مرزا دبیر کی مرثیہ خوانی
میر ضمیر کے شاگرد مرزا دبیر اور میر خلیق کے جانشین میرا نیس تھے۔ مرثیے کے میدان میں مرزا دبیر نے میرانیس سے پہلے شہرت حاصل کر لی تھی اور میر ضمیر کی زندگی ہی میں ان کی مقبولیت استاد سے زیادہ ہوگئی تھی۔ دبیر نے مرثیہ خوانی کے فن میں اپنے استاد کا تتبع نہیں کیا۔ ضمیر نے مرثیہ خوانی کو ایک مظاہراتی فن کی طرح برتنا شروع کیا تھا لیکن دبیر نے اپنی مرثیہ خوانی کو بڑی حد تک سیدھا سادھا رکھا۔ ثابت لکھنوی ان کی خوانندگی کے بارے میں لکھتے ہیں:
جوشِ معرفت میں سینے کے زور سے پڑھتے تھے ... آواز بھاری اور پاٹ دار تھی۔ فطری طور پر کہیں خود بہ خود ہاتھ اٹھ جاتا تھا ورنہ منبر پر بیٹھ کر بتلانے کو وہ عیب یا گناہ جانتے تھے۔ آنکھ اور ابرو کا اشارہ بھی اسی قدر ہوتا تھا جتنا باتوں میں ہوتا تھا۔ کبھی کبھی فرمایا کرتے تھے کہ ارتھ موسیقی میں داخل ہیں ،مگر سوزخوانی میں بتانے کو معیوب قرار دیا گیا ہے، پس مرثیہ خوانی سے بتانے کو کیا علاقہ ہے؟١
ایک اور جگہ ثابت نے مرزاد بیر کا یہ قول نقل کیا ہے:
باتوں کے کرنے میں جتنے ہاتھ آنکھ وغیرہ سے آدمی اشارے کرتا جاتا ہے اس سے زیادہ منبر پر ہاتھ نہ اٹھانا نہ بتانا چاہیے۔ ٢
شاد عظیم آبادی، جنہوں نے مرزاد بیر کو بار ہا پڑھتے سنا تھا، بتاتے ہیں کہ ’’ان کے مجلس پڑھنے کا طریقہ بھی جدا گانہ تھا ۔‘‘ ۳ شاد نے مرزا دبیر کے طرز ِمرثیہ خوانی کا ذکر قدرے تفصیل کیا ہے جسے ذیل میں درج کیا جا رہا ہے:
اپنے پڑھنے کے مجالس میں وہ زیرِ منبر مع اتباع وغیرہ کے بیٹھتے تھے۔ ان کے پہلے ان کے اعزہ میں سے جس کو وہ حکم دیں، ان کا خواہ اپنا کلام شروع کرتا تھا۔ آپ زیر ِمنبر جھوما کرتے تھے۔ وہ جب کوئی عمدہ مضمون کا شعر پڑھتا تھا تو آپ چہرے سے رومال الگ کر کے اہلِ مجلس کی طرف ملاحظہ کرنے لگتے تھے ... ایک پیش خواں کے علاوہ دو تین پیش خوانوں تک کی عظیم آباد میں نوبت آجاتی تھی... مجلس کا وقت دس بجے دن کا تھا مگر مرزا صاحب کو بارہ ایک بجے تک نوبت آتی تھی... منبر کے دوتین زینے کے بعد چوتھے زینے پر ایک سوزنی بچھتی تھی، آپ اُس پر بیٹھتے ۔ دو چار منٹ ٹھہر کر چار طرف مجلس کو دیکھتے۔ اکثر نے صاحب سلامت اور مختصر مزاج پرسی ہوکر کلام کے اجزاز یر منبر سے کوئی صاحب ہم راہیوں میں سے بڑھاتے تھے۔ آپ ملاحظہ فرما کر کبھی اسی میں سے، کبھی دوسرے جز کو طلب کر کے اور ملاحظہ کر کے زانو پر رکھ لیتے تھے۔ پھر بہ تانی تمام ہاتھ اٹھا کر بہ آواز بلند ’’فاتحہ“ کہتے اور خشوع وخضوع کے ساتھ سورۂ الحمد تمام کر کے بھی کچھ پڑھتے ، پھر جز اٹھا کر کسی کلام کو ورق گردانی کر کے منتخب فرماتے تھے۔ سامعین اشتیاق کے مارے تڑپے جاتے تھے۔
غرض سر اٹھا کر اور نہایت ڈپٹ کر آغاز کرتے تھے۔ مرثیے کے پہلے رباعیاں، سلام اور بیشتر تضمین یا ہفت بند ملا کاشی کے چند بند کے مصرعے نہایت بلند آواز سےپڑھتے تھے... مصرع نصف ایک جانب اور نصف دوسری جانب نظر کر کے پڑھتے تھے۔ پڑھتے وقت قریب سے دیکھنے والوں کو اُن کے جوش کی حالت پوری محسوس ہوتی تھی۔ بال ڈاڑھی کے نمایاں نہ تھے مگر جوش میں نمایاں ہو جاتے تھے۔ نصف مصرعے کوڈپٹ کر اور نصف کو بہت آہستہ ادا کرنا کچھ انہیں پر ختم تھا ... پڑھنے میں صرف ڈپٹ بڑی تھی ، ہاتھ سے یا چہرے سے بتانا مطلق نہ تھا۔ حزن یا بین کی جگہ آواز کو نرم بنا کر سامعین پر اثر ڈالنا بھی چنداں نہ تھا، مگر اثر ہو ہی جاتا تھا۔ ٤
ان بیانوں سے (جن کے بعض اجزا پر آگے چل کر بھی گفتگو ہوگی ) معلوم ہوتا ہے کہ مرزا دبیر مرثیہ خوانی میں آواز کے مدوجزر سے تو کام لیتے تھے لیکن ان کے یہاں لہجے کی تبدیلی یا اتار چڑھاؤ کم ہوتا تھا۔ وہ ہاتھ یا چشم و ابرو کے اشاروں سے مضمون کی تصویر کھینچنے کے بجائے ان اشاروں کو عام گفتگو کی حد کے اندر رکھتے تھے۔
لیکن موقعے کی مناسبت سے مرزا دبیر اپنے لہجے میں تبدیلی لا کر بڑا اثر پیدا کر دیتے تھے۔ ان کی ایک خوانندگی کا یہ بیان دیکھیے :
مرزا صاحب اس موقعے پر پہنچے کہ حضرت زینب اپنے بچوں پر خفا ہورہی ہیں کہ تم نے شمر سے بات کیوں کی۔ اس موقعے پر ایک مصرع مرزا صاحب تین طرح سے پڑھے:
کیوں تم نے میرے بھائی کے قاتل سے بات کی
ہر مرتبہ مصرعے کے ایک نئے معنی سامعین کے ذہن میں آئے۔
(۱) گھر کی کے لہجے میں :
کیوں تم نے میرے بھائی کے قاتل سے بات کی؟
(۲) استفہامیہ طور پر :
کیوں؟ تم نے میرے بھائی کے قاتل سے بات کی؟
(۳) تاسف وحسرت کے لہجے میں :
کیوں تم نے میرے بھائی کے قاتل سے بات کی!
اس قدر اس مصرعے پر رقت ہوئی کہ مرثیہ آگے نہ پڑھ سکے۔ ٥
مرزاد بیر بین بہت کامیاب پڑھتے تھے۔ اُن کی زندگی ہی میں ان کے حالات پر لکھی جانے والی کتاب شمس الضحیٰ کے مصنف کا بیان ہے :
در عینِ مرثیہ خواندن آں چناں رفت بر خاطر ِدر یا مقاطرش طاریِ وجوے اشک از عینِ حق بینش جاری می شود کہ دستمال از لالیِ اشکِ بے مثال مالا مال می گردو نوبت بہ تبدیلِ دستمالِ دیگر می رسد و آں ہم از چشمہ فیض مستمال شده بہ درِّ گراں بہازبینت می یابد ... وحق ایں است کہ رقت و گریہ آں زبدهٔ اماثل موجب کثرت بکاے اہلِ محفل وسببِ فرطِ بے قراری و وفورِ اشک باریِ مومنینِ کامل و فیض یابانِ مجلسِ جنت مشاکل می گردد ۔ ٦ (مفہوم : مرثیہ پڑھنے میں ان پر اتنی رقت طاری ہوتی ہے اور آنکھوں سے اتنے آنسو جاری ہوتے ہیں کہ رومال آنسوؤں سے بھیگ جاتا ہے اور دوسرا رومال بدلنے کی نوبت آجاتی ہے اور وہ بھی تر ہو جاتا ہے۔ اور حق یہ ہے کہ ان کی رقت اہلِ محفل کی رقت و بے قراری اور اشک باری کا سبب بنتی ہے۔)
مولوی باقرحسین جون پوری، جنہوں نے بنارس میں میرانیس اور مرزا دبیر دونوں کو سنا تھا، مرزا دبیر کی مرثیہ خوانی کے سلسلے میں بتاتے ہیں:
خدا مغفرت کرے بڑے با کی تھے۔ پورے ایک درجن رو مال دھوئے ہوئے منبر پر رکھے گئے ، سب آنسوؤں سے تیر کر دیے ... یہاں بھی رقت خوب ہوئی۔ ٧
ان سب بیانوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مرزا دبیر کا طرزِ خوانندگی بہت موثر تھا، لیکن تاثر پیدا کرنے کے لیے وہ کوشش کر کے مرثیہ خوانی کے خارجی فنی وسائل سے زیادہ کام نہیں لیتے تھے بلکہ خودان کے متاثر ہونے سے سننے والے بھی متاثر ہوتے تھے۔
مرزاد بیر کی مرثیہ خوانی کے بارے میں شاد کا جو بیان ہم نے نقل کیا ہے اس کی تمہید میں شاد نےلکھا ہے:
مجالس میں مرزا صاحب کے پڑھنے کا انداز میر ضمیر مرحوم کے داماد میر صفدر علی سے بہت ملتا جلتا ہوا تھا، اس لیے مجھ کو یقین ہے کہ مرزا صاحب کو بھی تتبع اپنے استاد کا ہو تو عجب نہیں ہے۔٨
لیکن ہم دیکھ چکے ہیں کہ ضمیر نے اس فن میں اشاروں اور ہاتھ سے بتانے کو رواج دیا تھا جس سے مرزا دبیر اجتناب کرتے تھے۔
مرثیہ گوئی میں دبیر کے مد مقابل میر انیس تھے۔ دونوں باکمالوں کے حامی اپنے ممدوح کو دوسرے پر فوقیت دیتے تھے۔ لیکن جہاں تک مرثیے کی خوانندگی کا تعلق تھا میرا نیس کا مد مقابل کسی کو نہیں سمجھا جاتا تھا۔
حواشی:
١۔ حیاتِ دبیر (۱) ص ۵۵- ۵۶۔
٢۔ سبع مثانی (انتخاب ِمراثیِ مرزا دبیر ) ، مرتبہ سید سرفراز حسین رضوی خبیر لکھنوی، نظامی پریس، لکھنؤ ، ۱۳۴۹ھ ۔ مقدمہ از افضل حسین ثابت، ص ۲۵ ۔
۳ ۔ فکر ِبلیغ ، سید علی محمد شاد عظیم آبادی، نقل مسودهٔ مصنف از مسعود حسن رضوی ادیب، کتاب خانۂ ادیب، لکھنؤ، ص ۱۴۰۔
٤۔فكر ِبليغ ، ص ۴۸- ۱۴۷۔
٥۔ حیات دبیر (۱) ،ص ۵۹۔
٦۔ شمس الضحىٰ، ابومحمد معروف بہ صفدر حسین، مطبع اثنا عشری ،لکھنؤ ، ص ۱۷- ۱۱٦۔
٧۔ مضمون ” میرانیس اور مرزاد بیر کا بنارس میں پہلی مرتبہ درود‘‘ ، از مولوی با قرحسین جون پوری۔ (اخبارِ طریقت، جون پور، یکم اکتوبر ۱۹۳۴ء۔)
٨۔ فکرِ بلیغ ، ص ۴۸- ۱۴۷۔