سینے سے اور کبھی بہ یک وقت گلے اور سینے سے نکالی جاتی تھی ۔ میرے دوست کا ظم علی خاں بتاتے ہیں کہ ان کو لڑکپن میں ان کے جن بزرگوں نے مرثیہ خوانی سکھائی تھی ان کی ہدایت تھی کہ بند کے پہلے چار مصرعے گلے سے اور بیت سینے سے پڑھی جائے۔ یہ عمومی ہدایت غالباً اس لحاظ سے تھی کہ اکثر پورے بند کی قوت بیت پر آکر مرکوز ہوتی ہے اور اُسے پُر زور انداز میں پڑھنا ضروری ہوتا ہے لیکن یہ انتخاب مرثیہ خواں کی صواب دید پر منحصر ہوتا تھا۔ بعض بعض مصرعے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے کسی لفظ کو سینے سے اور کسی کو گلے سے ادا کرنا ہوتا ہے۔ ادیب مرحوم بتاتے تھے کہ ایک مجلس میں دولہا صاحب نے یہ مصرع پڑھا:
ٹاپ ماری تو دھمک پشتِ سمک تک پہنچی
”دھمک“ کا لفظ انہوں نے بلند آواز میں اس طرح سینے کے زور سے ادا کیا کہ سننے والوں کو یہ محسوس ہوا جیسے عزا خانے کی زمین ہل گئی ہو۔’’سُمک“ کا لفظ انہوں نے اور بھی بلند آواز میں لیکن صرف گلے سے ادا کیا۔
میرانیس اپنے شاگرد، ایک رئیس زادے، کو اس مصرعے کی مشق کرا رہے تھے :
کھینچے جو کماں دے نہ اماں پیلِ دماں کو
جب تین بار بتانے کے بعد بھی رئیس زادے سے یہ مصرع ٹھیک ادا نہ ہوسکا، تو میرانیس نے غصے میں آکر مرثیہ اُن سے چھین لیا اور انہیں مرثیہ خوانی سکھانے سے انکار کر دیا۔ مہدی حسن احسن نے یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد اپنے والد کے حوالے سے بتایا ہے کہ انیس اس مصرعے میں ’’کماں‘‘، ’’ اماں‘‘ اور ’’دماں“ کے لفظوں کے بعد ایک چھوٹا سا وقفہ دیتے تھے جو شاگرد سے نہیں ہو پارہا تھا۔ ١٨ لیکن لفظوں میں وقفہ قائم رکھنا ایسا مشکل کام نہیں جو میر انیس کا شاگردان کے تین مرتبہ بتانے کے بعد بھی انجام نہ دے سکے۔ دراصل یہ تینوں لفظ تین مختلف آوازوں کے مقتضی ہیں : ” کماں‘‘ صرف گلے سے “ ،’’اماں‘‘ گلے اور سینے سے ، اور ’’دماں‘‘ صرف سینے سے ادا ہونا چاہیے۔ انیس کے لیے اس میں کوئی مشکل نہیں تھی لیکن ظاہرا ان کے شاگر داس طرح آواز کی منتقلی اور لفظوں کے لنگر میں تدریجی اضافے پر قادر نہیں تھے۔
عرض کیا جا چکا ہے کہ مرثیہ خواں بڑے بڑے مجمعوں میں اپنی آواز ہر سامع تک پہنچانے پر قادر ہوتا تھا۔ اس سلسلے میں اقبال بہادر ترکمان بتاتے ہیں:
اس کا ایک خاص طریقہ ہے کہ دور تک آواز کیوں کر پہنچائی جائے اور وہ اسی خاندان ] خاندانِ انیس] میں مخصوص ہے [ اور وہ طریقہ یہ ہے کہ ] آخری حرف اور آخری رُکن پر اتنا زور دیا جائے کہ دور تک آواز چلی جائے ؛ اس سے پورا لفظ سمجھ میں آجاتا ہے۔ اور اگر لفظ کا پہلا حصہ زور سے بولا جائے اور آخری آواز کم ہو جائے، دور تک نہیں جائے گی آواز ۔ ١٩
قاعدہ ٔتحت لفظ خوانی کے مصنف ، جنہوں نے اس کتاب پر میر نفیس سے اصلاح لی تھی ، ان کی بھی ہدایت یہی ہے کہ اخیر لفظ اٹھا کے واضح پڑھا کرے۔ مصرع گرنے نہ پاوے۔ لفظ آدھا نہ ہو۔ ٢٠
لیکن بہر حال انسانی آواز کی رسائی کی ایک حد ہوتی ہے۔ میر انیس کی ایک مجلس میں مجمع ان کی آواز کی حد سے زیادہ ہو گیا تھا اس لیے کہ وہ کئی برس کے ترک ِمرثیہ خوانی کے بعد مرثیہ پڑھ رہے تھے۔ یہ مجلس کھلے میدان میں شامیانوں کے نیچے ہوئی تھی اور اس میں پورے مجمعے تک آواز پہنچانے کا ایک نادر طریقہ اختیار کیا گیا تھا۔ سید حسن رضا’’ سوانح عمری ِعروج‘‘ میں بتاتے ہیں:
اس مجلس کا اندازہ آپ کو اس سے ہو سکتا ہے کہ ایک مصرع جو میرا نیس صاحب منبر پر پڑھتے تھے اس مصرعے کو میر مونس صاحب درمیان میں کھڑے تھے ، وہ پڑھتے تھے۔تب تمام مجلس تک آواز جاتی تھی۔٢١
میرانیس کے منبر اور میر مونس کے درمیان بیٹھنے والے اہلِ مجلس خوش قسمت لوگ تھے کہ ان کے کانوں میں باری باری دونوں با کمال مرثیہ خوانوں کی آوازیں پہنچ رہی ہوں گی ۔
(ب) لہجہ :
مرزاد بیر کے اس مصرعے کا ذکر آچکا ہے:
کیوں تم نے میرے بھائی کے قاتل سے بات کی
انہوں نے اسے تین طرح سے پڑھ کر تین مختلف کیفیتیں پیدا کی تھیں۔ دولہا صاحب نے تلوار کی تعریف میں یہ مصرعے مسلسل پانچ چھ مرتبہ پڑھے:
غیظ میں آ کے سرِ مرحب و عنتر کاٹے
اور جھلائی تو جبریل کے شہپر کاٹے
ہر مرتبہ وہ لہجے کے تغیر سے مصرعوں میں نئی معنویت پیدا کرتے اور ہر مرتبہ اہلِ مجلس تعریفیں کرتے کرتے کھڑے ہو جاتے تھے۔ دولہا صاحب باری باری مختلف لفظوں ”مرحب وعنتر“ اور ”جھلائی، ” جبریل“، ”شہپر ‘‘پر زور دے کر مصرعوں کو نیا کر دیتے تھے۔٢٢ اس طرح لہجے کے تغیر سے مصرعے میں نئی کیفیت پیدا کرنے کو مرثیہ خوانی کی اصطلاح میں ’’ رُخ سے پڑھنا“ کہا جاتا تھا۔ ٢٣
ذوالفقار کی تعریف میں میر علی محمد عارف کا ایک بند ہے:
یہی ہے تیغِ دو سر آسماں سے آئی ہوئی
سجی سجائی ہوئی اور بنی بنائی ہوئی
خدا کی بھیجی ہوئی، مصطفیٰؐ سے پائی ہوئی
علیؑ سے صفدرِ غازی کی آزمائی ہوئی
بسر رفاقتِ حیدرؑ میں اس نے راتیں کیں
نڈر تھی ایسی کہ شیرِ خداؑ سے باتیں کیں
مرزا جعفر حسین بتاتے ہیں کہ عارف نے یہ بند اس طرح پڑھ دیا تھا کہ گھر گھر اور محلے محلے اس کے چرچے ہوتے تھے۔ مسعود حسن رضوی ادیب مرحوم نے بھی اس بند کو سنا تھا اور وہ اس کو عارف کے لہجے میں پڑھ کر سناتے تھے۔ ابتدائی تین مصرعوں میں حیرت اور سمجھانے کا سا انداز بہ تدریج بڑھتا جاتا تھا۔ چوتھے مصرعے میں آواز اچانک نہایت بلند ہو جاتی اور لہجے میں ایک جھلاہٹ اور قولِ فیصل کا سا انداز آجاتا، گویا کہہ رہے ہوں اب تو مانو گے؟ حقیقتاً ابتدائی تین مصرعے اس تلوار کی عظمت ، حسن ، تقدس وغیرہ کا تو اظہار کرتے ہیں لیکن ان سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ خود آلۂ حرب کی حیثیت سے وہ کیسی ہے۔ چوتھا مصرع بتاتا ہے کہ یہ علیؑ کی آزمائی ہوئی تلوار ہے۔ بس یہ حرفِ آخر ہے۔ بیت پڑھنے میں حیرت کے ساتھ محبت بھرالہجہ ہوتا تھا۔
مرثیہ خوانی میں لہجے کے تغیرات کی اہمیت ظاہر ہے۔ انہیں تغیرات کی مدد سے میرانیس نے ایک ہی مرثیہ دودن ، دو مختلف طریقوں سے پڑھا۔ لیکن مرثیہ خوانی کا ایک اساسی لہجہ ضرور ہوتا تھا جو چہرے سے لے کر جنگ ، شہادت اور بین تک اور مختلف کرداروں کے مکالموں میں بھی سرایت کیے رہتا تھا۔ اس لہجے میں بہت خفیف سی لحن کی آمیزش ہوتی تھی۔ دوسرے تمام لہجے فروعی اور اسی اساسی لہجے پر قائم ہوتے تھے۔ مثال کے طور پر چند بیتیں دیکھیے :
ہاں سوئے ابنِ شہنشاہ عرب جاتا ہوں
لے ستم گر جو نہ جاتا تھا تو اب جاتا ہوں
یہ زخمِ تیر نہیں شغلِ زندگانی ہے
ہمارے اصغر بے شِیر کی نشانی ہے
آوارہ پرندے تھے مکاں خالی پڑے تھے
چوپائے چراگاہ سے منہ پھیرے کھڑے تھے
دختر ِفاطمہؑ سامانِ عزا کرنے لگی
فضّہ پردے کے ادھر آکے بُکا کرنے لگی
میں شہر ِشام تلک ننگے سرگئی بی بی
سکینہ قید میں گھٹ گھٹ کے مرگئی بی بی
ناو منجدھار میں ہے، شور و تلاطم جانو
ناخدا جاتا ہے، گھر جانے اب اور تم جانو
سچ ہے فلک نے تم کو بڑے دکھ دکھائے ہیں
صاحب اٹھو، ہم آخری رخصت کو آئے ہیں
رو کے چلائی سکینہ شہ ِوالا آؤ
میں تمہیں ڈھونڈھتی تھی دیر سے بابا آؤ
ظاہر ہے کہ یہ سب مقامات مختلف لہجوں کے طالب ہیں اور مختلف لہجوں سے پڑھے بھی جاتے تھے، لیکن ان لہجوں کے ساتھ ، جو عین مطابقِ محل ہوتے تھے، مرثیے کا اساسی لہجہ بھی برقرار رہتا تھا۔ اسی اساسی لہجے کی بدولت مرثیہ خوانی میں یہ وصف تھا کہ دور ہی سے سن کر ، خواہ الفاظ سمجھ میں نہ آرہے ہوں، بہ آسانی معلوم ہو جاتا تھا کہ مرثیہ پڑھا جا رہا ہے اور فروعی لہجوں کی بدولت یہ بھی اندازہ ہو جاتا تھا کہ جنگ پڑھی جارہی ہے یا بین یا مرثیے کا کوئی اور جز۔ سید سرفراز حسین خبیر لکھنوی مرحوم کو میں نے سنا تھا۔ وہ جناب سکینہ کے بعض مکالمے مرثیے کے اساسی لہجے میں ایک اور لہجے کی آمیزش کے ساتھ اس طرح ادا کرتے تھے کہ ان کی بھاری آواز کے باوجود معلوم ہوتا تھا ایک روتی ہوئی بچی کسی چیز کے لیے ضد کر رہی ہے۔ فروعی لہجوں کے ساتھ اساسی لہجے کو برقرار رکھنا مرثیہ خوانی کا اُتنا ہی بڑا کمال تھا جتنا وہ کمال جس کی طرف ادیب نے اشارہ کیا ہے کہ ’’مرثیہ خواں کسی دوسرے شخص کی تصویر بھی پیش کرتا ہے اور اپنی ہستی کو بھی قائم رکھتا ہے۔“
(ج) آدھے الفاظ:
لہجے کے علاؤہ مرثیہ خوانی میں لفظوں کے وصل و فصل کا نظام بھی بہت نازک اور پیچیدہ ہوتا تھا۔ کہاں پر لفظوں کو ملا کر پڑھا جائے ، کہاں پر الگ کر کے ، کہاں پر دُہرا کر اور کہاں حذف کر کے، یہ فیصلہ کرنا مرثیہ خواں کا کام تھا۔ اس میں اس کی خوانندگی کے جوہر بھی کھلتے تھے اور مرثیے میں مختلف کیفیتیں اور معنویتیں بھی پیدا ہو جاتی تھیں ۔ میرانیس کا مشہور مطلع ہے:
نمک خوانِ تکلم ہے فصاحت میری
ناطقے بند ہیں سن سن کے بلاغت میری
رنگ اُڑتے ہیں وہ رنگیں ہے عبارت میری
شور جس کا ہے وہ دریا ہے طبیعت میری
عمر گذری ہے اسی دشت کی سیاحی میں
پانچویں پشت ہے شبیرؑ کی مداحی میں
اس بند کی خوانندگی کا ایک نظام یہ ہے:
١۔ نمک خوانِ تکلم ہے فصاحت میری
۲ ۔ ناطقے بند ہیں سُن سُن کے بلاغت میری
٣۔رنگ اُڑتے ہیں وہ رنگیں ہے عبارت
٤۔ شور جس کا ہے وہ دریا ہے طبیعت
٥۔ میری عمر گذری ہے
٦۔عمر گذری ہے اسی دشت کی سیاحی میں
٧۔ اسی دشت کی سیاحی میں پانچویں پشت ہے
٨۔ شبیرؑ کی مداحی میں۔
چوتھے مصرعے کی ردیف نے پانچویں مصرعے کی ابتدا سے مل کر ” میری عمر گذری ہے‘‘ اور پانچویں مصرعے کے آخر نے چھٹے مصرعے کے اوّل سے مل کر ’’اسی دشت کی سیاحی میں پانچویں پشت ہے“ کے نئے فقرے بنادیے۔ اس خوانندگی میں ’’پانچویں پشت ہے‘‘ پر معلوم ہوتا ہے بات پوری ہوگئی در حالے کہ ابھی مصرعے کا وزن پورا ہونا اور قافیہ وردیف آنا باقی ہے۔ اس آخری ٹکڑے کے لیے سامع کے تجسس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اس وقت اچانک ’’ شبیرؑ کی مداحی میں“ کا فقرہ آتا ہے۔ سامع کے ذہن میں قبل والے فقرے کے تین لفظوں ’’پانچویں پشت ہے“ سے ملتا ہے اور ’’پانچویں پشت ہے شبیرؑ کی مداحی میں‘‘ بن کر پورے بند کی قوت اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے۔
تلوار کی تعریف میں ایک بند ہے:
سر پر جو پڑی دو کیے خود و سر و گردن
گردن سے چلی تا بہ کمر کاٹ کے جوشن
جوشن سے جو اتری تو لیا زین کا دامن
دامن سے چلی تیز تو دو ہو گیا توسن
قبضہ تو رہا دست ِجناب ِشہِ دیں میں
اور تا سر دنبالہ در آئی وہ زمیں میں
قاعدہ ٔتحت لفظ خوانی میں اس بند کو اس طرح پڑھنے کی ہدایت کی گئی ہے:
سر پر جو پڑی
دو کیے خود دوسر و گردن گردن سے چلی
تا بہ کمر کاٹ کے جوشن جوشن سے جواتری
تولیا زین کا دامن دامن سے چلی تیز
تو دو ہو گیا تو سن قبضہ تو رہا
دست ِجناب شہِ دیں میں اور تا سر دنبالہ
در آئی وہ زمیں میں ٢٤
اس طرح کے بند مرثیہ خوانی کی اصطلاح میں ’’دست وگریباں کے بند“ کہلاتے ہیں ۔٢٥
فصل و وصل کے علاؤہ مصرعوں اور لفظوں کا گھٹا نا بڑھانا یعنی کبھی جلدی سے ادا کر دینا اور کبھی کھینچ کے پڑھنا بھی بڑی اہمیت رکھتا تھا۔ خصوصاً تلوار اور گھوڑے کی تعریف اور جنگ کے بیان میں یہ گھٹاؤ بڑھاؤ صورت واقعہ کی تصویر کھینچ دیتا تھا۔ مثلاً تلوار کی تعریف میں میرانیس کے یہ بند دیکھیے ۔ یہ گھٹا کے یا تیزی سے پڑھے جانے والے بند ہیں لیکن ان کے خط کشیدہ حصے بڑھا کے یا کھینچ کر پڑھے جائیں گے:
کبھی ڈھالوں پہ گری اور کبھی تلواروں پر
پیدلوں پر کبھی آتی کبھی اَسواروں پر
کبھی ترکش پہ رکھا منہ کبھی سوفاروں پر
کبھی سرکاٹ کے آ پہنچی کماں داروں پر
گر کے اِس غول سے اٹھی تو اُس انبوہ میں تھی
کبھی دریا میں، کبھی بر میں، کبھی کوہ میں تھی
نہ رکی خود پہ وہ اور نہ سر پر ٹھہری
نہ کسی تیغ پہ دم بھر نہ سپر پر ٹھہری
نہ جبیں پر نہ گلے پر نہ جگر پر ٹھہری
کاٹ کر زین کو گھوڑے کی کمر پر ٹھہری
جان گھبرا کے تنِ دشمنِ دیں سے نکلی
ہاتھ بھر ڈوب کے تلوار زمیں سے نکلی
وہ چمک اس کی ، سروں کا وہ برسنا ہر سو
گھاٹ سے تیغ کے اک حشر بپا تھالبِ جو
آب میں صورتِ آتش تھی جلا دینے کی خو
اور دم بڑھتا تھا پیتی تھی جو اعدا کا لہو
کبھی جوشن تو کبھی صدرِ کشادہ کاٹا
جب چلی ضربتِ سابق سے زیادہ کاٹا
لفظوں کے ادا کرنے کے سلسلے میں کتاب قاعدہ ٔتحت لفظ خوانی کی کچھ اور ہدایتیں حسب ذیل ہیں:
ایسا اطمینان نہ کرے کہ مصرع مٹھار مٹھار اور چبا چبا کر پڑھے، کہ گویا ہم بڑے پڑھنے والے ہیں، استاد ہیں،خوب پڑھتے ہیں۔ اس طرح کے پڑھنے سے سامعین کی سمع خراشی و پریشانیِ خاطر ہے، چاہے تھوڑا پڑھے یا بہت۔ (ص ۵)
بہت سے مصرعے ایسے ہیں کہ دو مرتبہ میں سانس لے کر پڑھنا ہوتا ہے اور وہ اچھا ہے، جیسے کہ
جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
یہ سمجھنے کی بات ہے کہ اس میں کیا بھید ہے۔ اگر عاقل ہے اور صاحبِ فہم ہے تو جہاں دیکھے ایسے الفاظ کو اس طرح پڑھے تو چندے میں خود طبیعت آپ سے آپ مناسب ہو جائے گی۔ (ص ۴- ۵)
بہت سے الفاظ ایسے ہیں کہ جن سے ضغطہ زبان پر بیان میں ہوتا ہے۔ اس کو مد کے ساتھ پڑھے یعنی بڑھا کے تو ثقالت رفع ہو جائے گی۔ اور کبھی کھینچ کر پڑھے تو کافی و وافی ہوگا۔ (ص ۷)
اگر مرثیے میں بند لف و نشر ِمرتب و غیر مرتب ہوں تو اس انداز سے ادا کرے جیسے اس بند میں ہے:
ابرو و رو و گیسوئے - ابن شہ حجاز
رشک ِہلال و - ماه ِکمال و - شب ِدراز
چشمِ سیاه و - سرمہ و مژگانِ سرفراز
آہو و - تیغ و پنجۂ گیراے شاہباز
نیکوں سے - جن کو رہتی ہے صحبت - وہ نیک ہیں
اضداد اتنے - اور سب آپس میں ایک ہیں (ص ۹)
الفاظ مصرعوں کے فقروں سے علیحدہ رہا کریں نہ کہ ایک فقرہ دوسرے فقرے کےنصف میں ضم کرے ، خلاف ہے۔ جس طرح سے کہ
جب آسماں پہ مہر - کا زریں نشاں کُھلا
فقرہ خراب ہو گیا۔ اس میں لحاظ و تمیز رکھنا چاہیے۔ مصرعوں کو توڑ کر پڑھنا نہ چاہیے۔ بہت خیال رکھے کہ ایسا نہ ہونے پائے۔ (ص ۹)
چھئوں مصرعے برابر سے پڑھ جانا عیب ہے کہ اس میں نہ لطفِ مضامین اور نہ لطفِ اداے الفاظ اور نہ کوئی ایسا امر کہ جس سے دل کو خوشی ہو اور غمگینی ظاہر ہو بلکہ نہایت درجہ ناپسندیدہ۔ (ص ۹)
بند ’’نمکِ خوانِ تکلم ہے فصاحت میری‘‘ کی خوانندگی میں ہم نے دیکھا کہ ایک جگہ ردیف ”میری‘‘ کو زبان سے ادا نہیں کیا گیا۔ ردیف اور کبھی کبھی قافیے کو بھی حذف کر کے مرثیہ خواں سامعین کو بھی اپنی خوانندگی میں شریک کر لیتا تھا، اس لیے کہ حذف شدہ لفظوں کو سامعین کبھی محض اپنے ذہن میں اور کبھی زبان سے ادا کر کے محظوظ ہوتے تھے۔ انیس کے ایک مرثیے ٢٦ میں امام حسینؑ کی بددعا سے یزیدی فوج کے ایک سپاہی پر پیاس کا دورہ پڑتا ہے اور پانی پینے سے اس کی پیاس بڑھتی جاتی ہے۔ اس محل کا ایک بند ہے:
تھے پیاس کی گرمی سے زبس جان کے لالے
ساحل پہ گرا جا کے زباں منہ سے نکالے
عبرت سے کھڑے کانپتے تھے دیکھنے والے
جب پانی پیا حلق میں سَو پڑ گئے چھالے
ہر موج کا خم اس کے لیے ناگ ہوا تھا
پانی کا بھی اُس وقت مزاج آگ ہوا تھا
’’آگ ہوا تھا“ کے الفاظ یہاں سامعین کے لیے چھوڑے جاسکتے ہیں اگر چہ مرثیہ خواں انہیں خود بھی زبان سے ادا کر سکتا ہے۔ لیکن مرثیہ خوانی میں بعض محل ایسے بھی ہوتے ہیں جہاں لفظوں کا حذف جائز ہی نہیں ،مستحسن بلکہ ضروری ہو جاتا ہے۔ مرثیہ ”جب نوجواں پسر شہِ دیں سے جدا ہوا“ کی ایک بیت جو انیس کی مشہور ترین بیتوں میں ہے، اس کی اچھی مثال پیش کرتی ہے۔ امام حسینؑ جہادِ آخر کر رہے ہیں اور شہادت کی منزل قریب ہے۔ اُس وقت ایک مسافر ، جو نجف میں روضۂ علیؑ اور مدینے میں امام حسینؑ کی زیارت کے قصد سے نکلا ہے، کربلا کے میدان میں وارد ہوتا ہے۔ امام ؑسے اس کی ملاقات ہوتی ہے۔ وہ انہیں پہچان نہیں پاتا لیکن ان کی گفتگو میں شانِ امامت دیکھ کر نہایت متاثر اور حیران ہوتا ہے اور معلوم کرنا چاہتا ہے کہ وہ کون ہیں۔ اس محل پر اس کے اور امام کے مکالمے کے دو بند یہ ہیں:
بتلائیے برائے خدا مجھے کو اپنا نام
فرمایا بے نوا، وطن آواره، تشنہ کام
بے کس، عزیز مرده ،اسیر ِسپاہِ شام
عاجز، بلا رسیده، ستم دیده، مُستہام
درد و غم و الم مرے حصے میں آئے ہیں
یہ سب خطاب میں نے یہاں آ کے پائے ہیں
قدموں پہ لوٹ کر یہ پکارا وہ دردناک
اظہار اسم ِاقدس واعلیٰ میں کیا ہے باک
بتلائیے کہ غم سے مرا دل ہے چاک چاک
چپ ہو گئے تڑپنے پہ اس کے امامِ پاک
فرما سکے نہ یہ کہ شہ ِمشرقین ہوں
مولا نے سر جھکا کے کہا
’’...میں حسین ہوں‘‘٢٧ کا فقرہ سامعین کی زبان سے خود بخود ادا ہو جائے گا اور مرثیہ خواں کا تینوں لفظوں کو حذف کرنا اس کی خوانندگی کے اثر کو بڑھا دے گا۔
بعض لفظوں پر زور دینے یا ان کا صوتی اثر بڑھانے کے لیے مرثیہ خواں ان کے حروف اور حرکات میں تصرف بھی کر سکتا تھا۔ دولہا صاحب عروج کی بیت ’’حرم سمیت شہِ مشرقین پیاسے ہیں/ جہاں میں آگ لگی ہے حسینؑ پیاسے ہیں“ میں ”حسین“ کی ”سین“ کو ہلکا سا مشدّدکر دیا جاتا تھا۔ دولہا صاحب ہی کے اس مصرعے کا ذکر آچکا ہے:
ٹاپ ماری تو دھمک پشتِ سمک تک پہنچی
ادیب مرحوم کے بیان کے مطابق دولہا صاحب لفظ ”دھمک“ کی ہائے مخلوط کو الگ کر کے اور میم کی مفتوح آواز کو بہت کھینچ کر یوں پڑھتے تھے:
ٹاپ ماری تو ’’دہَمَاک‘‘ پشتِ سمک تک پہنچی
میر علی محمد عارف کے پوتے سید علی محمد واثق مرثیہ خواں بتاتے ہیں کہ مصرعے:
باتوں میں وہ نمک کہ دلوں کو مزہ ملے
کی خوانندگی میں انہیں ہدایت کی گئی تھی کہ ’’وہ نمک ‘‘ میں ’’و‘‘ کو کھینچیں اور ’’ہ‘‘کو حذف اور ’’ن ‘‘کو مشدد کر کے ’’وو نمک‘‘ پڑھیں ۔
لفظوں اور حرفوں میں حذف اور تصرف کے علاؤہ مرثیہ خواں حسب موقع مصرعوں میں اپنی طرف سے کچھ اضافہ کر کے بھی خوانندگی کا اثر بڑھاتا تھا۔ میر مونس کے مرثیے ’’وطن میں قافلۂ کربلا کی آمد ہے‘‘ میں منظر دکھایا گیا ہے کہ شہادتِ امام حسینؑ کے بعد اہلِ حرم شام سے رہا ہو کر مدینے کے قریب آپہنچے ہیں ۔ مدینے والوں کو واقعۂ کربلا کی خبر نہیں ہے اور وہ یہ سمجھ کر کہ خود امام حسین ؑاپنے سب عزیزوں کے ساتھ وطن واپس آرہے ہیں شہر کے ناکے پر پیشوائی کو جمع ہیں۔ اس وقت اصل صورتِ حال کا انکشاف اس طرح ہوتا ہے:
پکاری کو ٹھے سے چلا کے تب یہ اک زنِ پیر
نہ غل کرو کہ مرا حال غم سے ہے تغئیر
سر اپنے پیٹتے آتے ہیں سب صغیر و کبیر
یقیں یہ ہے کہ نہیں آئے حضرت شبیرؑ
نہ وہ رفیق نہ وہ بھائی بند آتے ہیں
جھکائے گردنیں کوتل سمند آتے ہیں ٢٨
اس بند کے آخری مصرعے کو یوں پڑھا جاتا تھا:
ارے جھکائے گردنیں کوتل سمند آتے ہیں
سید حسین میرزا عشق لکھنوی کا شاہکار مرثیہ’’ عروج اے مرے پروردگار دے مجھ کو‘‘ زعفر جِن کے حال میں ہے۔ زعفر کربلا میں امام حسینؑ کے پاس اُس وقت پہنچا ہے جب ان کے انصار و اعزہ شہید ہو چکے ہیں اور وہ خود بھی زخموں سے چور ہیں۔ زعفر کا بیان ہے کہ امام کے بدن پر :
ہزاروں زخم تھے لیکن ذرا نہ تھے بے تاب
پر ایک زخم کو بازو کے چومتے تھے جناب
کیا سوال جو میں نے دیا مجھے یہ جواب
نہ پوچھ، آہ ملے خاک میں عجب مہتاب
یہ زخم ِتیر نہیں شغلِ زندگانی ہے
ہمارے اصغر بے شیر کی نشانی ہے٢٩
سید نجم الحسن نثار مرحوم یہ مرثیہ بہت پر اثر انداز میں پڑھتے تھے اور مندرجہ ٔبالا بند کی بیت کو اضافے کے ساتھ اس طرح پڑھا کرتے تھے:
یہ زخمِ تیر نہیں شغلِ زندگانی ہے
اے زعفر ہمارے اصغر ِبے شیر کی نشانی ہے
خوانندگی میں یہ اضافے اس بے ساختگی کے ساتھ کیے جاتے تھے کہ اصل کلام کا جز معلوم ہونے لگتے تھے اور ظاہر ہے کہ یہ اضافے مرثیے کی عام شستہ زبان اور مہذب فضا سے میل کھانے والے شائستہ لفظوں کے ذریعے ہوتے تھے۔ لیکن میر انیس نے ایک محل پر ایسا اضافہ کر دکھایا جس کامرثیے کے ساتھ بلکہ شرفا کی عام گفتگو میں بھی تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔ انیس کے مرثیے ”جاتی ہے کس شکوہ سے رن میں خدا کی فوج‘‘ ٣٠ میں عون و محمد حملے کرتے ہوئے ابنِ سعد کے خیمے تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس موقعے پر یہ دو بند آتے ہیں:
جا پہنچے تھے خیام بن سعد کے قریں کتنی طنا میں کاٹ چکے تھے یہ مہ جبیں طنابیں ہاں ہاں کا شور کر کے بڑھے سب عددے دیں بھاگا عقب سے چیر کے خیمے کو وہ لعیں بھاگا اُدھر تو جوش میں وہ اضطراب کے
یہ دونوں بھائی رہ گئے ہونٹوں کو چاب کے
چھوٹے نے عرض کی یہ سراپا ہیں مکروکید
دیکھا حضور، چُھٹ گیا پنجے میں آ کے صید
چھپنے کی شرم ہے نہ انہیں بھاگنے کی قید
فرمایا عون نے یہ ہیں اُستادِ زُرق و شید
بھاگا طناب کٹتے ہی کیا حیلہ ساز ہے
سچ ہے حرام زادے کی رسی دراز ہے
خط کشیدہ الفاظ سے انداز کیا جا سکتا ہے کہ انیس نے اُس اضافے کے لیے پہلے ہی سے فضا ہموار کرنا شروع کر دی ہے۔ اس کے دو بندوں کے بعد جو بند آتا ہے وہ انیس نے راوی ٣١ کے بیان کے مطابق اس طرح پڑھا:
بھاگا رئیس خود یہ خبر چارسو گئی
عزت سبھوں کی آج گئی آبرو گئی
آخر شغال تھا نہ دبکنے کی خوگئی
بڑچو ...خلعت پہن کے بھی نہ رذالت کی بوگئی
جب کچھ کڑی پڑی تو جفا جو نکل گیا
ضیغم جلال میں ہیں کہ آہو نکل گیا
چوتھے مصرعے سے پہلے والا اضافہ زیر لب تھا اور ایسا چسپاں ہوا تھا کہ اس کے بغیر یہ مصرع ادھورا معلوم ہونے لگا تھا، اور چوں کہ اس بند میں یزیدی فوج کے سفلہ مزاج سپاہیوں کی گفتگو دکھائی گئی ہے اس لیے یہ اضافہ بالکل فطری محسوس ہوتا تھا۔
(د) چشم و ابرو کے اشارے:
میرانیس کے شاگر دسید محمد افضل فارغ سیتا پوری کا شعر ہے:
سخن کو ہوتی ہے توضیح چشم و ابرو سے
فقط زباں ہو تو چتون کا کام ہو نہ سکے ٣٢
میر مونس اور میر نفیس کے شاگر دسید محمد جعفر ( فرزندِ آغا میر ثبات فیض آبادی ، شاگر دِانیس) نے ایک مجلس میں حضرت علی اکبر کی آنکھوں کے بیان میں جب انیس کا یہ بند پڑھا:
جاگی ہیں رات کی تو نقاہت ہے آشکار
ڈورے جو سرخ ہیں تو یہ ہے نیند کا خمار
مستانہ ہے یہ طور کہ جھکتی ہیں بار بار
آنسو ہیں یہ صدف میں ہیں یا درِ شاہوار
روئی ہیں فرقتِ شہِ عالی جناب میں
نرگس کے پھول تیر رہے ہیں گلاب میں
تو ’’صرف آنکھوں کے ڈھیلوں کو حرکت دے کر اس انداز سے منظر کشی کی کہ واہ واہ اور سبحان اللہ کی آوازوں سے مجلس گونج گئی اور بار باراسی بیت کو پڑھوایا گیا۔‘‘٣٣
چشم و ابرو کے اشاروں ہی سے تیوروں اور جذبات و تاثرات کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ باکمال مرثیہ خوانوں کے یہاں یہ اظہار اتنا سچا ہوتا تھا کہ اُس کے مخاطبین کو کبھی تو اس کی شخصیت بدلی ہوئی نظر آتی تھی اور کبھی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ مرثیہ خواں جو کچھ بیان کر رہا ہے اسے دیکھ بھی رہا ہے۔ دولہاصاحب نے
کی نموداروں پہ چُن چُن کے نظر غازی نے
پڑھنے کے بعد آہستہ آہستہ گردن گھما کر اہلِ مجلس کی طرف ایسے تیوروں سے دیکھا کہ جس پر ان کی نظر ٹھہری وہ اپنی جگہ پر سہم کے رہ گیا، اس لیے کہ دولہا صاحب کے تیوروں سے ایسا ظاہر تھا کہ کوئی جری سپاہی دشمنوں پر حملہ کرنے سے پہلے اُن میں سے اپنے خاص خاص شکار چھانٹ رہا ہے۔ اس طرح مرثیہ خواں نے چشم و ابرو کی مدد سے اپنی شخصیت تبدیل کرلی۔
قربان علی بیگ سالک کے سامنے مومن کا شعر پڑھنے کے بعد میر انیس کی آنکھوں میں ایسی کیفیت آگئی تھی کہ سالک کو محسوس ہونے لگا جیسے ان کے سامنے کوئی حسین ہے جس کے بال ہوا سے اڑ رہے ہیں اور وہ اسے دیکھ دیکھ کر لطف اندوز ہورہے ہیں۔
میر اُنس نے مصرع ’’پردہ حرم سرا کا اٹھاروشنی ہوئی‘‘ پڑھ کر بائیں جانب اس طرح دیکھا کہ اہلِ مجلس مڑکر اسی طرف دیکھنے لگے جدھر انس نے دیکھا تھا۔ میر نفیس کے بارے میں مشہور ہے کہ جب انہوں نے
وہ گرد اٹھی وہ جگر بندِ بوتراب آیا
پڑھا ’’تو تمام اہلِ مجلس خوف زدہ ہو کر گردن پھرا کے دیکھنے لگے۔ اُن کو ایسا معلوم ہوا جیسے کوئی شیر آگیا ہو ‘‘۔ ٣٤
تیلیا نالہ بنارس کے امام باڑے میں جو دریا گنگا سے متصل ہے، میر انیس منبر پر جا کر کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے۔ حاضرین منتظر تھے کہ وہ حسب دستور رُباعی اور سلام سے ابتدا کریں گے۔ اچانک میر صاحب نے گنگا کی طرف دیکھ کر مرثیے کا مطلع پڑھ دیا:
جاتا ہے شیر بیشۂ حیدرؑ فرات پر
اور ساری مجلس کی نظریں دریا کی طرف اٹھ گئیں ۔ ٣٥
یہ سب مثالیں مرثیہ خواں کے چہرے کے تاثرات خصوصاً آنکھوں کی اس کیفیت کی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُس نے واقعی کچھ دیکھ لیا ہے۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر کمال کی وہ منزل ہے جہاں حاضرین کو بھی وہی دکھائی دینے لگتا ہے جو اُن کے خیال میں مرثیہ خواں کو دکھائی دے رہا ہے۔ ”شعلے تری تلاش میں باہر نکلتے ہیں‘‘ سن کر بھڑکتے ہوے شعلے دکھائی دینے لگنا اسی کمال کی مثال ہے، اور انیس کا یہ بند بھی اسی کمال کا طالب ہے:
خورشید چھپا گرد اڑی زلزلہ آیا
اک ابرِ سیہ دشتِ پرآشوب پہ چھایا
پھیلی تھی جہاں دھوپ وہاں آ گیا سایا
بجلی کو سیاہی میں چمکتے ہوے پایا
جو حشر کے آثار ہیں سارے نظر آئے
گرتے ہوئے مقتل میں ستارے نظر آئے
(ه) بتانا:
مرثیہ خواں کا ہاتھ اور بدن کی جنبشوں کے ذریعے کوئی مضمون ادا کرنا مرثیہ خوانی کی اصطلاح میں بتانا کہلاتا ہے۔ ابھی تک مرثیہ خوانی کے جتنے عناصر زیر گفتگو آئے ہیں، مہارت کے ساتھ بتانا ان سب کی اثر آفرینی میں بہت اضافہ کر دیتا تھا۔
ایک گفتگو میں میرانیس نے عربی فارسی شاعروں اور بھاشا کی شاعری کے استعاروں کا موازنہ کرتے ہوئے کہا تھا:
اُن ] عربی فارسی شعروں] کے استعارے اندک غور سے کھل جاتے ہیں لیکن بھاشا میں یہ اک عجب بات ہے کہ جب تک اُس کے لفظوں کے ساتھ اشارات سے کام نہ لیں اس کا گہرا استعارہ کھل نہیں سکتا ۔ ٣٦
انیس کو بھاشا کی شاعری کا ذوق اور اس زبان کا بہت سا کلام یا د تھا اور خود ان کے کلام میں بھی بھاشا کے اثرات موجود ہیں۔٣٧ مندرجۂ بالا گفتگو میں انہوں نے بھاشا کے استعارات کی جو خصوصیت بیان کی ہے خود اُن کے یہاں اس کی ایک مثال اس رباعی میں دیکھیے :
پیری آئی غدار بے نور ہوے
یارانِ شباب پاس سے دور ہوے
لازم ہے کفن کی یاد ہر وقت انیس
جو مشک سے بال تھے وہ کا فور ہوے
ایک بزرگ، جو یہ رباعی خود میر انیس کی زبان سے سن چکے تھے، مسعود حسن رضوی ادیب مرحوم کو بتاتے تھے کہ میر صاحب اس کے دوسرے مصرعے میں’’یارانِ شباب‘‘ پر اپنے دانتوں کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ اس بیان سے ایک طرف یہ خیال ہوتا ہے کہ میر انیس کے کلام میں کچھ ایسے استعارے موجود ہیں جن کے پورے مفاہیم ہم پر روشن نہیں ہیں، اس لیے کہ ہم نے انہیں میر انیس کی زبان سے ادا ہوتے نہیں دیکھا۔ دوسری طرف یہ بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ جب میر انیس اپنا کلام خود پڑھتے تھے تو ان کے اشارات اُن کے کلام میں نئے نئے مفاہیم پیدا کر دیتے تھے۔
بتانے کی جو مثالیں ابھی تک پیش کی گئی ہیں ان میں ہم نے دیکھا کہ میر اُنس نے ’’پردہ حرم سرا کا اٹھا روشنی ہوئی‘‘ پڑھتے وقت بائیں ہاتھ سے ایک طرف اشارہ بھی کیا تھا، میر نفیس نے ’’نقاب چہرے سے اُلٹے ہوئے وہ حورِ سحر‘‘ ادا کرتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے نقاب الٹنے کا اشارہ کیا تھا، اور ’’ کہ جیسے شب کواڑیں جانور ستائے ہوئے“ کی خوانندگی میں ہاتھوں کو گردش دی تھی۔ غزل کا شعر پڑھتے ہوئے انیس نے کانوں کے پاس ہاتھ لے جا کر انگلیوں کی گردش سے بال باندھنے اور کھولنے کی تصویر کھینچ دی تھی اور مرتبہ کو ذرا سا پلٹ کر پھریرے کا لہرانا اور ہاتھوں کو ڈاڑھی کے قریب لا کر عرب سپاہیوں کا جوش دکھا دیا تھا۔ ان میں غزل کے شعر کی خوانندگی کا بیان توجہ کا مستحق ہے اس لیے اس سے بتانے کے فن کے ایک نکتے کی وضاحت ہوتی ہے۔
بال باندھنے کو بتانے کا مطابق اصل اشارہ یہ ہے کہ کہنیاں اونچی کر کے دونوں ہاتھوں کو سر کے پیچھے لے جایا جائے، اور بال کھولنے کا فطری اشارہ یہ ہے کہ ہاتھوں کو دونوں کانوں کے پاس یا سر کے پیچھے لے جا کر مزید پھیلایا جائے ، لیکن انیس کے ہاتھ صرف ایک کان تک اٹھے، انگلیوں کو گردش ہوئی اور بال باندھنے اور کھولنے کی تصویر کھینچ گئی۔ یہ بتانے کا علامتی یا اشاراتی انداز ہے جسے اشارہ در اشارہ کہہ سکتے ہیں۔ میرانیس اور دوسرے با کمال مرثیہ خواں اکثر اسی اشارہ در اشارہ سے کام لیتے تھے جس کی وجہ سے ان کو بتانے میں زیادہ حرکات ِبدن کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ اس سلسلے میں ایک دلچسپ روایت ملتی ہے جس کا تعلق مرثیہ خوانی سے تو نہیں لیکن ایک بڑے مرثیہ خواں میر نواب مونس سے ہے، جو مرثیہ خوانی کے فن میں اپنے بھائی اور استاد میر انیس سے کچھ ہی کم تھے۔ روایت یہ ہے کہ میر مونس کے پڑوس میں ان کے ساتھ کا کھیلا ہوا ایک بھانڈ رہتا تھا۔ ایک دن اُس نے تنہائی میں بڑی لجاجت کے ساتھ مونس سے کہا کہ ’’کوری گگریا ‘‘میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کس طرح بتاؤں۔ مونس نے اسے ڈانٹ بتائی تو اس نے ان کے پاؤں پکڑ لیے اور اپنی قدیم خدمت گزاری کا واسطہ دے کر کہا کہ اگر آپ نہ بتا ئیں گے تو میں اپنی جان دے دوں گا۔ آخر مونس پسیج گئے ۔ انہوں نے دروازہ بند کرایا اور :
بائیں ہاتھ کی پانچوں انگلیاں اوپر کیس جیسے پھول کی آدھی سے ایک ذرا زیادہ کھلی ہوئی کلی ہوتی ہے۔ ہاتھ چہرے کے برابر اور سامنے لائے۔ داہنے ہاتھ سے ڈھیلی مٹھی باندھی اور بیچ کی انگلی... سیدھی کر کے آدھی اس طرح خم کی کہ بیچ کا پور دوسرے پوروں سے آگے نکلار ہا اور بائیں ہاتھ کی انگلیوں سے کچھ بلندی پر خیالی گگریا کو ٹھنکا ماردیا۔٣٨
بتانے کے فن پر مزید گفتگو سے پہلے مناسب ہوگا کہ مرثیہ خوانوں کے بارے میں کچھ اور بیانات دیکھ لیے جائیں۔
دولہا صاحب عروج کے تین بند ہیں :
جست یوں کرتا ہے میدان میں غازی کا سمند
صید کو دیکھ کے جس طرح بھرے شیر زقند
چوکڑی بھرنے میں آہو سے سوا ہے دہ چند
تیز رو ایسا کہ پائے نہ کبھی جس کو پرند
اپنے را کب کا اشارہ جو یہ پا جاتا ہے
پُتلیاں جھاڑے ہوے شکل ِہَوا جاتا ہے
ایسا جاں دار تو گھوڑا نہیں دیکھا اب تک
برچھوں اُڑتا ہے جھپکتی ہے جو را کب کی پلک
سوئے پستی کبھی آتا ہے جو یہ چھو کے فلک
تا فلک جاتی ہے رہوار کے قدموں کی دھمک
اثرِ نقشِ قدم واں بھی عیاں سارے ہیں
پشتِ ماہی پہ یہ ٹاپوں کے نشاں سارے ہیں
جلوہ گر گھوڑے پہ ہے بازوے سلطانِ امم
سر پہ ہے سایہ فگن فوجِ حسینی کا علم
رو میں ڈالے ہوئے رہوار رواں ہے ضیغم
بر میں ہے چست قباڈاب میں شمشیر دودم
سر بہ سر شوکت و نصرت بھی ہے اقبال بھی ہے
پشت پر مہر ِنبوت کی طرح ڈھال بھی ہے
مرزا جعفر حسین بتاتے ہیں کہ دولہا صاحب نے:
گھوڑے کی تعریف میں متذکرہ ٔبالا تینوں بند اس طرح پڑھ دیے تھے کہ ان کے ہاتھوں کی حرکت سے گھوڑے کی رفتار کا سماں بندھ گیا تھا اور آخری مصرع ’’پشت پر مہرِ نبوت کی طرح ڈھال بھی ہے‘‘ اس طرح پڑھا تھا کہ پوری تصویر کشی کر دی تھی ۔ منبر پر گردن سینے تک جھکا کر مرثیہ پشت پر الٹا رکھ لیا تھا۔ مرثیہ کے نیچے کا زیر بند او پر تھا جو بالکل ڈھال نظر آرہا تھا۔ زیر بند اس چمڑے کے چمکتے ہوئے ٹکڑے کو کہتے ہیں جس پر مرثیہ رکھ کر مرثیہ خواں پڑھا کرتے تھے ... زیر بند گہرے لال یا کالے رنگ کا ہوتا تھا۔ اُس روز کالے رنگ کا تھا۔ دولہا صاحب نے اُسی زیر بند کو کام میں لاکر ڈھال کی تصویر کھینچ دی تھی۔ ٣٩
سید نظیر حسین الٰہ آبادی مرحوم نے اپنے ایک بزرگ کے حوالے سے بیان کیا کہ دولہا صاحب نے ایک مصرعے میں ستارے کا مضمون ادا کرتے ہوئے ایک ہاتھ بلند کر کے اپنی انگلیاں کچھ اس طرح ہلائیں کہ دیکھنے والوں کو محسوس ہوا کہ ان کی انگلیوں میں ایک ستارہ پھنسا ہوا جھلملا رہا ہے۔ یہ دولہا صاحب کے غالباً اس مصرعے کا ذکر ہے۔ ’’وہ بلندی پہ ستارہ سا چمکتا ہے علم‘‘ ۔ ادیب مرحوم نے بھی دولہا صاحب کے کمالِ مرثیہ خوانی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے کلام کے نمونوں میں اس مصرعے کو رکھا ہے اور لکھا ہے کہ ’’اس طرح کے مقامات کو جب وہ پڑھ دیتے تھے تو اثر کا وہ عالم ہوتا تھا جو قلم کی زبان سے بیان نہیں کیا جا سکتا ۔ ٤٠
حامد علی خاں بیرسٹر بیان کرتے ہیں:
ایک روز کا ذکر ہے کہ جناب میر نفیس مرحوم ۲۵ رجب کی مجلس دل آرام کی بارہ دری ] واقع محلہ چوٹیاں، لکھنؤ [ میں پڑھ رہے ہیں۔ ہزار ہا آدمی جمع ہیں۔ میں بھی شریک ہوں ۔ تعریف کے نعرے بلند ہیں۔ ایک مقام آیا، میر نفیس نے مرثیہ کو نیچا کرلیا، اس طرح کہ گویا خود ہی نیچا ہو گیا۔ بیت پڑھی ، اور خوب کھینچ کر پڑھی۔ بیت نے جب خوب رنگ دیا۔ دوسرے بند کے شروع میں تلوار کھینچنے کا ذکر تھا۔ جناب نفیس داہنے ہاتھ کو بائیں طرف لے گئے ، اس طرح کہ گو یا ہاتھ بلا ارادہ اُدھر چلا گیا۔ پھر تلوار کھینچی اور اس خوبی سے کھینچی کہ دل پھڑک گئے ۔ اگر مرثیہ نیچانہ ہوتا تو یہ بانکپن اور صفائی ممکن نہ تھی ۔٤١
ادیب مرحوم کا بیان ہے:
راقم الحروف نے لڑکپن میں جب پہلے پہل میر علی عارف کو پڑھتے سناتو انہوں نے یزیدی فوج کی بھا گڑ کے بیان میں یہ بند پڑھا:
منہ سے بھا گو کی صدا سنتے ہی پیدل بھاگے
جو جواں فوج کے آگے تھے وہ اوّل بھاگے
گھوڑے بھی پھینک کے اسواروں کو کوتل بھاگے
فربہی سے جو نہ ہل سکتے تھے وہ یل بھاگے
بھاگنے کے لیے آپس میں شقی لڑتے تھے
دم جو پھولے تھے تو ہر بار گرے پڑتے تھے
اس کا یہ مصرع ’’فربہی سے جو نہ ہل سکتے تھے وہ یل بھا گے‘‘ کچھ اس طرح پڑھا کہ اُن کی آواز اور جسم کی ذراسی جنبش سے بڑے موٹے موٹے پہلوانوں کا پھسٹر پھسٹربھا گنا تصور کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔ ٤٢
ان مثالوں سے بتانے کی مختلف صورتیں ہمارے سامنے آتی ہیں اور یہ بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ بتانے سے کلام کی کیفیت کتنی بڑھ جاتی تھی۔ لیکن بتانے میں حد ِاعتدال سے بڑھنا معیوب اور اس حدِ اعتدال کا مقرر کرنا مشکل تھا۔ سید مہدی حسین لکھتے ہیں:
منبر پر اچھلنا اور بدن کو چاروں طرف پھرانا اور ہاتھ پٹکنا، زانو پیٹنا، کہ جس سے رقت آئی ہوئی رک جائے ، اہلِ عزا کو سکوت ہو جائے ، احتیاط کرے۔ ٤٣
ہاتھ کو موقع محل پر اٹھا وے تا کہ اس کا اشارہ و نظارہ و کنا یہ صیح و درست معلوم دے۔ بے مصرف ہاتھ اٹھانا موجبِ سرزنش ہے۔ ٤٤
مرزا دبیر زیادہ بتانے کو ”ارتھ“ کہتے اور برا سمجھتے تھے، اور زیادہ بتانے والے انیس کے میدان میں آنے سے پہلے بھی موجود تھے ، مثلاً مرزا غلام محمد جو بہ قول انیس ’’منبر پر خوب پٹے کے ہاتھ نکالا کرتے تھے۔ ...ان کے پڑھنے کے طرز کو دیکھ کر ہنسی آجاتی تھی۔‘‘ ٤٥ خود میر انیس کو بتانے میں شائستگی اور اعتدال کا مثالی نمونہ سمجھا جاتا تھا۔ آزاد کا یہ بیان دیا جا چکا ہے : ”میرا نیس مرحوم کو بھی میں نے پڑھتے ہوئے دیکھا۔ کہیں اتفا قاً ہی ہاتھ اٹھ جاتا تھا یا گردن کی ایک جنبش یا آنکھ کی گردش تھی کہ کام کر جاتی تھی ۔‘‘ ٤٦
انیس ہاتھوں کو زیادہ اٹھانا یا بدن کو حرکت دینا بہت ناپسند کرتے تھے۔ پیارے صاحب رشید کے نواسے اور شاگر دسید سجاد حسین شدید مرحوم نے مجھے بتایا٤٧ کہ ’’ایک موقعے پر میر انیس کی موجودگی میں ان کے بھائی میر اُنس مرثیہ پڑھ رہے تھے ۔ جنگ کے محل پر گھوڑے کے اُلٹ جانے کا ذکر آیا تو جوش بیان میں انس کے پیر ذرا سے اٹھ گئے ۔ اس پر انیس نے وہیں ان کو بہت ڈانٹا۔ اسی طرح ایک مجلس میں میر انیس کی اولاد میں سے کوئی مرثیہ خواں ان کی موجودگی میں پڑھ رہے تھے۔ جب یہ مصرع آیا:
وہ اٹھا پردہ ٔدر اور وہ حسینؑ آئے
تو مرثیہ خواں نے ہاتھ پھیلا کر کلے کی انگلی سے ’’وہ‘‘ کا اشارہ کیا لیکن اس بتانے میں ان کی گردن زیادہ خم کھا گئی اور سرشانے سے مل گیا۔ میرانیس، جو منبر کے پاس بیٹھے تھے، بگڑ کر بولے:
’’یہ کا ندھی دینا کہاں سے سیکھا ہے؟‘‘ ٤٨
مرثیہ خواں کا نچلے دھڑ کو جنبش دینا خصوصاً بہت برا سمجھا جاتا تھا۔ شدید لکھنوی مرحوم کا کہنا تھا کہ ان کے یہاں مرثیہ خوانی کی تعلیم دیتے وقت خاص طور پر ہدایت کی جاتی تھی کہ اپنے نچلے دھڑ کو مردہ سمجھو۔ مہذب لکھنوی مرحوم نے بھی مجھ سے فرمایا تھا کہ اُن کے یہاں (خاندانِ میر عشق میں ) تاکید تھی کہ کمر کے نیچے بدن ہلنے نہ پائے۔
شیخ حسن رضا میر انیس کے بتانے کی تعریف کے ساتھ بعد والوں کی بے اعتدالیوں کی شکایت بھی کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں:
جناب میر انیس قبلہ مرحوم میں علاؤہ کلام کی فصاحت کے اس کلام کے ادا کرنے کا انداز بھی ...ایسا تھا جس سے کلام نورٌ علیٰ نور کا مصداق ہو جاتا تھا۔ افراط و تفریط کا نام نہیں، نشست سے بالائے منبر قدرتِ خدا کے جلوے کی تصویر کھینچتے تھے۔ بناوٹ وتصنع کی ہوا تک نہ آنے پاتی تھی۔ تیور اور اشاراتِ مہذبانہ جیسے ان بزرگ سے ادا ہوئے آج تک کسی غیر سے تو کیا ، اُن کے خاندان میں کسی سے، حتیٰ کہ ان کی اولاد سے بھی وہ شان اور بات دیکھنے میں نہیں آئی۔ اور جنہوں نے افراط و تفریط کر کے ہاتھ پاؤں نکالے بھی ہیں، وہ عوام الناس میں ممدوح ہوں تو ہوں لیکن اہلِ تہذیب میں ’’رقص ِمنبری“ کے لقب سے البتہ یاد کیے جاتے ہیں۔ ٤٩
رقص منبری کی ایک چشم دید مثال ثابت لکھنوی نے یہ دی ہے:
ایک مجلسِ عزا میں ایک صاحب مرثیہ منبر پر پڑھ رہے تھے۔ وہ اچھے پڑھنے والے ذاکر تھے مگر حد سے زیادہ بتلاتے تھے۔ پہلوان کی لڑائی کا موقع تھا اتفاقا ًیہ مصرع آگیا:
آیا تھا بھکتا یہ دبکتا ہوا بھاگا
وہ ذاکر پہلے تو بھبکے، پھر منبر پر اس طرح دبکے کہ تمام جسم اپنا سمیٹ کر پیچھے کو ہٹے، گویا بالکل کتے بن گئے۔ تمام مجلس بے اختیار ہنس پڑی اور پھر وہ پڑھ رہے تھے، مجلس والوں کی ہنسی نہ رکتی تھی ۔ لوگ منہ پر رومال رکھ رکھ کر ہنستے تھے۔ یہاں تک کہ وہ حالِ شہادت پڑھے مگر رقت نہ ہوئی ۔ لوگوں کو وہی خیال ذہن نشیں رہا۔ ٥٠
پیارے صاحب رشید یہ بتانے کے بعد کہ ’’انیس کا پڑھنا بہت مہذب تھا‘‘ یہ بھی کہتے تھے کہ’’ آج کل تو کے پڑھنے والے تو منبر کی چولیں ہلا دیتے ہیں۔‘‘٥١ خود رشید سیدھا سادھا پڑھتے تھے۔ ان کے شاگرد شدید مرحوم کوتاکید تھی کہ منبر پر ’’نرت‘‘ نہ ہونے پائے۔
ان سب بیانوں سے معلوم ہوتا ہے کہ میر انیس کے بعد مرثیہ خوانی میں بتانے کا چلن زیادہ ہو گیا تھا اور بعض مرثیہ خواں اس میں بے اعتدالیاں کرنے لگے تھے۔ اس کی ذمے داری بھی کسی حد تک خاندان انیس ہی پر تھی۔ انیس کے بیٹے میر انیس مرثیہ خوانی کے زبر دست ماہر تھے لیکن وہ انیس سے کچھ زیادہ بتاتے تھے۔ حامد علی خاں کے بیان میں ہم نے دیکھا کہ تلوار کھینچنے کے اظہار میں میر نفیس نے ہاتھ کو بائیں جانب لے جا کر داہنی جانب کھینچا تھا۔ میر انیس ہاتھ کو زیادہ حرکت نہیں دیتے تھے ۔نفیس کے بیٹے عروج، نفیس سے بھی زیادہ بتاتے تھے۔ ’’پشت پر مُہر نبوت کی طرح ڈھال بھی ہے‘‘ پڑھتے وقت انہوں نے گردن سینے تک جھکالی تھی اور مرثیہ اور زیر بند سمیت ہاتھ پشت پر لے گئے تھے۔ یہ بتانا اتنی خوب صورتی کے ساتھ تھا کہ اہلِ مجلس پھڑک گئے، لیکن اگر میر انیس زندہ اور اس مجلس میں موجود ہوتے تو اس طرح بتانے پر اپنے پیارے پوتے کو ڈانٹ ضرور بتاتے ۔ خود انیس نے پھریرے کا لہرانا دکھانے کے لیے مرثیہ کو ’’ذرا سا پلٹ دیا تھا۔‘‘ یہاں بھی وہ مرثیے کو ذرا سا پلٹ کر پشت پر ڈھال دکھا سکتے تھے۔
میر نفیس کے ایک شاگرد میر وزارت حسین کے ذکر میں یہ بیان ملتا ہے:
ایک بار قصبہ جانسٹھ کی ایک مجلس میں دولہا صاحب عروج منبر پر پہنچ چکے تھے کہ میر وزارت حسین نے کھڑے ہو کر دولہا صاحب سے کہا کہ استاد زادے، آج تو میری خواہش ہے کہ میں تمہاری پیش خوانی کروں۔ یہ کہہ کر بہ اصرار دولہا صاحب کو اتارلیا اور خود منبر پر جا کر اس مشہور مرثیے کا کچھ حصہ پڑھا جس میں تلوار کی تعریف میں ایک مصرع یہ آتا ہے:
گھوڑے کا پاؤں کاٹ گئی، سر سوار کا
اُن کی خوانندگی کے بعد دولہا صاحب عروج منبر پر گئے اور اپنا کمالِ فن دکھایا۔ جولوگ اُس وقت موجود تھے اُن کا بیان ہے کہ ’’ایک ہی مجلس میں ہمیں میر نفیس اور دولہا صاحب دونوں کے اندازِ خوانندگی کا کمال علاحدہ علاحدہ نظر آ گیا تھا۔ ٥٢
اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ دولہا صاحب کا اندازِ خوانندگی میر نفیس سے مختلف تھا۔ یہ اختلاف خاص طور پر اس لیے تھا کہ دولہا صاحب میر نفیس سے زیادہ بتاتے تھے۔ اس سلسلے میں اُن کے سوانح نگار کا یہ بیان قابلِ غور ہے:
جناب [ دولہا صاحب [ ایک مجلس پڑھنے کلکتے تشریف لے گئے ۔ مجلس پڑھ رہے تھے۔ ایک عجم صاحب اس مجلس میں رونق افروز تھے۔ وہ ناراض ہو گئے اور اٹھ کر چلے گئے ۔ اس زمانے میں نواب ڈبن صاحب سوزخواں بھی وہیں تھے۔ میاں عجم صاحب نے ڈبن صاحب سے دولہا صاحب کی مذمت کی اور کہا کہ یہ کون شخص ہے کہ منبر پر ہاتھ پاؤں اچھالتا ہے؟ یہ بہت برا شخص ہے۔ اور بہت کچھ کہا۔ ٥٣
میر علی محمد عارف میر نفیس کے نواسے، یعنی رشتے میں دولہا صاحب عروج کے بھانجے تھے مگر عمر میں عروج سے بڑے تھے۔ وہ بتانے کے فن کے زبر دست ماہر تھے اور انہوں نے اس فن میں کچھ ایسی اختراعیں کی تھیں جو ان کے اور عروج کے کمالِ خوانندگی کی بدولت تیزی کے ساتھ مقبول ہوگئیں۔ مرزا جعفر حسین عارف کے بارے میں لکھتے ہیں:
انہوں نے ایک مخصوص طرز اختیار کر لی تھی جس کو ’’بتانا‘‘ کہتے تھے۔ اس طرز میں اعضا و جوارح کو کسی نہ کسی موقعے پرپر سرکا رلانا پڑتا تھا۔ کبھی کبھی سارے جسم کو کسی نہ کسی مخصوص طریقے پر حرکت دینا پڑتی تھی۔ ٥٤
بتانے کا رواج عارف کے پہلے سے تھا، البتہ انہوں نے اس میں کچھ نئے طریقے اختیار کیے تھے۔ ان طریقوں کا اندازہ مرزا جعفر حسین ہی کے ایک بیان سے کیا جاسکتا ہے۔ عارف کی خوانندگی کا شاہکار حضرت قاسم کے حال میں ان کی یہ بیت تھی:
کچھ مسکرائے زیورِ جنگی سنوار کے
ڈالا گلے میں پرتلا ہیکل اتار کے
مرزا جعفر حسین بتاتے ہیں:
اس بیت کو عارف نے اس طرح پڑھا تھا کہ دیکھنے اور سننے والوں کی نظروں کے سامنے ایک مسکراتے ہوئے بچے کے ننھے ننھے ہاتھوں سے ہیکل اتارنے کی تصویر صاف صاف نمودار ہوگئی تھی۔ یہ نقشہ انہوں نے اپنے ہاتھوں کی حرکت اور آنکھوں کے چڑھاؤ اتار سے پیش کیا تھا۔ لیکن قیامت کا وہ سماں تھا جب انہوں نے انہیں ہاتھوں سے گلے میں پر تلا ڈالا تھا۔ ٥٥
یعنی عارف نے صورتِ واقعہ کے مطابق پہلے ہیکل اتارنا ، پھر گلے میں پر تلا ڈالنا بتایا تھا، در حالے کہ مصرعے میں ضرورتِ شعری کے تحت تعقید روا رکھ کر پہلے پر تلا ڈالنے، پھر ہیکل اتارنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں عارف کا بتانا الفاظ کے ساتھ ساتھ نہیں تھا۔ ظاہر ہے یہ مناسب بھی نہ ہوتا کہ وہ پر تلے کا ذکر کرتے وقت ہیکل اتارنے اور ہیکل کا ذکر کرتے وقت پر تلا ڈالنے کا اشارہ کرتے۔ اس مصرعے کا صحیح صحیح بتانا اسی وقت ممکن تھا جب وہ پہلے مصرع پڑھتے ، اس کے بعد اشارات سے اس کو بتاتے ۔ یہ ایک نئی ایجاد تھی کہ اشارے لفظوں کے ساتھ نہ چلیں بلکہ بعد میں ہوں ۔ عارف نے اور ان سے بڑھ کر عروج نے اس طرز میں کمال کے جوہر دکھائے۔ ذکر آچکا ہے کہ عروج نے ’’ کی نموداروں پہ چن چن کے نظر غازی نے‘‘ پڑھنے کے بعد اہلِ مجلس کی طرف باری باری دیکھا تھا۔ یہ پڑھنے کے بعد بتانے کی مثال ہے۔ اس طرز میں مقبولِ عام ہونے کی بڑی گنجائش تھی ، اور بتانے کے اسی انداز کی وجہ سے بعض لوگوں کا خیال تھا کہ عروج انیس سے بہتر پڑھتے ہیں۔
دولہا صاحب عروج کے معاصرین اور بعد کے پڑھنے والے ان کے طرز سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ سجاد حسین شدید مرحوم بتاتے تھے کہ کچھ عرصے تک وہ اپنے نانا، پیارے صاحب رشید کے انداز میں خوانندگی کرتے رہے، لیکن عروج کا رنگ اتنا چھا چکا تھا کہ دوسرے رنگ اس کے مقابلے میں پھیکے معلوم ہوتے تھے ۔ لہٰذا انہوں نے کچھ انداز عروج کا بھی اختیار کیا۔
شدید مرحوم کا شمار ہمارے دور کے سب سے اچھے پڑھنے والوں میں ہوتا تھا۔ لیکن مرثیہ خوانی کاوہ فن جو سحر کا اثر پیدا کرتا تھا یکم مئی ۱۹۳۰ ء کوختم ہو گیا جب دولہا صاحب عروج نے مرنے سے تیرہ دن پہلے درگاہِ حضرت عباس لکھنؤ میں اپنی آخری مجلس پڑھی تھی ۔ ٥٦
__________________
حواشی:
١ ۔ بیانِ تحریری سید سجاد حسین شدید لکھنوی، مشمولۂ میر عشق اور ان کے خاندان کی مرثیہ گوئی، مقالہ برائے ڈی فل، از ڈاکٹر جعفر رضا ۔ ( قلمی نقل ، کتاب خانۂ ادیب لکھنؤ ۔)
٢۔ مرزا محمد جعفر اوج لكهنوى: حیات اور ادبی کارنامے ، ڈاکٹر سید سکندرآغا، ناشر مصنف لکھنؤ ، ۱۹۸۵ ء،ص ۸۹۔
٣۔ ’’دولہا صاحب عروج: ایک شاگرد کی یادیں‘‘، مشمولۂ دولها صاحب عروج۔
٤۔ مکتوب میر مہر علی انس بہ نام حکیم سید علی ۔ (نقل ذخیرہ ٔادیب لکھنؤ ۔)
٥۔ مضمون ” میر انس کے پڑھنے کی ایک مجلس، چشم دید بیان‘‘، از شیخ ممتاز حسین جونپوری ، اخبار سرفراز ،لکھنؤ ، ١١/نومبر١٩٤٢ء۔
٦۔ مضمون ”عروج کے پڑھنے کی تین مجلسیس‘‘، از مرزا جعفر حسین ، مشمولۂ ادبیات و شخصیات، نظامی پریس، لکھنؤ،١٩٧٨ء۔
٧۔میرانیس کے کچھ چشم دید حالات“۔
٨۔ جدید جلد پنجم مرثیہ ہائے میر انیس صاحب ، مطبع شاہی، لکھنؤ ، اکتوبر ۱۹۰۹ء ، ص ۶۷ ۔
٩۔ ’’ میرانیس کی خوش آوازی ، خوش بیانی اور مرثیہ خوانی“۔
١٠۔ حضرت رشید، ص ۱۰۹۔
١١۔ مضمون ’’طرزِ کلام ِدبیر کا مقابلہ کلامِ ملٹن شاعر سے ‘‘ ، از حامد علی خاں مشمولۂ حیات دبیر ( ۱) ۔
١٢۔ دولها صاحب عروج ،ص ۳۹ ۔ پرانے لکھنؤ میں ایسے لوگ موجود تھے جو مختلف جانوروں اور پرندوں کی بولیوں کی نقل کرتے اور لوگ ان کو انعام دیتے تھے۔ میرے بچپن کے زمانے تک لکھنو ٔمیں اس فن کا ایک ماہر زندہ تھا۔ ( نیر مسعود )
١٣۔ قاعدہ ٔتحتِ لفظ خوانی، ص ۳ ۔
١٤۔ کلیجن (نیز کلنجن ، خولجان ) :پان کی جڑ جو گلے کے لیے مفید ہوتی ہے۔
١٥۔قاعدہ ٔتحت ِلفظ خوانی۔
١٦۔ مضمون ’’طرز کلامِ دبیر کا مقابلہ کلامِ ملٹن شاعر سے ‘‘ ، از حامد علی خاں ،مشمولہ ٔحیات دبیر ( ۱) ۔
١٧۔ قاعدہ ٔتحتِ لفظ خوانی۔
١٨۔ واقعاتِ انیس ،ص ۸۷- ۸۸۔
١٩۔ ’’دولہا صاحب: ایک شاگرد کی یادیں“۔
٢٠۔ قاعدہ ٔتحت لفظ خوانی، ص ۵ ۔
٢١۔ دولها صاحب عروج ،ص ۳۹ -
٢٢۔ دولها صاحب عروج ،مقدمہ ، ص ۱۲ ۔
٢٣۔ شاگردان انیس، ڈاکٹر سید قمقام حسین جعفری ، مکتبہ ٔجعفریہ، کراچی، ۱۹۷۹ ء ص ۲۴۷ ۔
٢٤۔ قاعدہ ٔتحتِ لفظ خوانی، ص ٧ ۔
٢٥۔ قاعدہ ٔتحتِ لفظ خوانی، ص ٧ ۔
٢٦۔ ” جب آمدِ سردار ِدو عالمؑ ہوئی رن میں‘‘ (مراثی میر انیس مرحوم ، جلد ۴ ، مطبع تیج کمار، لکھنؤ ، ۱۹۵۸ ء، ص ۱۲۳ ۔
٢٧۔ روح ِانيس ، مرتبہ سید مسعود حسن رضوی ادیب، مطبع سوم، کتاب نگر، لکھنؤ ۱۹۶۴ ء، ص١٦٧ببعد ۔
٢٨۔ مجموعۂ مرثيہ ٔمير مونس مرحوم ( جلد سوم) ،مطبع نول کشور، لکھنؤ ، ۱۹۱۶ ء ،ص ۳۱۲۔
٢٩۔ برہانِ غم ( مراثی میر عشق، جلد دوم ) مطبع نول کشور لکھنؤ ، ۱۹۱۵ ، ص ۱۳۷ ۔
٣٠۔ روحِ انیس، ص ۷۵۔
٣١۔ادیب مرحوم نے کئی ایسے بزرگوں (میر سید علی مانوس ، میر عبدالعلی، میر معصوم علی سوز خواں ، میر نواب علی شال فروش، میر خادم حسین فرخ شاہ وغیرہ) سے جو انیس کی مجلسوں میں شرکت کر چکے تھے، انیس کے حالات دریافت کیے تھے۔ انہیں میں سے کسی بزرگ نے ان کو یہ واقعہ سنایا تھا۔ (نیر مسعود )
٣٢۔حالِ فارغ، حکیم سید نہال حسین سیتا پوری ، مرقع عالم پریس، ہر دوئی، ص ۵ ۔
٣٣ ۔مضمون ” میرانیس کا نو دریافت کلام‘‘ ، از سید علی احمد دانش نبیره ٔعارف ( مشمولۂ عکس زار، ناشر مصنف، لکھنؤ ، ۱۹۸۷ ء،ص ۳۳)۔
٣٤۔ ” میرانیس کی خوش آوازی، خوش بیانی اور مرثیہ خوانی“۔
٣٥۔ مسموع از مولوی ڈاکٹر سید بدر الحسن عابدی، بنارس۔
٣٦۔ فکرِ بلیغ ، ص ۲۷۵۔
٣٧۔ تفصیل کے لیے دیکھیے مضمون مراثی میر انہیں پر اودھی بھاشا کے اثرات، از شہاب سرمدی مشمولہ انیس شناسی لکھنو، جنوری فروری ۱۹۷۸ ء)۔ مرتبہ گوپی چند نارنگ، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، ۱۹۸۱ ء؛ اور مضمون ” نیس: ابتدائی دور ، از نیر مسعود ( دوماہی اکادمی ،لکھنؤ، جنوری فروری ١٩٧٨ء)
٣٨۔ مضمون ’’نفاست‘‘، از چودھری محمدعلی ردولوی ( مشمولۂ کشکول محمدعلی شاه فقیر، صدیق بک ڈپو، لکھنؤ، ۱۹۵۷ ء)۔ یہ حکایت، بہ قول مصنف، ایک مرزا صاحب کی زبان سے ہے جنہوں نے’’ ۱۰۹ برس کے سن میں ابھی تھوڑے دن ہوئے انتقال کیا۔‘‘
٣٩۔ ’’عروج کی تین مجلسیں‘‘۔
٤٠ ۔مقدمہ عروجِ سخن۔
٤١۔ ’’طرزِ کلام دبیر کا مقابلہ کلامِ ملٹن شاعر سے“۔
٤٢۔ ’’ میر انیس کی خوش آوازی ، خوش بیانی اور مرثیہ خوانی“۔
٤٣۔ قاعدہ ٔتحت لفظ خوانی، ص ۵۔
٤٤۔ قاعده ٔتحت لفظ خوانی ،ص ۵۔
٤٥۔ فكرِ بليغ ، ص ۲۲۷۔
٤٦۔ آب ِحیات ،ص ۳۷۰۔
٤٧۔ میں نے شدید مرحوم سے ۱۹۷۵ ء میں فنِ مرثیہ خوانی کے متعلق کچھ باتیں دریافت کی تھیں۔ ( نیر مسعود)
٤٨۔ ما روایت سید اولاد حسین شاعر، بہ حوالۂ مضمون ’’میر ببر علی مرحوم و مغفور‘‘، از زبدة العلما سید آغا مہدی لکھنوی ( مشمولۂ انیس،
یادگاری مجلۂ دبستانِ انیس ، راولپنڈی، ۱۹۷۴ ء۔)
٤٩۔ تردید ِموازنہ، شیخ حسن رضا، مطبع تصویر عالم، لکھنؤ ، ص ۳۹ ۔
٥٠۔ حیاتِ دبیر ( ۱) ، ص ۴۳۲ ، حاشیہ ۔
٥١۔ حضرت رشید، ص ۱۰۹۔
٥٢۔ رزم نگارانِ کربلا، ڈاکٹر سید صفدر حسین ، سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور ، ۱۹۷۷ ء ،ص ۳- ۴۰۲ ۔
٥٣۔ دولها صاحب عروج ،ص ۹۸۔
٥٤۔ قديم لکھنؤ کی آخری بہار، مرزا جعفر حسین، ترقی اردو بیورو، نئی دہلی ، ۱۹۸۱ ء، ص ۳۰۹ ۔
٥٥ ۔قدیم لکھنؤ کی آخری بہار ، ص ۳۰۹۔
٥٦۔ ’’ سوانح عمری عروج‘‘ کے مطابق شدید بیماری کے عالم میں یہ مجلس پڑھنے کے دوسرے دن سے دولہا صاحب کی حالت بگڑ گئی اور پھر وہ ہوشیار نہ ہو سکے۔ ۴ امئی ۱۹۳۰ ء کو ان کی وفات ہوگئی ۔