ہم تجھے حاصل معمورۂ جاں جانتے ہیں
ہم تجھے حاصل معمورۂ جاں جانتے ہیں لیکن اس رمز کو سب لوگ کہاں جانتے ہیں خار ہر چند ہوئے زینت اورنگِ بہار اہلِ گلشن اسے گلشن کا زیاں جانتے ہیں سایہ تاک میں گو عمر کزاری ہم نے پتے پتے کی مگر ہم بھی زباں جانتے ہیں ہم ہی انجامِ تماشائے جہاں سمجھے ہیں اس لیے شعلہ ہستی کو دھواں جانتے ہیں ہم بھی کچھ کھڑکیوں سے خواب چرا سکتے تھے ہم بھی اس شہر میں کچھ چیدہ مکاں جانتے ہیں ہر قدم منظرِ رفتہ میں تجھے دیکھا ہے ہم نہ ملنے کو بھی ملنے کا سماں جانتے ہیں جس میں مقصودِ یقیں صرف تخیل ہی رہے ہم تو اس طرح کے ایماں کو گماں جانتے ہیں ہم بھی لوٹ آئے ہیں احباب کو رخصت کر کے گو انہیں اب بھی قریبِ رگِ جاں جانتے ہیں