ڈاکٹر فخر عباس

ڈاکٹر فخر عباس

کرونائی غزل

    گھر کے اندر ہی جی رہا ہوں میں

    چائے پر چائے پی رہا ہوں میں

    کان کھولے ہوئے ہیں سننے کو

    منہ کی موری کو سی رہا ہوں میں

    لگ رہا ہے یہی عبادت سے

    اک جنم میں ولی رہا ہوں میں

    یہ کرونا کی ساری برکت ہے

    اتنا اچھا کبھی رہا ہوں میں؟

    ماسک جس نے مجھے نہیں بھیجا

    اس کے لب کی ہنسی رہا ہوں میں

    مفت میں دیں مرے مریض دعا

    ان سے لیتا بھی ’فی‘ رہا ہوں میں

    ہاتھ میں نے بہت ہی دھوئے ہیں

    اور دھو بھی ابھی رہا ہوں میں